ترک معیشت کی شرح نمو 7٫4 فیصد

صدر ایردوان: ترکی نے ای ای سی ڈی ممالک کو مات دیتے ہوئے شرح نمو کی دوڑ میں اول پوزیشن حاصل کی ہے

ترک معیشت کی شرح نمو 7٫4 فیصد

 

ترک معیشت کی شرح نمو   سال کی پہلی سہ ماہی میں  7٫4 فیصد تک رہی ہے۔

ملک کی  قومی پیداوار  کو تشکیل دینےو الی سرگرمیوں کا جائزہ لینے سے  اس بات کا مشاہدہ ہوا ہے کہ سال 2018 کی پہلی سہ ماہی میں  ایک سال قبل کے اسی دورانیہ    کے مقابلے میں شعبہ زراعت نے  4٫6 فیصد، صنعتی شعبے   نے 8٫8 فیصد جبکہ  شعبہ تعمیرات نے 6٫9 فیصد کی  شر ح سے ترقی کی ۔

تجارت، مواصلات، قیام  اور خوردنی اشیاء   پر مشتمل سروسز سیکٹر    کی  قدری  محاصل  میں 10 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سالانہ  جی ڈی پی میں  ایک سال قبل کے اسی دورانیہ کے مقابلے میں 7٫2 فیصد کی شرح سے اضافہ   دیکھا گیا  ہے۔

ان اعداد و شمار  کے حوالے ٹویٹر  پر اپنا جائزہ پیش کرنے والے صدر رجب  طیب ایردوان نے لکھا ہے کہ "تمام تر اقتصادی حملوں اور  چالوں کے باوجود مضبوط ماکرو بنیادوں پر  شرح نمو کا سفر جاری ہے۔"

جناب ایردوان نے لکھا ہے کہ "ترک معیشت نے  رواں سال کی پہلی  سہ ماہی میں 7٫4 فیصد  ترقی کی ہے، ہم  اقتصادی تعاون و ترقیاتی  تنظیم   یعنی اوا ی سی ڈی ممالک میں    اول نمبر  پر،  دنیا کی بڑی ترین اقتصادیات میں شامل 19 ممالک اور یورپی یورپی پر مشتمل جی۔ 20 ممالک کے درمیان  دوسرے  نمبر پر ہیں۔ ترکی  دنیا کے  تیز ترین رفتار سے ترقی کی جانب گامزن ممالک  کی صف میں  شامل  رہنے کے عمل کو  جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

 



متعللقہ خبریں