عالمی معیشت45

جدید شاہراہ ریشم اور اس کے دورس نتائج

عالمی معیشت45

چین سے  اناطولیہ  کے راستے یورپ  تک جانے والی  تجارتی گزرگاہ  یعنی شاہراہ ریشم  عصروں سے مشرق  و مغرب کے درمیان تجارتی آمدو رفت میں معاون  رہی ہے  جسے دوبارہ جانبر کرنے اور 21 ویں صدی کے  تقاضوں سے ہم آہنگ کرنےکےلیے چین     نے  ایک منصوبے  کےلیے کام شروع کر دیا ہے ۔

اس منصوبے میں   بشمول ترکی 65 ممالک  بھی شامل ہیں جو کہ  دنیا کی مجموعی آبادی   کا 60 فیصد ہیں۔ اس نئے منصوبے کی تکمیل کے ساتھ ہی   نئی برآمداتی منڈیوں کا قیام عمل میں آئے گاجس سے  عالمی تجارت ایک نیا موڑ لے گی ۔

 اس منصوبے  میں ریلوےلائن،شاہراہوں ،بندرگاہوں ،ہوائی اڈوں ،گیس پائپ لائنوں  اور دیگر بنیادی   ڈھانچوں سے متعلق منصوبے شامل ہیں  جن کا مقصد   عالمی تجارت  کی آمدو رفت کو سہل  اور   سستا بنانا ہے ۔

 ایشیا اور یورپ  کے درمیان  واقع ترکی  اپنے اہم محل وقوع   کی وجہ سے  مشر ق و مغرب کے درمیان  تجارتی  رابطے   میں کلیدی  حیثیت رکھتا ہے  جس کی وجہ سے  جدید شاہراہ ریشم کے منصوبے میں  اس کی شمولیت لازمی ہے ۔ گزشتہ دنوں ہی باکو ۔تبلیسی  اور قارس ریلوئے لائن  کا افتتاح ہوا   جس کے ذریعے تقریباً دس لاکھ افراد  کی آمدو رفت  اور 6٫5 ٹن  مال برداری  کا امکان پیدا ہوگا جس میں مزید اضافے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

اس منصوبےکے تحت  سبک رفتار ریلوں کا جال بچھایا جائے گا  جس کا رابطہ   اس 3 طرفہ   ریلوے لائن سے ہوگا  جہاں سے چینی مال یورپ ممالک کو  12 تا 15 دنوں میں پہنچایا جائے گا۔

 فی الوقت چین سے یورپ    جانے والی ریلوے  لائن روس سے گزرتی   ہے   جس کا فاصلہ  اس جدید شاہراہ ریشم   کی تکمیل سے 7 ہزار کلومیٹر کم ہو جائے گا۔

 اس جدید شاہراہ ریشم    کے منصوبے سے ترکی   کی جغرافیائی لحاظ سے اہمیت  مزید بڑھ جائے گی    دیگر جانب سے  ایشیائی سرمایہ بھی ترک منڈیوں میں زیر استعمال  لایا جائے گا جو کہ ترک معیشت کےلیے ایک بہترین موقع ہوگا۔

   ترکی اس وقت تیل اور گیس کی     تجارت کے حامل منصوبوں  کو  انتہائی سرعت سے  مکمل کرنے میں مصروف ہے جس   کی اہمیت اس جدید شاہراہ ریشم میں بھی اپنی جگہ قائم ہے ۔

 وسطی ایشیا٫  قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ  ہے     جو کہ  اپنے  بنیادی ڈھانچے   کو جدید خطوط پر استوار کرتےہوئے   ترکی    کے راستے یورپ تک  اپنی وسائل  توانائی  کی تجارت  کو فروغ دے سکتا ہے  جس کے ساتھ ساتھ  ترکی میں  توانائی کے بازار حصص کا قیام  بھی عمل میں لائے جانے کا  امکان  پیدا ہوگا۔

نتیجتاً  جدید شاہراہ ریشم  میں  ترکی    کی شمولیت مشر ق و مغرب   کے درمیان  اہم گزرگاہ  کے طورپر ہوگا جس سے استفادہ حاصل کرنے  کےلیے    ترکی کو اپنے برآمداتی  حلقے میں اضافہ کرنے سمیت  توانائی کی تجارت    کے کلیدی ملک  کا کردار   ادا کرنا ہوگا۔

 

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں