مسلم لیگ نون کی انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سے بچنے کی چال نے تمام سیاسی جماعتوں کومات کردیا

پاکستان کی تاریخ میں  پہلی بارحکومت نے  نگران وزیراعظم کا چناوحزبِ اختلاف کی جماعت پر چھوڑتے ہوئے  عام انتخابات میں دھاندلی   کے الزامات سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کیا ہے

مسلم  لیگ نون کی انتخابات میں دھاندلی  کے الزامات سے بچنے کی چال نے تمام سیاسی جماعتوں کومات کردیا

مسلم لیگ (ن) نے  نگراں وزیراعظم  کے انتخاب کے لیےپیپلز پارٹی  کے  رہنما وں سے مذاکرات کرنے کے بعد  نئے نگران وزیر اعظم   کے اختیارات پیپلز پارٹی کو  سونپ  دیے ہیں   اور اس طرح نگران وزیراعظم سے متعلق  اب گیند پیپلز پارٹی  کے کورٹ میں ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں  پہلی بار   حکومت نے  نگران وزیراعظم   کا چناو  حزبِ اختلاف کی جماعت پر چھوڑتے ہوئے   عام انتخابات میں دھاندلی   کے الزامات سے چھٹکارا پانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 اس طرح  نگران وزیراعظم کے انتخاب کے بارے میں  جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا تھا ان پر قابو پالیا گیا  ہے۔  

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے نواز شریف کی جانب سے یہ پیغام ملنے کے بعد گزشتہ 11؍ اپریل کو ملاقات میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر پیپلزپارٹی کے خورشید شاہ کو اس بات سے آگاہ کردیا ہے۔ نگراں حکومت آئندہ جولائی میں عام انتخابات کرانے کی ذمہ دار ہوگی۔اس بات کا قوی امکان تھا اگر مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی دونوں ہی ناموں کے پینل تجویز کرتے تو متفقہ امیدوار پر اتفاق رائے نہیں ہوتا۔

 نواز شریف کی جانب سےنگراں وزیراعظم کے نام تجویز کرنے سے دستبردار کا مقصد آصف علی زرداری کو منانا ہے جو ان پر شدید نقاد ہیں۔ اس حوالے سے خورشید شاہ نے اپنی پارٹی قیادت سے منظوری کے بعد تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں سے مل کر نگراں وزیراعظم کے نام پر غور کیا اور بتایا جاتا ہے کہ کچھ ناموں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔



متعللقہ خبریں