خاموشی سےآ ئے،غیرجانبداری کےباعث ملک کااعلیٰ ترین عہدہ حاصل کیا،اوراب خاموشی سےرخصتی کی تیاری

ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق، نئی اسمبلیوں کا حلف کے بعد پہلا کام صدارتی انتخاب ہوگا، آئین کے تحت صدارتی انتخابات 8 جولائی سے 8 اگست کے درمیان ہونا تھے، اسمبلیاں موجود نہ ہونے کے باعث صدارتی انتخاب اگست کے تیسرے ہفتے میں ہوگا

خاموشی سےآ ئے،غیرجانبداری کےباعث ملک کااعلیٰ ترین عہدہ حاصل کیا،اوراب خاموشی سےرخصتی کی تیاری

ملک میں قومی اور صوبائی   اسمبلیوں کے 25 جولائی کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد صدارتی انتخاب اگست کے تیسرے ہفتے میں  ہونے کی توقع کی جا رہی ہےکیونکہ    صدر ممنون حسین کے عہدے کی مدت 8 ستمبر کو پوری ہو رہی ہے۔

ذرائع الیکشن کمیشن کے مطابق، نئی اسمبلیوں کا حلف کے بعد پہلا کام صدارتی انتخاب ہوگا، آئین کے تحت صدارتی انتخابات 8 جولائی سے 8 اگست کے درمیان ہونا تھے، اسمبلیاں موجود نہ ہونے کے باعث صدارتی انتخاب اگست کے تیسرے ہفتے میں ہوگا۔

ذرائع کے مطابق، اسمبلیاں موجود نہ ہونے کی صورت میں  عام انتخابات کے ایک ماہ کے اندرصدارتی انتخاب کرانا ہوتا ہے، الیکشن کمیشن صدارتی انتخاب کا شیڈول عام انتخابات کے بعد جاری کرے گا۔

اگر انتخابات بروقت نہ ہوئے تو صدر کےانتخابات کا شیڈول بھی متاثر ہوگا۔

صدارتی الیکشن کے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) جسٹس فخر الدین جی ابراہیم نے بتایا کہ ممنون حسین نے 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے ہیں جبکہ ان کے مدِمقابل تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین نے 77 ووٹ حاصل کر سکے۔

صدر ممونن حسین قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کل 314 ارکان کے ووٹوں میں سے  277 ، پنجاب اسمبلی سے 54 ،سندھ سے 25، بلوچستان سے 55، اور خیبر پختونخوا سے 21 الیکٹورل ووٹ حاصل کرتے ہوئے  صدر  منتخب ہوئے تھے۔  

سنہ 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہونے والے ممنون حسین مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے تاجر اور غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔



متعللقہ خبریں