افغان حکومت نے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات کے اختیارات دے دیے

داود زے نے  پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران ایک ٹیلی ویژن چینل  کو انٹرویو میں بتایا  ہے کہ "افغانستان نے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات  کرنے کے اختیارات  دے دیے ہیں"

افغان حکومت نے امریکہ کو طالبان  سے مذاکرات کے اختیارات دے دیے

 

افغان اعلی امن شوری کے سیکرٹری جنرل اور صدر کے امور امن کے نمائندہ خصوصی محمد عمر داود زے کا کہنا  ہے کہ افغان حکومت نے امریکہ کو طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کے لیے اختیارات دے دیے ہیں۔

داود زے نے  پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران ایک ٹیلی ویژن چینل  کو انٹرویو میں بتایا  ہے کہ "افغانستان نے امریکہ کو طالبان سے مذاکرات  کرنے کے اختیارات  دے دیے ہیں۔"

امریکی حکام  کے طالبان سے مذاکرات سے قبل افغان اداروں سے مذاکرات کرنے کا ذکر کرنے والے داود زے نے  واضح کیا کہ افغان حکومت نے امریکہ کی طالبان سے بات چیت کے لیے زمین ہموار کی ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے افغانستان میں امن امور کے نمائندہ خصوصی ظالمائے خلیل زاد  علاقائی ممالک اور طالبان  ذمہ دار اشخاص سے ہونے والی تمام تر ملاقاتوں کے حوالے سے افغان حکومت کو آگاہی کراتے ہیں۔

ادھر افغان اعلی امن  شوری کے ترجمان سید احسان تحریری نے پریس کو بتایا ہے کہ داؤد زائے کا دورہ پاکستان مثبت گزرا ہے، انہوں نے یا د دہانی کراتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے قیام امن میں معاونت فراہم کرنے کا عندیہ دیا ہے ، داؤد زئے نے بعض پاکستانی علماء سے بھی  ملاقاتیں کی ہیں، جن سے مثبت نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

امریکہ کے افغانستان قیام امن  امور کے نمائندہ خصوصی ظالمائے خلیل زاد نے  چوتھے امن ٹورز کا آغاز  بھارت سے کیا ہے۔  افغان امن شوری کا کہنا ہے کہ خلیل زاد  کے اس ٹور سے ٹھوس نتائج سامنے آنے کی توقع ہے۔

دوسری جانب بھارتی  دفتر خارجہ کے ترجمان   راویش کمار  نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر لکھا ہے کہ بھارت افغانستان کے امن و مصالحتی سلسلے کی حمایت کرتا ہے۔

خلیل زاد نے اس سے پیشتر  اس سلسلے میں طالبان ذمہ داران سے بات چیت  کی تھی اور اس حوالے سے افغان اداروں کو آگاہی کرائی تھی۔

 

 



متعللقہ خبریں