عالمی معیشت40

ترک معیشت اور حکومت کے مقرر کردہ اہداف

عالمی معیشت40

ترک معیشت  کے  مقرر کر دہ 3 سالہ اہداف  کے تحت  سن 2018-2020    کے  درمیانی مدت کے پروگرام کا حکومت نے اعلان  کر دیا ہے ۔

 اس پروگرام  میں ملکی معیشت  میں ترقی ۔ روزگار میں  اضافے اور  آمدنی کی یکساں  تقسیم  پر مشتمل  5 بنیادی  پالیسیاں  شامل ہیں ۔

 ان پالیسیوں میں  مائیکرو اکانومک استحکام، کامیاب سرمایہ کاری  اور افرادی قوت میں  اضافہ سمیت  منافع بخش مصنوعات کی تیاری  اور سرکاری  اداروں کے معیار کو  بہتر بنانا ہے ۔

 ان پالیسیوں   کے   تحت  قیمتوں میں استحکام پر مبنی   زر پالیسی کا قیام ، تحقیقاتی و   فروغ  اور جدید ٹیکنالوجی  کی استعداد میں اضافہ  اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ  جیسے اہداف متعین کیے گئے ہیں۔

 اس پروگرام کے تحت   اولین طور پر  سال رواں   کے دوران  ترک معیشت کی شرح نمو کا  تناسب 5٫5 فیصد کے قریب   مقرر کیا گیا ہے۔ سال رواں کی پہلی  اور دوسری سہ  ماہی  کے دوران  یہ تناسب بالترتیب  5٫2 فیصد اور 5٫1 فیصد کے لگ بھگ رہا  لہذا امید ہے کہ اگر  کارکردگی کا یہ سلسلہ جاری رہا  کوئی شک نہیں  کہ  یہ شرح تناسب  مقرر کردہ ہدف کو پورا   کر لے گا۔

 اس پروگرام   کے تحت   ملکی برآمدات   سال رواں کے دوران  156٫5  ارب ڈالرز   کے درمیان رہنے کی توقع ہے    جسے  سن 2020 تک  195 ارب ڈالرز تک پہنچانے کا ہدف بھی طے کیا گیا ہے۔

اس  تناظر  میں  بالخصوص  منافع بخش مصنوعات کی ملکی سطح پر تیاری  اور ان کی برآمدات میں اضافے سے ملکی معیشت میں استحکام پیداہوگا جس سے عالمی میدان میں مقابلے بازی  کے رحجان کو بھی تقویت ملے گی ۔

اس اقتصادی ترقی  کے ذریعے ملک  میں بسے تمام   طبقوں میں آمدنی کی یکساں تقسیم بھی ممکن ہو سکے گی ۔  اس وقت   ترکی میں سماجی امداد،روزگار کے مواقعوں  اور   اس کی  حوصہ افزائی  کےلیے  حکومت  کی پالیسیاں کافی سود مند ثابت ہورہی ہیں۔

 اقتصادی پروگرام کے تحت   اٹھائے جانے والے اقدامات   پر اگر غور کیا جائے تو سال رواں کے دوران  ملک میں بے روزگاری کی شرح  کا تناسب 10٫8 فیصد کے لگ بھگ ہے ۔ امکان ہے کہ سن 2020 میں یہ شرح   9٫6 فیصد تک کم ہو جائے گی ۔ دنیا کے  ترقی  یافتہ اور ترقی پذیر ممالک  سمیت ترک    میں معاشی  ترقی کےلیے ضروری ہے کہ  بے روزگاری کے اہم مسئلے  پر قابو پایا جائے ۔

 ترکی کا جہاں تک سوال ہے  تو   حکومت    اس سلسلے میں  اہم اقدامات  اٹھا رہی ہے  گزشتہ عرصے میں     حکومت نے  سن 2017 تا 2019 کی    قومی روزگار حکمت عملی  پر مبنی    جو اہم رپورٹ  تیار کی  تھی اُس پر غور کیا جاسکتا ہے ۔ تعلیم، افرادی قوت،خواتین  کےلیے روزگار کے مواقع جیسے   مسائل   کے حل پر مبنی اس  رپورٹ    سے یہ  واضح رہے کہ حکومت سنجیدگی سے ان مسائل پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے ۔

 سال رواں  کے  دوران   افراط زر کی شرح کا تناسب  9٫5 فیصد کے درمیان رہا جسے  5 فیصد تک لانے کےلیے  اس پالیسی پر کام ہو رہا ہے ۔

اس حکومتی پروگرام کے تحت  امکان ہے کہ  سن 2020 تک ملکی  فی کس آمدنی  میں اضافہ ممکن  ہو سکے گا جس کے  نتیجے میں   اوسطاً  فی کس  آمدنی کی شرح13 ہزار ڈالرز تک پہنچے کا بھی امکان ہے  جس سے ترکی کا  شمار   دنیاکے  ترقی یافتہ مما لک میں ہو سکے گا۔ لہذا   قوی امکان ہے کہ   سن 2020 ترک معیشت  کے استحکام     کےلیے ایک بہترین سال ہوگا  جس  کے نتیجے میں  بے روزگاری کی شرح  میں نمایاں کمی  واقع ہو سکے گی  اور ترکی کا شمار  آمدنی کے اعتبا ر سے  ترقی یافتہ ممالک میں ہو سکے گا۔

 

 

 

 

 


ٹیگز: ترکی , معیشت

متعللقہ خبریں