کوریا جزیرہ نما میں ممکنہ جنگ کا سیناریو رقم کر دیا گیا

سن 2019 کے ماہِ مارچ میں سرحدوں کے قریب  ہونے والی مستقل نقل و حرکت سے تنگ آئے ہوئے شمالی کورین  غلطی سے ایک امریکی سول طیارے کو بمبار طیارہ خیال کر کے نشانہ بناتے ہیں، جیفری لیوس نے جنگ کا سیناریو لکھ دیا

کوریا جزیرہ نما میں ممکنہ جنگ کا سیناریو رقم کر دیا گیا

جیمز مارٹن سینٹر کے تحقیقاتی مرکز مشرقی ایشیاء پروگرام کے ڈائریکٹر  جیفری لیوس نے کوریا جزیرہ نما میں ممکنہ جھڑپ کے آغاز کا سیناریو رقم کر دیا ہے۔

لیوس کے، روزنامہ واشنگٹن پوسٹ میں شائع شدہ، کالم میں واقعات کے ظہور کو اس شکل میں بیان کیا گیا ہے کہ سن 2019 کے ماہِ مارچ میں سرحدوں کے قریب  ہونے والی مستقل نقل و حرکت سے تنگ آئے ہوئے شمالی کورین  غلطی سے ایک امریکی سول طیارے کو بمبار طیارہ خیال کر کے نشانہ بناتے ہیں۔

اس کے جواب میں جنوبی کوریا کے صدر مون جائے اِن سرحدی علاقے کے اہداف پر حملے کا حکم دیتے ہیں۔ اسی وقت امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ٹویٹر پیج سے جاری کردہ بیان میں کہتے ہیں  کہ "چھوٹا میزائل مین لمبے عرصے تک برداشت نہیں کر سکے گا"۔

شمالی کوریا  اس بیان کو ایک دھمکی اور مدافعتی جوہری حملے  کے لئے ایک اشارہ خیال کرتا ہے۔

شمالی کوریا کے پاس موجود 48 میزائلوں میں سے 36 فائر کر دئیے جاتے ہیں۔ ان میزائل کا ایک حصہ ہدف پر نہ بھی پہنچ سکے تو بھی میزائلوں کی اکثریت جاپان اور جنوبی کوریا میں اپنے اہداف کو شدید نقصان پہنچاتی ہے۔

دوسری طرف امریکہ شمالی کوریا پر شدید حملہ کرتا ہے۔ کم یانگ اُن بھی اپنے پاس موجود باقی میزائلوں کو فائر کرنے کا حکم دیتے ہیں۔

سان ڈیاگو اور پرل ہاربر فوجی بیسیں اور نیویارک اور واشنگٹن  حملے کا نشانہ بنتے ہیں۔

شمالی کوریا سے فائر کئے گئے دو تہائی میزائل امریکہ کے میزائل ڈھال ائیر ڈیفنس سسٹم سے گزرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

مین ہٹن کو نشانہ بنانے والے حملے میں ایک ملین سے زائد افراد ہلاک ہو جاتے ہیں اور واشنگٹن میں ہلاکتوں کی تعداد 3 لاکھ افراد تک پہنچ جاتی ہے۔

ٹرمپ فلوریڈا کی پناہ گاہ میں چھپ کر جان بچاتے ہیں۔ کم یانگ اُن کی لاش بھی پناہ گاہ میں ملتی ہے اور شمالی کوریا کے لیڈر کے خود کشی کرنے کی تصدیق ہوتی ہے۔



متعللقہ خبریں