حالات کے آئینے میں 50

بیت الامقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت قرار دیے جانے کے حقائق و پس منظر

حالات کے آئینے میں 50

کہا جاتا ہے کہ 11 دسمبر سن  1917 کو القدس  پر قبضہ جمانے والے برطانوی جنرل  ایلن بی   نے  صلیبی  جنگوں کے اب نکتہ پذیر   ہونے کا کہا تھا۔  مشرق وسطی میں   جب افراتفری کا ماحول   حاوی  ہے تو اس دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی جانب سے مشرقی القدس کو  بھی شامل کرتے ہوئے     اس شہر کو اسرائیل کے  دارالحکومت  کے طور پر تسلیم اور اس  کے اعلان نے دنیا بھر میں  تہلکہ  مچا کر رکھ دیا ہے۔  یہ اعلان کسی ایٹم بم کے  اثرات سے  کم نہیں  ہے  جو کہ خطے میں قیامت برپا ہونے  کا موجب  بھی بن سکتا ہے۔  شاید   مشرق وسطی میں  ایک "بڑے  دھماکے"  کے اثرات  پیدا کر سکنے والے اس  اعلان کہ  آیا کہ سن 1917 کے قبضے کے بعد  ٹھیک ایک سو سال گزرنے کے  بعد   کیا جانا کیا آپ اندر کسی اشارے  کو  پوشیدہ کیے ہوئے ہے؟   اس   نکتے میں 2 نومبر سن 1917 کے بال فور ڈیکلیریشن  کے صد سال اور سن 1967  کی  جنگ کے نتیجے میں مشرقی القدس پر قبضے کی 50 ویں  سالانہ یاد  کی  رمزیت کو بھی  شامل کیا جا  سکتا ہے۔  کم  از کم یہ   بات  قطعی ہے کہ ٹرمپ اس علامت کو  بیان کر سکنے والی ایک معتبر شخصیت نہیں ہیں۔  اگر ایسا ہے تو   آیا کہ کیا پیش  رفت ہوئی کہ امریکی صدر  نے    ان ایام میں   اس طرح کا ایک فیصلہ کیا ہے۔ ؟

اگر  کنائیت  یا پھر اشاریت کی اصطلاح  قابل  یقین  نہیں  تو پھر ٹرمپ  کی انتخابی مہم کے دوران  بیت الامقدس  کو اسرائیل کے  دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کا عندیہ دینے کے بیان کو پیش کرتے ہوئے  ہم اس  سوال کا جواب تلاش کرسکتے ہیں۔ لیکن  یہ جواب "ا ب کیوں" سوال کا تسلی بخش جواب   نہ ہوگا۔

اگر آپ کے  خیال میں  نہ تو صد سالہ   علامتیت  اور نہ ہی ٹرمپ   کا اس حوالے سے  وعدہ ،  بیت الامقدس  کو   موجودہ ایام میں  دارالحکومت قرار دیے جانے   کو  حق بجانب ٹہراتا ہے۔  تو  پھر ا س سوال کا جواب  کہیں زیادہ  گہرائی میں  یعنی  چند برسوں سے مشرق وسطی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں میں  تلاش کیا  جانا  چاہیے۔ مشرق  وسطی میں    کسی موسم بہار   کا ماحول پیدا نہ کر سکنے والی " بہارِ عرب"  کے اب خطے کے سماجی  ڈھانچے میں موجودہ جاندار نسلی  و مذہبی معاشرے کے خطوط   کو  پھر کبھی نہ جوڑ  سکنے والی  علیحدگیوں اور دوریوں کا موجب بننے کی حقیقت عیاں ہے۔ بلا شبہ اب  یہ خطہ ماضی کی  طرح نہیں   رہے گا۔ تا ہم  موجودہ افراتفری کے ماحول کے بعد  ایسے یا ویسے کوئی نظام قائم ہو گا۔  امریکی  صدر کا  حالیہ  بیت المقدس  حربہ  اس ٹوٹی پھوٹی    نازک پٹی کو  تہس نہس کرتے ہوئے   اپنے ارد گرد کسی نئے  سیٹ لائٹ نظام کو قائم کرنے کے درپے   ہونے  کا مظاہرہ کرتا ہے۔   لیکن  ، برزانی کے ریفرنڈم  کرانے کے جوئے  کی طرح  یہ   عرب اور اسلامی مملکتوں  کو کھونے کے خطرات کو بھی اپنے اندر  پوشیدہ  رکھے ہوئے ہے۔

امریکی کانگرس نے سن 1995 میں   ایک قرار داد کے ذریعے  امریکی  سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت الامقدس  منتقل  کیے جانے   کی  منظوری دی تھی تو بھی  امریکی صدور نے  صورتحال کی نازکی کو  بالائے طاق رکھتے ہوئے  چھ ماہ کی مدت کی شکل میں  اس قرار داد کو ملتوی  کرنے پر ہی اکتفا کیا۔   اچھا تو اب  کیا ہوا کہ  امریکہ نے ٹھیک  22 برسوں بعد  یہ قدم اٹھایا ہے؟

امریکہ  کی بالخصوص  شام   وعراق اور  بالعموم مشرق وسطی میں   حکمت عملی غلطیوں  میں  اب بیت الامقدس کو  دارالحکومت تسلیم کرتے  ہوئے مزید ایک  سنگین  غلطی کا اضافہ کیا ہے۔  دہشت گردی اور انتہا پسندی کے نام پر  عراق، شام اور یمن  کی طرح کے ممالک  کے سرکاری نظام کو  ملیا میٹ کرتے ہوئے عملی طور پر ان ملکوں کی تقسیم    سب سے زیادہ امریکہ کے خطے میں خریف روس اور ایران کے   لیے بار آور   ثابت ہوئی ہے۔  روس نے شام پر اپنے اثر رسوخ کو  تقویت دیتے ہوئے   تقریباً شام کے  تمام تر   مغربی علاقوں  میں عملی  مفہوم میں  اپنی اجارہ داری قائم کر رکھی ہے۔  دوسری جانب ایران نے عراق اور شام میں اپنے   اثر رسوخ کو  مزید تقویت دیتے ہوئے  لبنان اور حزب اللہ کے ذریعے  زمینی  راستے  اسرائیل تک رسائی کا موقع حاصل کیا  ہے تو  یہ یمن اور بحرین کی طرح کے ملکوں کی وساطت سے  امریکہ کے خلیج میں  اتحادیوں کا محاصرہ کرتے ہوئے   خطرہ  تشکیل دے رہا ہے۔ امریکہ  نے اپنے اتحادی و سٹریٹیجک  شراکت دار  ترکی کو شام کے معاملے میں تنہا چھوڑ رکھا ہے تو  یہ ملک کے لیے خطرہ تشکیل دینے والی  PKK، پی وائے ڈی /وائے پی جی اور فیتو کی طرح کی  دہشت گرد تنظیموں  کی پشت پناہی کرتے ہوئے    اپنے  اہم ترین اتحادی کو روس اور ایران کے ساتھ تعاون   کرنے پر مجبور    کر رہا ہے۔   اس  پیش رفت میں خلیج میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی   جانب سے     پابندیاں    عائد کیے جانے والے قطر کی صورتحال   کو بھی شامل کر  لیں۔

امریکہ کی  مشرق وُسطٰی میں غلط  پالیسیوں کے نتیجے  میں قائم ہونے والے ترکی، روس، ایران اور قطر بلاک کے خلاف  ،سعودی عرب کی قیادت میں  خلیجی ممالک   سمیت مصر اور اسرائیل    پر مشتمل   بلاک  قائم ہو چکا ہے۔ داعش   کے اثر رسوخ  کا خاتمہ ہونے    کے دوران اٹھائے جانے والے اقدامات ، ٹرمپ  کی قیادت میں  امریکہ، محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی عرب  اور اسرائیل کے درمیان حالیہ ایام میں  منظر عام پر   آنےو الی مطابقت   کی پیداوار کی طرح  دکھائی دیتا ہے۔  کیونکہ ایران  کا علاقے  میں حالیہ اثر رسوخ سب سے زیادہ اسرائیل، سعودی عرب اور امریکہ  کے لیے خطرہ تشکیل دیتا ہے۔

حریری کو مستعفی ہونے پر مجبور کرنا اور محمود عباس  کو فلسطینی انتظامیہ کے نام پر قبول کیا جانا،  امکان نہ ہونے والے امن معاہدے  پر مجبور کرنے کو اس مطابقت کے ساتھ  بیان کیا جا سکتا ہے۔  کیونکہ محمود عباس   کو  حالیہ ایام میں مشرقی بیت الامقدس  کے بجائے شہر کے جنوب  مشرق میں  واقع ابو دیس قصبے   کو فلسطین کے صدر مقام   کے طور پر قبول کیے جانے پر مجبور کیا جانے لگا ہے۔  جزیرہ سینائے  کے  ایک حصے کو فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے  کے ذریعے مصر  سے اس بلاک کی تشکیل میں ممدو معاون ہونے کا مطالبہ کیا گیا ۔ مصر  کے ماضی قریب میں   بحر احمر  کے سٹریٹیجک  جزائر کو سعودی عرب کی ملکیت  میں دینے     کا بھی   اسی مطابقت کے دائرہ عمل میں  جائزہ لیا جانا چاہیے۔  اس بات کا احتمال قوی ہے کہ الا سیسی نے  بھی اس سمجھوتے  کی وساطت سے  مالی امداد اور سیاسی   حمایت  حاصل کرنے کے زیر مقصد   اپنے اقتدار کو تقویت  دینا چاہا ہو گا۔

تا ہم    گھر کا  یہ حساب و کتاب  ہمیشہ مشرق وسطی کی منڈی   کے ساتھ ہم آہنگی  قائم نہیں کر سکتا۔  ٹرمپ نے  بیت الامقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت   تسلیم کرتے ہوئے    شطرنج کی چال چلی ہے۔ بلا شبہہ ترکی سمیت اردن اور مسلم اُمہ کے متعدد ممالک نے  اس فیصلے  پر سخت رد عمل  کا مظاہرہ کیا ہے۔  تاہم یہاں پر اصل اہم چیز مصر اور سعودی عرب  کے عوام اور انتظامیہ  کا مؤقف  ہے۔ مصری  اور سعودی عوام   نے  مذکورہ فیصلے پر شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے تو    ملکی انتظامیہ کا رد عمل مشرق وسطی  میں  توازن  کو بگاڑ سکتا ہے۔

قصہ مختصر بیت الامقدس میں امن کےقیام   تک  مشرق وسطی میں  امن و امان کا ماحول قائم ہونا نا  ممکن ہے۔



متعللقہ خبریں