عالمی معیشت49

ترکی کی معاشی ترقی اور دنیا

عالمی معیشت49

پسماندہ اور ترقی پذیر ممالک کے سرمایہ کھینچنے، پیداوار دینے اور ترقی کرنے کے لئے مختلف انفراسٹرکچر مثلاً سڑکیں، ہوائی اڈے، ریلوے ، پانی ،بجلی ، گیس وغیرہ میں سرمایہ کاریاں کرنا ضروری ہوتا ہے۔ ان میں سے توانائی کے سیکٹر کی سرمایہ کاریاں اندرون ملک کے سرمایہ کاروں اور شہریوں کے لئے بھی اور بیرون ملک سے آنے والے سرمایہ کاروں کے لئے بھی ایک اہم عنصر ہے۔ توانائی کے سیکٹر میں بھی توانائی کی اہم ترین شکل بجلی کی توانائی ہے۔ گھریلو اور صنعتی استعمال کے لئے بجلی مختلف شکلوں سے حاصل کی جا رہی ہے۔ بجلی کی پیداوار ،پانی، ہوا اور سورج کی مدد سے قدرتی طریقے سے اور قدرتی گیس، کوئلہ، لگنائیٹ اور پیٹرول سے چلنے والے پاور پلانٹوں اور جوہری پلانٹوں کی مدد سے دی جاتی ہے۔

ترکی دنیا کی سب سے بڑی 18 اقتصادیات میں سے ایک کی حیثیت سے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے۔ جمہوریہ ترکی اپنے قیام کے 100 ویں سال یعنی 2023 تک پہلی 10 اقتصادیات کی صف میں شامل ہونے کا ہدف رکھتا ہے۔ اس مقصد کے ساتھ گذشتہ 10 سال میں انفراسٹرکچر سرمایہ کاریاں بھی کی گئی ہیں اور متعدد پیداواری منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ ترقی کی سطح میں اضافہ کیا گیا ہے اور اس طرح بڑھتی ہوئی توانائی کی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ترکی نے نجی شعبے  میں بھی اور سرکاری وسائل کے ساتھ بھی سرمایہ کاری کے ایک بڑے حصے کو مکمل کر لیا ہے اور باقی ماندہ حصہ بھی تکمیل کے مراحل میں ہے۔ قدرتی گیس کے ساتھ بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹ، پانی کی قوت سے بجلی پیدا کرنے والے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ، قدرتی گیس سے بجلی پیدا کرنے والے تھرمک پلانٹ، ہوا کی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والی ونڈ ٹربائینیں ، شمسی توانائی سے بجلی کی پیدوار اور آق کویو جوہری پاور پلانٹ جس کا سمجھوتہ طے پا گیا ہے، یہ سب اسی مقصد کے تحت عمل میں لائے جانے والے منصوبے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ توانائی کے سیکٹر میں پیداواریت میں اضافے کے لئے متعدد بیراج بنائے گئے ہیں اور قائم شدہ پیداواری پاور پلانٹوں کی نجکاری کی گئی ہے۔ بجلی کی تقسیم کے بھی علاقائی ٹینڈر کھولے گئے ہیں جن کے ساتھ بہت سے غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کاروں نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

 

ترکی کے سال 2023 سے متعلق توانائی کے اہداف کچھ اس طرح ہیں:

1۔ کُل قائم شدہ پاور صلاحیت کو 120 جیگا واٹ تک پہنچانا ۔

2۔ قابل تجدید توانائی کے وسائل کے ساتھ پیدا کی گئی توانائی کے حصے کو 30 فیصد تک بڑھانا

3۔ پانی کی طاقت سے پیدا کی جانے والی بجلی کی پیداوار کو سب سے بلند سطح پر لانا

4۔ ہوا کی طاقت سے قائم شدہ پاور صلاحیت کو 20 ہزار میگا واٹ تک پہنچانا

5۔ 600 میگا واٹ جیوتھرمل اور 3 ہزار میگا واٹ شمسی توانائی سے بجلی پیدا کرنے والے پلانٹوں کا قیام

6۔ بجلی کی ترسیلی لائن کی طوالت میں اضافہ کرنا

7۔ بجلی کی ترسیل کے ڈیجیٹل نیٹ ورک کے استعمال میں اضافہ

8۔ قدرتی گیس کے ذخیرہ کی صلاحیت کو 5 بلین کیوبک فٹ تک بڑھانا

9۔ منڈی کی طرف سے بجلی کی قیمتوں کا ٹھیک تعین کئے جانے کے لئے توانائی ایکسچینج مارکیٹ قائم کرنا

10۔ جن جوہری پلانٹوں کے ٹینڈر مکمل ہو چکے ہیں ان پر کام شروع کیا جانا اور نئے پلانٹوں کے لئے ٹینڈر کھولنا

11۔ کوئلے کی توانائی سے قائم شدہ صلاحیت کو دو گنا کرنا

 

سال 2023 کے اہداف کے ساتھ جو کام توانائی کی پیداوار کے لئے کیا جا رہا ہے اس کا مقصد شہریوں کے لئے بھی اور سرمایہ کارکے لئے بھی توانائی کی مالیت کو کم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ متعلقہ منصوبے ملک کے اندر تعمیرات کے سیکٹر میں بھی اور دیگر سیکٹروں میں بھی روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ترکی علاقائی ممالک کے مقابلے میں قدرتی گیس اور پیٹرول جیسے قدرتی وسائل کے حوالے سے غریب ملک ہے اس وجہ سے توانائی میں بیرونی انحصار کی تلافی قدرتی اور توانائی کے وسائل میں سرمایہ کاری کر کے کرنے کا ہدف قائم کیا گیا ہے۔ اس وسیلے سے ملکی وسائل کے موئثر استعمال سے ملکی حوالے سے توانائی کے لئے کی جانے والی ادائیگیوں میں بچت ہو گی۔

 

نتیجہ یہ کہ توانائی کا سیکٹر ترقی پذیر ممالک کی اقتصادیات میں مستحکم اضافے کے لئے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ترقی پذیر ترکی کی اقتصادیات میں بھی ترقی کے دوران سامنے آنے والی توانائی کی طلب کو پورا کرنے کے لئے متعدد سرمایہ کاریاں کی جا رہی ہیں۔ حالیہ 10 سالوں میں توانائی کے سیکٹر میں بہت پیش رفت ہوئی ہے ۔ خاص طور پر توانائی کے لئے پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاریوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جس کی وجہ اندرون اور بیرون ملک کے متعدد سرمایہ کاروں کی طرف سے اس سے دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ توانائی کے سیکٹر میں کی جانے والی سرمایہ کاریاں روزگار میں بھی اضافہ کر رہی ہیں اور شہریوں کے معیار زندگی کو بھی بلند کر رہی ہیں۔ توانائی کی سرمایہ کاریوں کی وجہ سے توانائی کے لئے بیرون ملک ادائیگیوں میں کمی آتی ہے اور ملکی اقتصادیات زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔

 



متعللقہ خبریں