گنجے پن کےشکارخوش ہوجائیں،ہئیرٹرانسپلانٹ نہیں بلکہ دوا موثرہوگی:ماہرین

انگلستان  میں کی گئی ایک تازہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنجے پن کا علاج اس دوا کی مدد سے ممکن ہے جو اصل میں کمزور ہڈیوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے

گنجے پن کےشکارخوش ہوجائیں،ہئیرٹرانسپلانٹ نہیں بلکہ دوا موثرہوگی:ماہرین

انگلستان  میں کی گئی ایک تازہ طبی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ گنجے پن کا علاج اس دوا کی مدد سے ممکن ہے جو اصل میں کمزور ہڈیوں کے علاج میں استعمال ہوتی ہے۔
خبر  کے مطابق ’سائکلوسپورین اے‘ نامی دوا کمزور ہڈیوں کا علاج کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے لیکن اس کا انسانی جسم پر رد عمل زیادہ بال اگنے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
ماہرین نے گنجے پن کے علاج کے لیے Way-316606 نامی دوائی کا بھی استعمال کیا ہے۔

 بنیادی طورپر یہ دوائی ’SFRP1‘ نامی لحمیات کو روکنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جو ہڈیوں میں کمزوری کی ذمہ دار سمجھی جاتی ہے۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر میں اس منصوبے  کے سربراہ ڈاکٹر ناتھن ہاکشاہ کہتے ہیں کہ 'یہ ان لوگوں کے لیے بہت فائدہ مند ہو سکتی ہے جن کو گنجے پن کی بیماری ہے۔'
واضح رہے کہ اس وقت بازار  میں صرف دو دوائیں ایسی ہیں جو گنجے پن کے علاج کے لیے استعمال ہوتی ہیں جن میں سے منوکسیڈیل دونوں مرد اور خواتین کے لیے جبکہ فناسٹرائڈ جو کہ صرف مردوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
ان دونوں دواؤں کے منفی رد عمل ہوتے ہیں اور وہ مکمل طور پر موثر بھی نہیں ہوتی ہیں جس کی وجہ سے مریض اکثر اوقات بالوں کی پیواندکاری کروا لیتے ہیں۔
یہ تحقیق حیاتیات کے جریدے 'پلوس بیالوجی' میں شائع ہوئی اور اس کے لیے انسانی بالوں کے نمونے 40 سے زائد مرد مریضوں سے لیے گئے تھے جنھوں نے اپنے بالوں کی پیوند کاری کروائی تھی ۔
ڈاکٹر ہاکشاہ نے بتایا کہ اس کے لیے ابھی مزید تجربات کرنا ضروری ہیں تاکہ اس بات کی تصدیق ہو سکے کہ یہ علاج مریضوں کے لیے موثر اور محفوظ ہے۔



متعللقہ خبریں