17فروری 1869: غالب کی وفات کا پرانے اخبار میں اعلان،ذرااردوملاحظہ کیجیئے

اکمل الاخبار نے 17فروری 1869کے شمارے میں غالب کی وفات کی خبر کچھ اس مرصع انداز سے شائع کی جو قارئین  اردوداں طبقے اور صحافیوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے

17فروری 1869: غالب کی وفات کا پرانے اخبار میں اعلان،ذرااردوملاحظہ کیجیئے

اکمل الاخبار نے 17فروری 1869کے شمارے میں غالب کی وفات کی خبر کچھ اس مرصع انداز سے شائع کی جو قارئین  اردوداں طبقے اور صحافیوں کیلئے دلچسپی کا باعث ہے

 "مرزاغالب کی وفات" 

 

فغاں اس زمانہ غدارے ، آہ روزگارناہنجارے، ہرروز نیا رنگ دکھاتا ہے، ہردم دام ِغم و الم میں پھنساتا ہے، اس محیط آفت کی موج بلا خیز ہے۔ اس کی رافت سرمایۂ صداقت ، اسکی شکر زہر آلود ، اس کی امید آرزوئے فرسودہ، ہر روز محل حیات کو صرصر ممات سے گزارتا ہے۔ ہر دم محفل سرورسے صدائے ماتم اٹھاتا ہے۔ پھول اِدھر کھلا اُدھر گر پڑا ۔ لالہ لباس رنگین میں یہی داغ دل پر رکھتا ہے۔ غنچہ خون جگر سے پرورش پاتا ہے۔ بلبل نوحہ گرچمن ہے اور مرغ سحر خواں اسیر محن ، کیا عجب گو آسماں درپے آزار ہے۔ بھلا اس سے کیا توقع آسودگی جس کا خود گردش پر مدار ہے۔ دیکھو بیٹھے بٹھائے کیا آفت اٹھائی ہے۔ کس منتخب روزگار کی جدائی دکھائی ہے۔ نخل بردمند سے معانی باد خزاں سے گرایاجو خسرو کے بعد ملک سخن کا خسرومالک رقاب تھا۔ اس کا نام عمر طے ہوا جو میدان سخندان سخنوری کا شہسوار مالک رقاب تھا، اس کا رخش زندگی پے ہوا ۔ ان حضرت کی کن کن خوبیوں کا ذکر کیا جائے۔ دریاکوزے میں کیونکر سمائے، حسن خلق میں اخلاق کی کتاب ، عمیم الاشفاقی میں لاجواب ، خوبی تحریر میں بینظیر، صافی ضمیر ، جادو تقریر، فارسی زبان میں لاثانی، اردوئے معلیٰ کے بانی، افسوس جس کا شہباز خیال طائر صدرہ شکار ہو، وہ پنجۂ گرگ اجل میں گرفتار ہو۔ اس غم سے سب کی حالت تباہ ہے، روز یہی اس مصیبت میں سیاہ ہے۔ اب توضیح اجمال و تفصیل مقال ہے۔ واضح ہو کہ جناب مرحوم 2،3ماہ سے صاحب فراش رہے، ضعف ونقاہت کے صدمے سہے، 8دن انتقال سے پہلے کھانا پینا ترک فرمایا، اس دنیائے فانی سے بالکل دل اٹھایا     تاآنکہ 15فروری1869ء روز دوشنبہ کو دوپہر ڈھلے اس خورشید اوج فضل و کمال کو زوال ہوا۔

 



متعللقہ خبریں