حالات کےآئینے میں ۔ 02

ترکی کے حوالے سے ہمسایہ اور مغبی ملکوں کی پالیسیوں پر ایک جائزہ

حالات کےآئینے میں ۔ 02

کوئی نہیں بتاتا، نہیں بتا سکتا کیونکہ    ان کو کیا ہونے کی سمجھ ہی نہیں آئی۔ ۔

عالمی، علاقائی و مقامی   سیاسی   متحرکات  کو  عملی   طور پر یکجا کرنے والی  اور  اس کی وضاحت کرنے والی  شکل میں  اس  کی تشریح  لازمی ہے۔

ڈونلڈ  ٹرمپ کی   صدارت،  امریکی خارجہ پالیسیوں کے    1950 کی دہائی سے چلی آنے والے  نظام   سے    ہٹنے  کا اشارہ دے رہی ہے۔

جرمن دفتر خارجہ کے ترجمان  مارٹن  شیفر  کا کہنا ہے کہ" اسد  قوتوں  پر پابندی عائد کیے بغیر  تصادم  کا حل  تلاش کیا   جانا   نا ممکن ہے" ۔  جرمنی کے طویل  المدت  منصوبوں اور پالیسیوں میں  تبدیلی نہ  آنے کی  بھی وضاحت کرنے والے   ترجمان   نے بتایا کہ  ہم  شام میں  ترکی اور روس کی  ضمانت میں   قیام پذیر ہونے والی فائر بندی   کا  بخوشی خیر مقدم کرتے ہیں۔

برطانوی   روزنامہ    انڈی پنڈنٹ  کے مطابق ؛ "نائٹ  حملے کا بہترین جواب  ترکی میں   چھٹیاں منانا  ہو گا۔  یہ    چھٹیاں    سیاح اور    سیر  کیے جانے والے ملک کے  لیے  کسی ایوارڈ  کے  مترادف ہوں گی۔  ہر برس    استنبول  اور ترکی کے ساحلی علاقوں   کی سیر کرنے والے  لاکھوں  انسانوں کو مدِ نظر رکھنے سے  یہ  کہنا ممکن ہے کہ    اس ملک میں  کسی قسم  کے  خطرے سے دو چار ہونے کا    امکان  حد درجے   کم     سطح  کا   ہے۔"

روزنامہ ٹائمز؛ مغربی مملکتوں کو ترکی    سے  حق بجانب    تعاون کرنا  چاہیے۔ اس طرح  انقرہ میں  آئندہ کے ایام میں  شروع ہو سکنے والے  امن مذاکرات میں  ترکی    کی وساطت سے   مغرب کو   بھی  نمائندگی    کر سکنے کا پیغام  دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح مغربی ممالک کو بھی  داعش  کے حوالے سے تمام  تر خفیہ معلومات  سے ترکی کو آگاہی    فراہم  کرنی   ہو گی۔

عراق کا  دورہ کرنے والے  فرانسیسی  صدر اولاند کا کہنا ہے کہ  "دہشت گردی  کے خلاف جدوجہد  فرانس میں   ہونے والے حملوں کی راہ میں  رکاوٹیں  کھڑی کرے گی۔  وہ ہم  پر حملے  کر رہے ہیں یا پھر ہماری سر زمین  پر حملوں کی تیاریوں میں مصروف ہیں تو  پھر ہم ان سب   کے خلاف  جنگ کھڑی کر دیں گے۔"

فرات ڈھال آپریشن    کے جیسا کہ ان کے خلاف   کیے جانے  کی شکل میں   اس کی مخالفت کرنے والوں  کے ان جملوں سے  عقل  حاصل کرنا یا نہ کرنا   ایک دوسرا معاملہ ہے  تا ہم پیرس  کے بغداد، شام اور عربیل میں  اقدام کا وقت    نمایاں ہے۔

کیونکہ وزیر اعظم بن علی یلدرم   کا دورہ عراق، ترک خارجہ پالیسیوں  پر  عمل درآمد    کے کہیں زیادہ مؤثر ہونے کا  ایک  عنصر ہے۔

بغداد اس دورے کا  شام کے   حوالے سے  منتظر ہے! عراقی  وزیر اعظم کی جانب سے  اولاند سے ملاقات   میں   بعض   بیانات  دینا  اس کی جانب اشارہ کرتا  ہے؛ " کہ استنبول اور دنیا کے دیگر مقامات  پر حملے کرنے والی ایک عالمی  دہشت گرد تنظیم ہے۔ "

بغداد نے دہشت گرد تنظیم   سے متعلق    ؛   PKK کی جانب سے عراقی سر زمین   کو استعمال  کرتے ہوئے  ترکی پر   حملے    کرنے کو قبول  نہیں کیا جاسکتا"   بیانات   دیے ہیں تو  دوسری جانب ایرانی  صدر  حسن روحانی کا کہنا  ہے کہ"استنبول میں  ایک  افسوسناک واقع کا سامنا کرنا پڑا  ہے۔  اس واقع   نے  دہشت گردی  کی خلاف ورزی   کرتے  ہوئے  اس  کو بر طرف   نہ کرنے تک   یہ کسی وائرس کی طرح    سرایت کرتا ہی جائیگا،  کا واضح   طور پر    مظاہرہ    کیا ہے۔  انہوں نے کہا کہ شام میں  ہونےو الی فائر بندی  میں   ایران  کی  خدمات شام نہ ہونے   اور اس کے محض ترکی اور روس کی کوششوں سے وقوع پذیر ہونے  کے    دعوے   درست نہیں   ہیں۔ ایران انسداد دہشت گردی  اور  ڈپلومیسی میں اہم اور فعال کردار  ادا  کرتا چلا آیا ہے، شام، ترکی اور روس سے ہمارا مسلسل ربطہ  ہے۔ "

گزشتہ   ہفتے  منگل کے روز   ترک قومی اسمبلی   سے خطاب کرنے والے وزیر اعظم بن علی یلدرم   کا کہنا تھا کہ"ڈونلڈ ٹرمپ   اس    بدمعاشی  یعنی اوباما  کے عمل درآمد کو  ختم کریں ، اگر نہیں بھی کرتے تو بھی ہم اپنے سفر پر   قائم  دائم رہیں  گے۔ "   یعنی   امریکہ اور  مغرب کے ساتھ ہمارے تعلقات   میں بہتری آنے   پر  یہ  انہی غلطیوں کے مرتکب نہ ہوں،  کیونکہ ترکی  ایسی  خطائیں  نہیں کرے گا۔



متعللقہ خبریں