ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔  01

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔  01

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ۔  01

حلب سے شامی باشندوں  کے انخلاء کے  بعد آزاد شامی فوج میں شامل حکومت مخالف ترکمین گروپوں کی اکثریت  نے ادلیب کو ترک کرتے ہوئے داعش کیخلاف شروع کردہ فرات ڈھال کاروائی میں شامل  ہو نا شروع کر دیا ہے ۔آج کے اس پروگرام میں حلب سے سویلین کے انخلاء   ، شامی ترکمینیوں کی صورتحال  اور فرات ڈھال کاروائی   کا جائز ہ آپ کی خدمت میں پیش کیا جائے گا ۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا اس موضوع پر جائزہ  پیش خدمت ہے ۔

حلب سے شامی باشندوں  کے انخلاء کے  بعد آزاد شامی فوج میں شامل ترکمین حکومت مخالفین گروپوں کی اکثریت  نے ادلیب کو ترک کرتے ہوئے داعش کیخلاف شروع کردہ فرات ڈھال کاروائی میں شامل  ہو نا شروع کر دیا ۔ 24اگست 2016 کو ترک مسلح افواج  ،آزاد شامی فوج اور ترکمین دستوں کیساتھ داعش کے زیر کنٹرول شہر جرابلوس میں فرات ڈھال نامی فوجی کاروائی کا آغاز کیا تھا ۔  ترکمین منتاثر بلا بریگیڈ ،فاتح سلطان مہمت بریگیڈ اور سلطان مرات ڈویژن کے اراکین ترکمین جنگجو ؤں کا شام میں داخلہ تقریباً مکمل ہو گیا ہے ۔  ادلیب کو ترک کرنےوالے ترکمین گروپوں کے عزیز۔ جرابلوس کے درمیانی علاقے میں ہیڈ کوارٹر  موجود ہیں ۔  ترکمین گروپ طویل عرصے سے  اپنی سر زمین کو داعش  سے پاک کرنے کے لیے  انتہائی بہادری سے جنگ لڑ رہے ہیں ۔ حلب سے نکلنے والے گروپوں کی شرکت سےعزیز۔جربلوس علاقے پر کنٹرول  قائم کیا جا سکے گا اور باب کی صفوں میں آزاد شامی فوج  سے وابستہ گروپو ں کی شرکت کی راہیں ہمور کی جا سکیں گی ۔  سلامتی کی وجہ سے ہم ان کی صحیح تعداد نہیں بتا سکتے لیکن  شرکت کافی زیادہ ہے ۔

 نامساعد موسمی حالات  اور باب  شہر کے اندر موجود شہریوں کے تحفظ  کی وجہ سے فرات ڈھال کاروائی  انتہائی محتاط انداز میں جاری ہے ۔اس وقت داعش کی پی کے کے اور پی وائے ڈی کیخلاف جاری مزاحمت سے دس گنا  زیادہ مزاحمت کا مظاہرہ کیا گیا ہے ۔  فرات ڈھال کاروائی کے دائرہ کار میں اسوقت تک داعش کے 2335 دستی آتش گیر مادے  اور 42 بارودی سرنگوں کو تباہ کیا جا چکا ہے ۔  داعش کی مزاحمت میں بلاشبہ مغربی ممالک کا  بھی ہاتھ ہے مغربی ممالک کیطرف سے راکا اور موصل کاروائیوں  کو ملتوی کرنے کی وجہ سے داعش  کو  باب میں بھاری قوت جمع کرنے کا موقع مل گیا ۔ ترکی باب کاروائی کیساتھ داعش پر کاری ضرب لگانے کے ساتھ ساتھ شام کے شمالی علاقے میں پی کے کے کو راہداری کھولنے کی راہ میں بھی رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے ۔  باب شہر کو شام کے شمالی علاقے میں سلامتی کا علاقہ تشکیل دینے میں سٹریٹیجک اہمیت حاصل ہے ۔

شمالی عراق کیطر ح شمالی شام کی صورتحال بھی ملک کے دیگر علاقوں سے مختلف ہے ۔ اس  علاقے کا جنوب مشرقی اناطولیہ کے علاقے اور شمالی  عراق کیساتھ ملا کر  جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ سلطنت عثمانیہ کے دور میں جنوب مشرقی اناطولیہ ، شمالی  عراق اور شمالی شام کے نظم و نسق کو  دیار باقر ،حلب اور موصل نامی  صوبوں کی شکل میں  چلایا جاتا تھا ۔

اسوقت عزیز اور جرابلوس کے درمیان 150 کے قریب دیہات موجود ہیں۔ اس علاقے میں ترکمین دیہات دریائے فرات کے مشرق   کی جانب پھیلے ہوئے ہیں ۔ فرات کے مشرق میں 60 کے قریب، عالچک اویون لو اور میونبیچ کے درمیان 50 سے زائد ترکمین گاؤں موجود ہیں ۔ حلب  کے شمال مشرق میں ۔وبان بے اور باب کے درمیانی علاقے میں  بھی تقریباً 50 گاؤں  ،  جرابلوس اور دریائے فرات کی شاخ ساجور کے درمیان 25 جبکہ ساجور کے جنوب میں  20ترکمین دیہات پائے جاتے ہیں ۔فرات کے مشرق میں واقع بلیح تک کے علاقے میں   60 دیہات موجود ہیں ۔

  حالیہ کچھ عرصے سے داعش کو  شام کے شمالی علاقے میں ترکی اور حلیف ممالک کے سامنے سخت ہزیمت کا سامنا کرنا  پڑ رہا ہے ۔  اگر باب شہر بھی ان کے ہاتھ سے نکل گیا توعلاقے کو بڑی حد تک داعش سے پاک کر لیا جائے گا  ۔  ایسی صورتحال میں داعش کے زیر کنٹرول دیگر علاقوں سے ترکی کی حمایت حاصل کرنے والے مخالفین اور دہشت گرد تنظیم پی کے کے اور پی وائے ڈی اور اسد قوتوں کے درمیان  سخت جدوجہد شروع ہو سکتی ہے ۔

 جہاں تک میرا خیال ہےمستقبل میں فرات ڈھال فوجی کاروائی اور شام میں ترکمینوں  کی مذاکرات کی میز اور میدان میں کامیابی   کے امکانات  روشن ہو گئے ہیں ۔ اگر عالمی برادری نے حمایت کی تو ترکمین مشرق وسطیٰ اور شام میں ڈیموکریٹک اور سیکولر نظام قائم کرنے میں اہم کردار ادا  کر سکتے ہیں ۔انتہا پسندی سے دور ترکمینوں نے اگر طاقت حاصل کر لی تو وہ مسلح اور نظریاتی جدوجہد میں اجارہ دار تنظیموں پر سبقت حاصل کر لیں گے ۔اس طرح براعظم یورپ جانے والے مہاجرین کے ریلےکو روکنے میں مدد ملے گی  اور جہادی دہشت گرد تنظیموں سے تحفظ  حاصل ہو  سکے گا ۔



متعللقہ خبریں