پاناما کیس میں وزیر اعظم کے وکیل کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا: سپریم کورٹ

پاناما کیس میں دلائل دیتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی کوئی بھی آف شور کمپنی موجود نہیں

پاناما کیس میں وزیر اعظم کے وکیل کو ہمیں مطمئن کرنا ہوگا: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ میں پاناما کیس کے حوالے سے سماعت جاری ہے۔

پاناما کیس میں دلائل دیتے ہوئے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کے وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی کوئی بھی آف شور کمپنی موجود نہیں ، اس کے علاوہ میاں محمد نواز شریف کو بیٹے حسین نواز شریف کی جانب سے جتنے تحفے ملے ان کا ذکر ان تمام گوشواروں میں موجود ہے جو عدالت میں جمع کرائے گئے ہیں ۔ 

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے جب سماعت کا آغاز کیا تو وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے اپنے دلائل جاری رکھے۔

وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کا کسی آف شور کمپنی سے تعلق تھا اور نہ ہے۔

مخدوم علی خان کے مطابق نواز شریف کی برٹش ورجن آئی لینڈ میں کوئی کمپنی نہیں اور نہ ہی وہ کسی آف شور کمپنی کے ڈائریکٹر، شیئر ہولڈر یا بینیفیشل مالک ہیں۔

وزیراعظم کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ درخواست گزاروں نے اپنی پٹیشن میں نواز شریف پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد ہی نہیں کیا اور نہ ہی الزامات کی درست وضاحت کی گئی۔

وزیراعظم کے وکیل نے ان کا قوم سے خطاب بھی عدالت میں پڑھ کر سنایا اور دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بچوں سے متعلق کاروبار شروع کرنے کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ وزیراعظم نے کہا تھا کہ جدہ فیکٹری کا سرمایہ بچوں نے کاروبار کے لیے استعمال کیا۔

انھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں نے دبئی کی فیکٹری کا معاہدہ بھی عدالت میں پیش کیا اور الزام عائد کیا کہ فیکٹری خسارے میں فروخت کی گئی جبکہ قطر میں سرمایہ کاری نہ ہونے کا الزام بھی لگایا گیا۔

وزیراعظم کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی درخواست اور دلائل میں تضاد ہے، پی ٹی آئی کی جانب سے تسلیم کیا گیا ہے کہ دبئی فیکٹری 9 ملین ڈالر میں فروخت ہوئی جبکہ 7 ملین ڈالرز پر ویلتھ ٹیکس نہ دینے کا الزام بھی عائد کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ نواز شریف کبھی دبئی فیکٹری کے ڈائریکٹر نہیں رہے۔

جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ ہم یہ بات کیسے مان لیں کہ وزیراعظم دبئی فیکٹری کے ڈائریکٹر نہیں تھے، ہمارے سامنے نواز شریف کے ڈائریکٹر نہ ہونے کی کوئی دستاویز نہیں۔

گذشتہ روز پاکستان تحریک انصاف کے وکیل نعیم بخاری نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے جبکہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے عدالت میں پیش کیے گئے قطری خط کو رضیہ بٹ کے ناول سے تشبیہ دیا تھا،ان کا کہنا تھا کہ شریف خاندان قطری خط کے پیچھے چھپ رہا ہے، شیخ رشید نے امید کا اظہار کیا تھا کہ عدالت عظمیٰ 'سچا انصاف' فراہم کرے گی۔

جس پر سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ عدالت آئین اور قانون کے مطابق انصاف فراہم کرے گی، کسی ایک پارٹی کے تصورات یا توقعات کے مطابق نہیں۔

 



متعللقہ خبریں