قطری ریال کے ساتھ خرید و فروخت نہ کی جائے، کیا یہ ایک مالیاتی جنگ ہے؟

قطر نے قطری  ریال کے ساتھ خرید و فروخت بند کرنے سے متعلق، احکامات کی تفتیش شروع کروا دی

قطری ریال کے ساتھ خرید و فروخت نہ کی جائے، کیا یہ ایک مالیاتی جنگ ہے؟

قطر کے سرکاری مواصلاتی دفتر کے ڈائریکٹر  سیف بن احمد بن سیف الثانی نے  خلیجی بحران کے ابتدائی ہفتوں میں ایک بین الاقوامی ادارے کے، قطری  ریال کے ساتھ خرید و فروخت  بند کرنے سے متعلق،احکامات کی تفتیش شروع کروا دی ہے۔

قطر کی خبر رساں ایجنسی QNA  کی خبر میں الثانی نے کہا ہے کہ "متحدہ عرب امارات  کے سرمایہ کاروں کے ایک حصے کے مالک  بین الاقوامی ادارے  نے یورپ اور ایشیاء میں قطری ریال  کے ساتھ خرید و فروخت روکنے کے احکامات دئیے ہیں"۔

الثانی نے کہا ہے کہ اگر یہ  ایک مالیاتی جنگ ثابت ہوتی ہے تو یہ چیز صرف قطر کی اقتصادیات کے لئے ہی نہیں بین الاقوامی اقتصادات کے لئے بھی نقصان دہ اور باعث شرمندگی چیز ہو گی۔

الثانی نے کہا ہے کہ اس اقدام سے سال 2022 میں قطر میں متوقع عالمی کپ  کی تیاریوں کو ہدف بنایا گیا ہے اور قطر کے سرکاری ادارے اس تفتیش کو  عدالتی میکانزم میں قانون کے اطلاق  کے ذمہ دار حکام کے ساتھ مل کر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات ، یمن، مصر اور بحرین  نے 5 جون کو جاری کردہ بیان کے ساتھ قطر کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین نے اپنی فضائی حدود کو قطر کے لئے بند کر دیا تھا  اور اس سفارتی پابندی میں بعد ازاں دیگر ممالک بھی شامل ہو گئے تھے۔



متعللقہ خبریں