وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی

وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی وزیر اعظم سے موجودہ حالات میں کام کرنے سے معذوری ظاہر کی اور کہا وہ اخلاقی طور پر سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی اپنے عہدے سے مستعفی

وفاقی وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اعظم سواتی نے اپنی وزارت سے استعفیٰ دے دیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعظم سواتی نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی اور اپنا استعفیٰ پیش کردیا۔

ملاقات کے دوران انہوں نے وزیر اعظم سے موجودہ حالات میں کام کرنے سے معذوری ظاہر کی اور کہا وہ اخلاقی طور پر سمجھتے ہیں کہ انہیں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

موجودہ حالات میں وزارت کا قلمدان پاس نہیں رکھ سکتا، اخلاقیات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے مستعفی ہورہا ہوں، مستعفی ہونے کے بعد سپریم کورٹ میں مقدمے کا دفاع کروں گا، کسی عہدے کے بغیر اپنا کیس سپریم کورٹ میں پیش کروں گا۔

وزیر اعظم نے ان سے کہا کہ ان کے خلاف سپریم کورٹ میں جو کیس چل رہا ہے اس کا فیصلہ آنے تک وہ اپنا فیصلہ مؤخر کر دیں۔

تاہم اعظم سواتی نے کہا کہ وہ اپنے ضمیر پر بوجھ محسوس کر رہے ہیں اور ان حالات میں اپنی ذمہ داری بخوبی انجام نہیں دے پائیں گے۔

واضح رہے کہ اعظم سواتی کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں آئی جی تبادلہ کیس زیر سماعت ہے۔

سپریم کورٹ نے گزشتہ روز آئی جی اسلام آباد تبادلہ ازخود نوٹس کیس میں ان کے خلاف آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت کارروائی کرنے کیلئے کہا تھا۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ کیوں نہ اعظم سواتی کو ملک کے لیے ایک مثال بنائیں،کیا حاکم بھینسوں کی وجہ سے عورتوں کو جیل میں بھیجتے ہیں؟

 

اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے میڈیا سے گفتگو میں اس بات کا اشارہ دے دیا تھا کہ اگر اعظم سواتی ذمہ دار قرارپائے گئے تو وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 7 نومبر کو اعظم سواتی کے غریب خاندان سے جھگڑے کے معاملے پر سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیے دس ٹی او آرز دیتے ہوئے دو ہفتے میں رپورٹ طلب کی تھی۔

 

 

 

 

          



متعللقہ خبریں