میں نے ملک میں انصاف اور سچائی کے قیام کی کوششیں کی ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار

چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کے اعزاز میں الوداعی عشائیہ

میں نے ملک میں انصاف اور سچائی کے قیام کی کوششیں کی ہیں، چیف جسٹس ثاقب نثار

پاکستان  کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے  کہ انہوں نے ملک میں قانونی انصاف  میں برابری کی  حقیقی بنیاد  رکھی ہے۔

چیف جسٹس کے اعزاز میں لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن  نے  الوداعی عشائیہ منعقد دیا جس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’جوڈیشل ایکٹوازم کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ دوسرے اداروں کے دائرہ کار میں مداخلت کی جائے یا کسی کی بے عزتی کی جائے،  اس کا مطلب جارحیت ہر گز  نہیں۔

عشائیہ میں  آئندہ کے  چیف جسٹس  آصف سعید خان کھوسہ، لاہور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سردار محمد شمیم خان اور دیگر جج حضرات   نے بھی شرکت کی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ عدلیہ اور دیگر اداروں کے آئینی دائرہ کار کو ملحوظ خاطر رکھا، ہسپتالوں کا دورہ کرنے کا مقصد صرف حکومتی وسائل کے درست استعمال کو  یقینی بنانا تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ  ہوسکتا ہے ان سے ارادی یا غیر ارادی طور پر غلطیاں  ہو گئی ہوں  ہیں لیکن انہوں نے جو کچھ بھی کیا قانون کی حکمرانی کے لیے کیا اور کبھی کسی کی بے عزتی کرنے کی کوشش نہیں کی۔

کھلی کچہریوں کے بارے میں اپنے تجربات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری ہسپتالوں میں ان کی ملاقات ایسے  لوگوں سے بھی ہوئی،  جو کہ   ادویات خریدنے  سے بھی قاصر  تھے۔

چیف جسٹس نے  افسوس کا اظہار  کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو وقت پر عدالتوں سے انصاف نہیں مل پاتا، انہوں نے ضلعی عدالتوں کے جج حضرات  کو انصاف کا دامن اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑنے کی تلقین بھی کی۔

انہوں نے بتایا " میں  نے اپنی زندگی بھر  ایک اچھا جج بننے کی کوشش کی تاکہ میں اپنے اس اہم پیشے میں سرخرو ہو سکوں۔

انہوں نے وکلا پر زور دیا کہ چونکہ وہ عدالتی نظام کا اہم حصہ ہیں لہٰذا اپنا کام پوری جانفشانی سے کریں۔

 



متعللقہ خبریں