ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 48

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 48

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ 48

 

 صدر رجب طیب ایردوان اور ایران کے صدر حسن روحانی نے صدر ولادیمر پوتن کی دعوت پر 22 نومبر کو  روس کا دورہ کیا  جس کی باز گشت ابھی تک جاری ہے ۔  آج کے   اس پروگرام میں  سوچی سربراہی اجلاس   کے شامی ترکمینوں اور علاقے پر  اثرات  کے  موضوع پر اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار  جمیل دوعاچ اپیک  کا  جائزہ  آپ کی خدمت میں پیش  کر رہے ہیں ۔

صدر ولادیمر پوتن کی دعوت پر 22 نومبر کو صدر رجب طیب ایردوان اور ایران کے صدر حسن روحانی نے روس کے شہر سوچی میں اہم   سربراہی اجلاس میں شرکت کی ۔ان کے اس دورے  میں  علاقائی ممالک  اور عالمی برادری نے گہری دلچسپی ظاہر کی ہے ۔   ترکی  ،روس اور  ایران  نے آستانہ میں  شام کے  مسئلے کو حل کرنے کے لیے   مذاکرات کے جس عمل کا آغاز کیا تھا وہ اب سوچی میں جاری ہے ۔  سوچی میں تینوں سربراہان کے درمیان ہونے والے اجلاس کو سرعت دینے والے متعلقہ عناصر کے کردار کو بھی مد نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔  سوچی اور  آستانہ میں 2016 میں شروع  ہونے والے عمل کے دائرہ کار میں تینوں ممالک شام میں اپنے مفادات اور موقف کے باوجود  اب تک بھر پور تعاون کیساتھ  سلسلہ مذاکرات کو جاری رکھےہوئے ہیں۔تینوں ممالک کی طرف سے تعاون کی خواہش  باعث حیرت نہیں ہے  کیونکہ اسوقت تین ضمانتی ممالک کی طرف سے شام میں جھڑپوں سے پاک پانچ علاقے   تشکیل دینے اور بعض پامالیوں کے باوجود  ملک میں فائر بندی   کروانے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ 22 نومبر کو سوچی میں ایران، ترکی اور روس کے سربراہان کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی اہم ترین وجہ شام کی علاقائی سالمیت کا تحفظ  تھا ۔  اس دائرہ کار میں سوچی اجلاس کے بعد تینوں ممالک کے سربراہان نے شام میں امن و استحکام کے قیام کے لیے سیاسی مفاہمت کی موجودگی  کے اعلان سے آستانہ مطابقت کے جاری رہنے کی نشاندہی ہوتی ہے ۔  شام میں سیاسی  میدان میں بھی اہم مرحلہ طے کیا گیا ہے ۔  تینوں سربراہان نے اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام کے مستقبل کا فیصلہ خود شامی  عوام  ہی کریں گے ۔ اگر حالات کا شامی  ترکمینوں  کے نقطہ نظر سے جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شامی ترکمین 2011 سے لیکر ابتک اپنے وقار اور آزادی کی جدوجہد میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں ۔ شام میں داخلی سیاست اور فوجی توازن کے بدلنے اور مشرق وسطیٰ کی علاقائی قوت کے توازن کی حالیہ صورتحال کی وجہ سے شام میں سیاسی حل کے  موضوع نے  فوجی مسائل پر برتری حاصل کر لی ہے ۔ اسوقت شامی ترکمینوں اور ان کی مشروع نمائندہ  "شامی ترکمین مجلس " سیاسی اور سفارتی سطح پر شام میں ترکمین عوام کے مفادات کے تحفظ  اور مستقبل کو ضمانت میں لینے کے لیے مستقبل میں  شام کے سیاسی حل  کے دوران مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کے لیے  جدوجہد کر رہی ہے ۔بلاشبہ ترکمین شامی مخالفین کےطور پر متعدد پلیٹ فارمو ں میں نمائندگی کر رہے ہیں  لیکن ان پلیٹ فارموں میں ترکمین عوام کے تحفظ کے لیے بھر پور کوششوں کے باوجود یہ کوششیں  ناکافی ثابت ہو رہی  ہیں ۔

 شام میں عربوں کے بعد ترکمین دوسرے بڑے نسلی گروپ کی حیثیت رکھتے ہیں  لیکن ماضی میں  وہ  مظلوم  گروپوں میں سے ایک تھے ۔  کسی بھی دور میں ان کا کسی نسلی یا دہشت گرد تنظیم کے ساتھ کسی قسم کا رابطہ  موجود نہیں  رہا ہے ۔ انھوں نے ہمیشہ شام کی علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا ہے اور وہ اب مذاکرات کی میز پر اپنے حقوق کا دفاع کرنا چاہتے ہیں ۔  یہ ان کا حق بجانب مطالبہ ہے کیونکہ اسوقت  شام کے مستقبل  سے متعلقہ کسی بھی اجلاس میں  انھیں نمائندگی کا حق حاصل نہیں ہے ۔

اس  دائرہ کار میں  شام کے تمام گروپوں کی شرکت کیساتھ سوچی میں جو" شامی قومی ڈائیلاگ کانگریس "منعقد ہو رہی ہے  "شامی ترکمین مجلس"  ترکمینوں کے نمائندے کے طور پر اس اجلاس  میں  شرکت کرنے کی آرزومند ہے ۔اس سلسلے میں متعلقہ حکام اور اداروں کیساتھ  کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے ۔

شامی ترکمینوں کا سوچی اور دیگر پلیٹ فارموں میں  شرکت کا اہم ترین ہدف شام کی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے دائرہ کار میں  نئے شامی   آئین میں ترکمینوں  کے وجود  کو قبول کروانا اور انھیں تحفظ دینے والی حیثیت حاصل کرنا ہے ۔  ہمارے خیال میں سب سے پہلے شامی ترکمینوں کو "   بانی عوام " کی حیثیت دی جانی چاہئیے ۔

 شامی ترکمینوں نے اعلان کیا ہے وہ اس ہدف کو پانے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل میں شام میں سیاسی استحکام کے قیام کے لیے تمام فریقوں کیساتھ سیاسی ڈائیلاگ  کرنے  کے لیے تیار ہیں  لیکن اس معاملے  میں شامی ترکمینوں کی  ریڈ لائن  یہ ہے کہ وہ شام اور ترکی کی علاقائی سالمیت کے لیے خطرہ تشکیل دینے والی کسی بھی دہشتگرد تنظیم  کیساتھ مذاکرات  میں   شامل نہیں ہونگے ۔ شام کی علاقائی سالمیت کے خلاف ریڈیکل  مذہبی اور نسلی عناصر کو شام کے مستقبل کے تعین  کے مذاکرات میں شامل نہ کرنا درست قدم ہو گا ۔ ترکمینوں نے واضح طور پر یہ کہا ہے کہ وہ شام کو تقسیم کرنے والے ہرگروپ  اور  اتھارٹی کے خلاف ہیں ۔ان کا یہ موقف  قابل تحسین ہے کیونکہ ملکی سالمیت کو نقصان پہنچانے والے نسلی اور مذہبی گروپوں کو فیڈرل حیثیت دینے  کے منفی  نتائج  کی مثال عراق میں موجود ہے ۔   یہی وجہ ہے کہ شامی ترکمین ترکمینوں سمیت تمام گروپوں کے حقوق و آزادی کا دفاع کرنے  والے  یونٹر مملکتی ماڈل کا دفاع کر رہے ہیں ۔



متعللقہ خبریں