ایران پر پابندیوں میں رعایت کے عمل میں آخری بار توسیع

ایران  خطے میں عدم استحکام  اور انتشار  پھیلانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس کا سد باب کرنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے جانے کی ضرورت ہے، امریکہ

ایران پر پابندیوں میں رعایت کے عمل میں آخری بار توسیع

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے ایران  پر جوہری معاہدے کے دائرہ کار میں  فراہم کردہ  پابندیوں میں نرمی کے عمل درآمد میں 'آخری بار' توسیع کی ہے۔

 حکام نے اطلاع دی ہے کہ امریکہ ایران اور  سلامتی کونسل کے 5 مستقل اراکین سمیت جرمنی کے ساتھ سن 2015 میں طے پانے والے جوہری معاہدے کی  پابندیوں  سے متعلق  شق کو منسوخ نہیں کیا جائیگا اور اس ملک کودی گئی  پابندیوں میں رعایت پر عمل در آمد میں  120 دنوں کی توسیع کر دی گئی ہے۔

وائٹ ہاؤس سے  جاری کردہ اعلامیہ میں  کہا گیا ہے کہ چوتھی اور آخری بار توسیع کردہ  معاہدے میں لازمی ترمیم   کا مطالبہ  کیا گیا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق ایران  خطے میں عدم استحکام  اور انتشار  پھیلانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہے اور اس کا سد باب کرنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالے جانے کی ضرورت ہے۔

اعلامیہ میں یہ بھی  اپیل کی گئی کہ ایران انتظامیہ ایرانی عوام کو بنیادی حقوق اور آزادی  دے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے ایک جانب  ایران  کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کی مدت میں توسیع کرنے کا  فیصلہ کیا ہے تو بیک وقت اس ملک پر  نئی پابندیاں عائد کی ہیں جو کہ ایک توجہ طلب بات ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ  ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سنسر اور اسلحہ سازی    میں تعاون فراہم کرنے  کے جواز میں 14 افراد اور فرموں  پر پابندیاں عائد کی  جائینگی۔



متعللقہ خبریں