ترکی کے اخبارات سے جھلکیاں - 16.04.2018

ترک ذرائع ابلاغ

ترکی  کے اخبارات سے جھلکیاں - 16.04.2018

روزنامہ  ینی شفق نے "  فتح اللہ گولن کو بھی واپس آنا پڑے گا " کی  زیر  عنوان خبر کے مطابق   صدر ایردوان نے  کہا ہے کہ پنسلوانیا میں مقیم  فتح اللہ گولن کو ایک روز لازمی طور پر ترکی آنا ہوگا۔  انہوں نے کہا کہ دہشت گرد تنظیم  " فیتو" کے خلاف بڑے پیمانے پر  آپریشن جاری رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت تک  دہشت گرد تنظیم فیتو کے  80 اراکین کو غیر ممالک سے گرفتار کرتے ہوئے   ترکی لایا گیا ہے  اور اب باری فتح اللہ گولن کی ہے۔

 

روزنامہ  صباح نے "  بہت تاخیر ہو چکی ہے: وزیر اعظم  یلدرم"  کے زیر عنوان اپنی خبر میں لکھاہے کہ  وزیر اعظم بن علی یلدرم نے  آق پارٹی کے تُزلہ میں عام کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ  امریکہ  کی قیادت میں  اتحادی فوجوں نے  شام میں  شامی انتظامیہ کے خلاف   فضائی کاروائی کرنے میں بڑی تاخیر سے کام لیا ہے۔ تاہم تاخیر ہی سے  معصوم انسانوں کے قاتلوں کے خلاف آخر کار کوئی کاروائی کی گئی ہے۔

 

روزنامہ  حریت نے "  گھروں سے 335 کلو  سونے  کو جع کرنے میں کامیابی حاصل کی گئی ہے۔" کے زیر عنوان اپنی خبر میں لکھا ہے کہ وزیر اقتصادیات  اور نائب وزیراعظم مہمت شمشیک  نے کہا ہے کہ ترک باشندوں کے گھروں میں  رکھَ جانے والے سونے کو بینکوں میں رکھنے کے لیے  جو  سرٹیفکیٹ جاری کیے گئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ ترک باشدوں کے گھروں میں 335 کلو سونا   ایک طرف  بغیر کسی مقصد کے پڑا ہوا تھا جس اب حکومت  استعمال کرے گیاور جس کے ملکی اقتصادیات پر  مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

 

روزنامہ وطن نے   نیٹو کے سیکرٹری جنرل  کے دورہ ترکی سے متعلق  اپنی خبر میں لکھا ہے کہنیٹو کے سیکرٹری جنرل نے اپنے دورہ ترکی سے قبل  برسلز میں نیٹوہیڈ کوارٹر پر ہنگامی اجلاس  کے بعد جاری کردہ  اختتامی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نیٹو اتحادی امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے اسد انتظامیہ کے خلاف فضائی آپریشن کے ساتھ بھر پور تعاون کرتے ہیں۔اجلاس کے بعد نیٹو کے سیکرٹری جنرل جین اسٹالٹن برگ  نے بھی جاری کردہ بیان میں اسد انتظامیہ کی طرف سے مشرقی الغوطہ  میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کی مذمت کی ہے اور  کہا ہے کہ ہم امریکہ کی زیر قیادت شامی آپریشن کے ساتھ تعاون کرتے ہیں۔اسٹالٹن برگ نے کہا ہے کہ  آپریشن سے قبل نیٹو نے تمام راستے ناکام ہونے کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کہا تھا کہ فوجی حل کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہا اور بین الاقوامی برادری کو اس کا بھر پور جواب دینا چاہیے۔

 

 



متعللقہ خبریں