پاکستان ڈائری - 50

ماہ دسمبر میں سانحہ اے پی ایس پاکستانی تاریخ کا ایک تکلیف دہ باب ہے ۔سولہ دسمبر 2014 کو پاکستان کے قلب پر وار کیا گیا ۔پھول جیسے بچے یونیفارم میں گئے اور واپس کفن میں آئے

پاکستان ڈائری - 50

پاکستان ڈائری - 50

ماہ دسمبر میں سانحہ اے پی ایس پاکستانی تاریخ کا ایک تکلیف دہ باب ہے ۔سولہ دسمبر 2014 کو پاکستان کے قلب پر وار کیا گیا ۔پھول جیسے بچے یونیفارم میں گئے اور واپس کفن میں آئے ۔ نیک دل اساتذہ نئ نسل کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے ہوئے سفر آخرت پر روانہ ہوگئے ۔ہم ان تمام شہید اساتذہ، طالب علموں اور کالج اسٹاف کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں جنہوں نے اپنی جان کا نذارنہ اس پاک وطن کے لئے پیش کردیا۔

 


 

اس بار پاکستان ڈائری میں ہم سانحہ آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ پشاور کے شہید اساتذہ کی زندگی پر روشنی ڈالیں گے ۔سانحہ آرمی پبلک سکول میں درس و تدریس کے دوران جب دہشتگردوں نے حملہ کیا تو 12 اساتذہ نے بھی اس حملے کے نتیجے میں جام شہادت نوش کیا ۔اپنے طور پر نہتے اساتذہ نے طالب علموں کو بچانے کی کوشش کی لیکن دہشتگردوں کی فائرنگ سے سکول میں 144 قیمتی جانیں جہان فانی سے چلی گیں ۔

 

 

شہید پرنسپل طاہرہ قاضی

یکم جولائی 1951 کو مردان میں پیدا ہوئیں. پشاور یونیورسٹی سے ایم انگلش کیا.دوران تعلیم ہی تدریس سے ناطہ جوڑ لیا.24 اکتوبر 1980 کو آرمی آفیسر کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں ۔اللہ تعالٰی نے انہیں اور لیفٹنٹ کرنل قاضی کو تین بچوں سے نوازا.دو بیٹے اور ایک بیٹی.1994 میں اے پی ایس ورسک روڈ سے منسلک ہوئیں اور اپنی شہادت تک وہیں پڑھایا.ٹیچر سے لیکچرر پھراسٹنٹ پروفیسر سے وائس پرنسپل پھر 2006 سے وہ اے پی ایس کی پرنسپل تھی.

اسسٹنٹ پروفیسر شہناز نعیم شہید

شہناز نعیم 1995 سے اے پی ایس کے ساتھ منسلک تھیں.کمپیوٹر سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کی.آرمی پبلک سکول و کالج ورسک روڈ میں وہ طالب علموں کو وہ کمپیوٹرز پڑھاتی تھیں.1995 میں سرجن نعیم کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئی. دو بیٹوں اور ایک بیٹے کی ماں تھیں.گھریلو ذمہ داریوں کے ساتھ شہناز نعیم نے درس و تدریس بھی جاری رکھی سینر استاتذہ میں سے ایک تھیں ۔

لیکچرار محمد سعید شہید 

 

 

لیکچرر محمد سعید  اے پی ایس ورسک روڈ پشاور  کے قیام کے ساتھ ہی اس کے ساتھ وابستہ ہوئے۔سکول اور کالج ونگ میں استاد محمد وسعید اسلامیات پڑھاتے تھے۔پشاور میں پیدا ہونے والے محمد سعید پانچ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبر تھے۔انکی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔محمد سعید نے ایم اسلامیات کیا۔انہیں عربی انگریزی اور چینی زبان پر عبور حاصل تھا۔

لیکچرار نواب علی شہید 

سر نواب 1969 میں چارسدہ میں پیدا ہوئے.میتھس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی.آرمی پبلک سکول ورسک روڈ سے سولہ  سال سے منسلک تھے.پندرہ سال پہلے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اورانکے لواحقین میں  بیوہ ایک بیٹا اور دو جڑواں بیٹیاں شامل ہیں ۔ 

سحر افشاں شہید 

سحر افشاں شہید ۲۳ نومبر ۱۹۸۱ میں پشاور میں پیدا ہویئں۔شروع سے پڑھایی میں بہت بہترین اور اردو سے خاص لگاو۔بچپن سے ہی یہ ٹھان لی کہ میں اردو ادب میں ہی ماسٹرز کروں گی۔ ۔2006 میں ایم اے کرنے کے بعدتدریس کا شعبہ اختیا ر کیا اور آرمی پبلک سکول میں آٹھویں نویں میٹرک فرسٹ ایئر کو اردو پڑھاتی تھیں۔کویی بھی تقریب ہو انتظامات سحر افشاں کو ملتے۔بیت بازی ، مقابلہ مضمون نویسی اور مباحثوں کی تیاری بھی طالب علموں کو سحر ہی کرواتیں۔

 

صائمہ طارق شہید  

صائمہ طارق نے پہلے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور بعد میں ایجوکیشن میں ایم فل۔انیس سو اٹھانوے سے تدریس کا آغاز کیا ۔پاک فوج کے بریگیڈیر طارق سعید کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور اپنے شوہر کی ٹرانسفر کی وجہ سے پشاور میں سکونت اختیار کی اور چھبیس اکتوبر کو آرمی پبلک سکول ورسک روڈ جوائن کیا۔آٹھویں جماعت کی کلاس ٹیچر ہونے کے ساتھ دیگر سکشینز کو انگریزی پڑھاتی تھیں۔

بینش عمر شہید 

پشاور کی اٹھایس سالہ بینش عمر شہید  نے کمپیوٹر ساینس میں ایم اے کیا۔ عمرزیب بٹ کے ساتھ رشتہ ازداوج میں منسلک ہویی اور اللہ نے تین ببیٹوں سے نوازا ۔ تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور انگریزی ادب  میں ماسٹرز کیاآرمی پبلک سکول پشاور میں تدریس کا آغاز کیا اور آٹھویں جماعت کو کمپیوٹر پڑھاتی تھیں۔

صوفیہ حجاب شہید  

صوفیہ حجاب شہید نے ڈبل ایم کر رکھا تھا ایک آئی آر اور دوسرا اردو ادب میں .گذشتہ دس سال سے درس و تدریس سے وابستہ تھیں. اے پی ایس میں چار سال سے اردو اور سوکس پڑھا رہی تھیں.سولہ سال سے وکیل امجد سہیل کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک تھیں ۔ان کی دو بیٹاں تتہیر سہیل اور فروا سہیل ہیں جوکہ کالج میں زیر تعلیم ہیں۔

 

 

سیدہ فرحت بی بی شہید   

سیدہ فرحت حافظ قرآن، ایم اے اسلامیات، ایم اےعربی اور بی ایڈ تھیں۔ 1996ء میں سید عابد علی شاہ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔ ان کے بیٹے سطوت اور باقر بھی اے پی ایس میں زیر تعلیم رہے۔سانحہ اے پی ایس میں وہ شہید ہوییں ان کے دونوں بیٹے سانحے میں زخمی ہویے۔

 

حفصہ خوش شہید 

 حفصہ نے آنکھ ہی پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر کہ ہاں کھولی35 سال والد نے پشاور یونیورسٹی میں شماریات پڑھتے رہے .تعلیمی ماحول کی وجہ سے حفصہ کے دل میں بھی پڑھنے کی امنگ مزید بڑھ گئ.پہلے زولوجی میں ماسٹرز کیا پھر ساتھ میں بی ایڈ بھی کیا اور ایم فل ان بائیو ٹیکنالوجی ابھی جاری تھا. کئریر کی بات آئی تو حفصہ نے اپنے والد سے مشورے کے بعد درس و تدریس کو چنا.اس کے بعد ان کی نسبت طے کردی گئ مارچ میں ان کی شادی ہونی تھی لیکن موت نے مہلت نا دی۔

سعدیہ گل خٹک شہید

سعدیہ گل خٹک 1988 میں کرک میں پیدا ہوئیں.چھ بہن بھائیوں میں ان کا نمبر تیسرا تھا.ابتدائی تعلیم پشاور میں حاصل کی .یونیورسٹی آف پشاور سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا اور بی ایڈ بھی کیا. برٹش کونسل کی ممبر تھیں.پڑھائی کے ساتھ ساتھ بہترین مقرر تھیں.تقریری مقابلوں میں ہمیشہ حصہ لیتی.کتابوں اور انگریزی ادب سے خاص لگاو تھا.امور خانہ داری میں ماہر تھیں ہر طرح کے کھانے بنا لیتی.اگست دو ہزار چودہ میں اے پی ایس جوائن کیا تھا۔

حاجرہ شریف شہید 

حاجرہ شریف 28 اگست 1986 کو پشاور میں پیدا ہوئیں.چار بہنوں اور تین بھائیوں میں ان کا نمبر سیکنڈ لاسٹ تھا.والدہ وفات پاچکی ہیں اور والد پی ٹی وی سے ریٹائر نائب قاصد ہیں.گورنمنٹ سکول نمبر 1 کینٹ پشاور سے میٹرک تک  تعلیم حاصل کی.گورنمنٹ ڈگری کالج کوہاٹ روڈ سے پری میڈیکل کا امتحان پاس کیا.گورنمنٹ سٹی گرلز ڈگری کالج گلبہار سے بیالوجیکل سائنس میں بی ایس سی کیا.ماسٹر آف کیمسٹ انہوں نے اسلامیہ کالج پشاور سے کیا.



متعللقہ خبریں