تمام صوبے نئی حلقہ بندیوں کیلئے قانون سازی پر متفق

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، حکومت نے پیپلز پارٹی کے تمام مطالبات مان لئے، مردم شماری کا ریکارڈ چیک اور تصدیق کرانے کا حق تسلیم، بروقت انتخابات کا عزم، نئی حلقہ بندیوں کیلئے جلد قانون سازی پر اتفاق کر لیا گیا

تمام صوبے نئی حلقہ بندیوں کیلئے قانون سازی پر متفق

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں چاروں وزرائے اعلیٰ، وزیر داخلہ اور وزیر صنعت وپیداوار سمیت متعلقہ وزارتوں کے سیکرٹریز اور دیگر حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں حالیہ مردم شماری اور نئی حلقہ بندیوں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق الیکشن کمیشن کے حکام نے اجلاس کے شرکا کو نئی حلقہ بندیوں پربریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 1998 کی مردم شماری کے مطابق 2018 کے عام انتخابات کرانا مشکل ہوگا۔

مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس، حکومت نے پیپلز پارٹی کے تمام مطالبات مان لئے، مردم شماری کا ریکارڈ چیک اور تصدیق کرانے کا حق تسلیم، بروقت انتخابات کا عزم، نئی حلقہ بندیوں کیلئے جلد قانون سازی پر اتفاق کر لیا گیا۔

اجلاس میں وزیر اعظم نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی جانب سے بھیجے گئے حلقہ بندیوں کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سب کو متفق کرلیا۔

اجلاس کے دوران صوبہ سندھ نے مردم شماری کے نتائج کی روشنی میں انتخابات کرانے پر رضا مندی کا اظہار کیا جبکہ وفاقی حکومت نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ کچھ آبادی کے بلاک میں وہ تھرڈ پارٹی آڈٹ کرایا جائے گا۔

عبوری نتائج پر ہی حلقہ بندیاں ہوں گی جبکہ قومی اسمبلی کی کل نشستیں 272 ہی رہیں گی۔ میڈیا بریفنگ میں مشیرِ وزیرِ اعظم مصدق ملک نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے بڑے آئینی بحران کو حل کر لیا ہے۔ عبوری نتائج پر حلقہ بندیوں پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔ بل جلد ہی قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ کسی صوبے نے قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ نہیں کیا۔

 مصدق ملک نے کہا کہ آڈٹ کے لیے بلاکس کو قرعہ اندازی کے ذریعے منتخب کیا جائے گا۔ بلاکس کے نتائج مرتب کر کے پہلے نتائج سے موازنہ کیا جائے گا۔ تین ماہ میں ایک فیصد نتائج کی کارروائی مکمل ہو گی۔ بلاکس کی سمری شیٹ آئینی ترمیم کے بعد شائع کر دی جائیں گی۔

 

 



متعللقہ خبریں