ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 35

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 35

ترکی یوریشیاء ایجنڈہ ۔ 35

پروگرام " ترکی یوریشیاء ایجنڈہ " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ کچھ روز قبل پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نواز شریف  کو ان کے عہدے سے معزول کر دیا۔ ہم بھی اپنے آج کے پروگرام میں پاکستان کی صورتحال  اور علاقے پر اس کے اثرات کا جائزہ لیں گے۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر جمیل دوعاچ اپیک کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

پاکستان کے پانچ رکنی عدالتی بینچ نے 28 جولائی 2017 کو کئے گئے فیصلے کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ اس طرح پاکستان کے اب تک کے 17 وزرائے  اعظم کی طرح اٹھارہویں وزیر اعظم بھی اپنے پانچ سالہ عہدہ وزارت کو پورا کئے بغیر عہدہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے ۔

نواز شریف پاکستان کی دوسری بڑی کمپنی اتفاق ہولڈنگ کے مالک شریف خاندان کے رکن ہیں۔ وہ 1949 میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ لاہور اور پنجاب یونیورسٹی میں  زیر تعلیم رہے اور قانون  کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پہلی دفعہ یکم نومبر 1990 سے 18 جولائی 1993 تک، دوسری دفعہ 17 فروری 1997 سے 12 اکتوبر 1999 تک وزارت اعظمیٰ کے عہدے پر فائز رہے۔ نواز شریف تیسری دفعہ 5 جون 2013 کو پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے۔

پاکستان کی سیاست کو مکمل معنوں میں سمجھنا اور اس کا جائزہ لینا کافی حد تک دشوار کام ہے کیونکہ پاکستان کی سیاست نہایت الجھی ہوئی ساخت کی حامل ہے۔  اس الجھاو کے اسباب  میں، مقامی سیاسی ساخت کی عدم موجودگی کہ جس کا عام طور پر کالونی ازم کے بعد کے ادوار میں حکومتوں میں  مشاہدہ کیا جاتا ہے، شفاف سیاسی اداروں کی عدم موجودگی  اور ایک تواتر سے سول سیاست  پر حاوی ہونے والی فوج اور بیوروکریسی شامل ہیں۔ پاکستانی سیاست کی بنیادی خصوصیت، اعلٰی فوجی افسران، تجربہ کار بیوروکریٹ، تجارتی  شخصیات، عدالتی اراکین اور دینی شخصیات کی تشکیل کردہ بیوروکریٹک ساخت  کا نہایت درجے اثر و رسوخ والا ہونا ہے۔

پاناما  دستاویزات نے پاکستان کی بیوروکریٹک ساخت کو حکومت  کے ہاتھ پاوں باندھنے کا موقع فراہم کیا۔ پاناما دستاویزات کا وکی لیکس سے زیادہ وسیع   شکل میں جائزہ لیا گیا اور ان دستاویزات نے دنیا بھر میں اپنے اثرات چھوڑے۔ ارجنٹائن کے صدر ماوریکیو ماکری  اور  یوکرائن کے صدر پیٹرو پورو شینکو جیسے پرانے یا ابھی تک اپنے عہدوں پر برقرار 12 صدور، چین کے صدر شی جن پنگ  کے سالے  اور پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف  ان دستاویزات سے متاثر ہونے والوں میں شامل ہیں۔ نواز شریف کے کنبے کے افراد پر ٹیکس چوری اور دھاندلیوں سے بنائے گئے مال کو آف شور  اکاونٹس  میں رکھنے کے الزامات ہیں۔ پاناما دستاویزات نے دیگر حکومتوں کے برعکس پاکستان کی سیاست  کو شدت سے متاثر کیا۔

عدالت  کے دائر کردہ دعوے  کا فریم ورک بھی موضوع بحث ہے۔ ضیاء الحق کی طرف سے نافذ العمل کئے گئے پاکستان کے قانون  کے 62 ویں مادے کی شق نمبر 1/F  کے تحت نواز شریف کے سیاسی کیرئیر کو ختم کرنے کی سزا سنائی گئی۔ یہ شق کسی فرد کو ایماندار یا قابل اعتماد نہ ہونے کی وجہ سے  قومی یا صوبائی اسمبلی  کی رکنیت سے ہٹانے سے متعلق ہے۔ اصل میں دیکھا جائے  تو نواز شریف، پاناما دستاویزات کے ساتھ براہ راست منسلک نہیں ہیں لیکن ان کے بچے ان دستاویزات سے منسلک ہونے کی وجہ سے الزامات نے نواز شریف کو بھی متاثر کیا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت نواز شریف، ان کے تین بچوں، داماد  اور قریبی عزیز  اور  اس کے ساتھ ساتھ  وزیر خزانہ اسحاق ڈار  کو تاحیات سیاست میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ سنایا ہے۔ علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے پاکستان کے احتساب بیورو 'نیب'  کے نواز شریف اور ان کے کنبے کے خلاف تفتیش شروع کرنے کا فیصلہ سنایا۔

پاکستان میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیچھے طاہر القادری  تنظیم  کا ہاتھ ہونے  کے بارے میں دعوے بھی رائے عامہ میں سننے میں آتے رہے۔ پاکستان کی طاہر القادری تنظیم اور ترکی کی فیتو دہشت گرد تنظیم کے درمیان ایک دلچسپ مشابہت پائی جاتی ہے۔ پاکستان کے طاہر القادری خود کو شیخ الاسلام کے طور پر متعارف کرواتے ہیں، ان کے اسکول ہیں، ایک جماعت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ طاہر القادری ایک سیاسی  شخصیت بھی ہیں۔ طاہر القادری نے سالوں تک مساجد میں امامت کی، وعظ دئیے اور  کینیڈا میں مقیم ہو نے کے بعد پاکستان میں اپنے حامیوں کو ملک میں منتخب حکومت کے خلاف متحرک کر دیا۔ جماعت کے لیڈر طاہر القادری پاکستان میں محفوظ نہ ہونے کے دعوے کے ساتھ ایک طویل عرصے سے کینیڈا میں رہائش پذیر ہیں۔ بیلٹ بکس کے اور عوام کے ووٹ کے احترام   کو پس پشت ڈال کر طاہر القادری نے سال 2014 میں اپنے حامیوں کو سڑکوں پر نکلنے کی دعوت دی۔ احتجاجی مظاہرے اموات  کا سبب بنے۔ بین الادیان فلسفے کے حامی  طاہر القادری کا ہدف مختلف سول سوسائٹیوں کے ساتھ مل کر پھیلنا  ہے اور اس کے ساتھ ساتھ  اسے بین الاقوامی اداروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ دعوے کے مطابق طاہر القادری جماعت کے اعلیٰ سطحی نام  پاکستان میں عدلیہ اور سکیورٹی اداروں  میں بے حد اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔

پاکستان میں پیش آنے والے حالات کے پیچھے طاہر القادری کا ہاتھ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات تاحال سامنے نہیں آئی۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو بھی ہو آج پاکستان میں بیورو کریٹک ساخت کی طاقت اور اثرات سسٹم کے اندر ایک بڑا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ اپنے وجود کو برقرار رکھے ہوئے ہے  کیونکہ اسے پھلنے پھولنے کے لئے  سیاسی نظام کے اندر  موزوں ماحول میسر ہے۔ شفافیت، آزاد عدلیہ، سول کنٹرول والی فوج، مضبوط سیاسی اداروں کی عدم موجودگی ، تیزی سے بڑھتا ہوا طبقاتی فرق اور دیرپا  جمہوریت کی عدم موجودگی پاکستان کے سیاسی سسٹم کو اتنا کمزور بناتی ہے   کہ ایک تواتر سے اس نظام میں مداخلت کی جا سکتی ہے۔

ترکی اور پاکستان کے درمیان تعلقات  ، 14 اگست 1947 میں قیامِ پاکستان   کے بعدسے قریبی بھائی چارے اور دوستی کی بنیادوں پر قائم ہیں۔ سال 2017 میں ترکی اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات  کے قیام کے 70 ویں سال کے دائرہ کار میں دونوں ممالک میں مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں نظام کے مسائل کا حل بھی بلا شبہ دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو مزید بلند سطح پر لائے گا۔



متعللقہ خبریں