عالمی معیشت48

ترکی کا جوہری توانائی کا منصوبہ اور بدلتی دنیا

عالمی معیشت48

ترک صدر ایردوان نے کہا  گزشتہ  منگل نیوکلیئر پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اب نیوکلیر توانائی کی پیداوار شروع کرے گا ۔انہوں نے کہا: "اب ہم نیوکلیئر توانائی کا منصوبہ شروع کر رہے ہیں ۔ اور ہم نیوکلیئر کے میدان میں آگے بڑھتے جائیں گے ۔

انہوں نے واضع کیا کہ ترکی کے نیوکلیئر منصوبے کی مخالفت کرنا ایسے ہی ہے جیسے کہا جائے کہ ترکی توانائی کے حصول کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا رہے۔

  وزیر برائے قدرتی وسائل و توانائی   برات البائراک  نے بتایا کہ  ترکی اس وقت نیوکلیئر پاور اسٹیشن کے تین منصوبے کا کام کر رہا  

ترکی کے وزیر توانائی و قدرتی وسائل بیرات آلبائراک نے کہا ہے کہ رواں سال کے آخر یا آئندہ سال کے آغاز میں ہم آق قویو جوہری پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں توقع ہے کہ ترکی اور روس کے صدور کی شرکت سے رواں سال کے آخر یا آئندہ سال کے آغاز میں آق قویو جوہری پلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا اس بارے میں کام تیزی سے جاری ہیں

انہوں نے کہا کہ اگر ہم پلانٹ کی تعمیر کو 29 اکتوبر 2023 یعنی ترکی کے قیام کے 100 ویں سالگرہ تک مکمل کر سکے تو یہ ملک کے لئے ایک بہت باوقار تحفہ ہو گا۔توانائی میں مقامی پیداوار کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آلبائراک نے کہا کہ ہم اپنے ڈرلر بحری جہاز کی مدد سے آئندہ سال بحیرہ اسود اور بحیرہ روم میں پیٹرول کی تلاش کا کام شروع کریں گےکیونکہ ترکی کی قومی توانائی اور معدنیات پر مبنی  پالیسی اس کے مستقبل کے اہداف کی محرکاتی قوت ہے۔

وزیر توانائی نے کہا ہے کہ ماضی میں ترکی کو بڑے منصوبوں کیلیے غیر موزوں ملک کہا جاتا تھا مگر اب صورت حال قدرے مختلف ہے جس کا برآمداتی حجم اس وقت 150 ارب ڈالرزسے زیادہ ہے۔وزیر توانائی و قدرتی وسائل برات البائراک نے کہا ہے کہ ترکی قدم بہ قدم ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔

البائراک  کا کہنا تھاکہ حکومت، امن و امان اور عوامی خوشحالی سے متعلقہ منصوبوں کی تکمیل میں سنجیدہ ہے۔ ترکی توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کو اہمیت دیتا ہے جس کے نتیجے میں ملک میں بالخصوص برقی تنصیبات کے قیام میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔

وزیر توانائی نے بتایا کہ اس وقت ترکی کی شرح نمو کا تناسب 5 فیصد کے لگ بھگ ہے جس سے اس کا شمار اقتصادی و ترقیاتی تعاون کی تنظیم میں نمایاں ہے اس وقت ہمارا قدرتی گیس کی ترسیل کے نیٹ ورک کی یومیہ صلاحیت کو 190 ملین مکعب میٹر سے بڑھا کر 300 ملین مکعب میٹر کر دیا گیا ہے جسے ہم آئندہ سال 400 ملین مکعب میٹر تک بڑھانے کا ہدف رکھتے ہیں۔

 ترکی کا ہدف ہے کہ وہ  سال 2023 سے قدرتی گیس کی ترسیل کی صلاحیت کو 11 بلین مکعب میٹر تک بڑھا کر اس حوالے سے علاقے میں سب سے بڑی صلاحیت والے ممالک میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

زمانہ قریب میں ترکی نے   خود کے لیے اور خطے میں توانائی کی طلب کے لیے روس کے ساتھ  ترک فلو  اور آذربائیجان کے ساتھ  تاناپ جیسے معاہدوں پر کام شروع کر رکھا ہے جس سے ترکی   کو کافی فائدہ پہنچے گا اور وہ حصول توانائی کے طالب ممالک  کو اس کی محفوظ رسائی میں بطور راہداری  کردار ادا کر سکے گا۔

 بڑھتی معیشت کے  تناظر میں  توانائی کا حصول بھی  اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے جس کے لیے حکومت ترکی نے  ایک  قومی توانائی  اور معدنی  پالیسی  کا اعلان کیا ہے جس  میں  توانائی  کے حصول کےلیے زیادہ تر  ملکی وسائل پر انحصار کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے   اس پالیسی  میں بالخصوص قابل تجدید  توانائی کےلیے سرمایہ کاری   کرتےہوئے  جوہری تنصیبات   کے قیام   کو   ممکن بنانا بھی شامل ہوگا۔

 

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں