پاکستان ڈائری - 02

ماحولیاتی آلودگی کے تدارک  حوالے سے اقدامات اٹھانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کو بھی اس میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ماحولیاتی آلودگی ایکو سسٹم اور ماحول میں بگاڑ پیدا کرتی ہے

پاکستان ڈائری - 02

پاکستان ڈائری - 02

دنیا میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ تشویشناک حد تک زیادہ ہے۔اس کی وجہ آبادی میں اضافہ، جنگلات کی کٹائی اور ایسی انسانی سرگرمیاں ہیں جو ماحول کے لئے نقصان دہ ہیں ۔ماحولیاتی آلودگی کے تدارک  حوالے سے اقدامات اٹھانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کو بھی اس میں حصہ ڈالنا ہوگا۔ماحولیاتی آلودگی ایکو سسٹم اور ماحول میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کی 5 بڑی اقسام ہیں۔

زمینی آلودگی 

فضائی آلودگی 

آبی آلودگی 

شور کی آلودگی 

تابکار عناصر کی آلودگی 

آلودگی ہونے کی سب سے بڑی وجہ انسانی سرگرمیاں  اور غیر قدرتی عوامل ہیں۔جنگلات کی کٹائی،کارخانوں اور ٹریفک کا دھواں ، سگرٹ نوشی، نیوکلیر ہتھیاروں کا استعمال،مصنوعی کھادیں، زرعی ادوایات، صنعتی فضلہ و گیس ماحول کے توازن بگاڑ رہے ہیں ۔ان تمام سرگرمیوں کا ماحول پر فوری اثر بھی دیکھا جاتا ہے اور لانگ رن میں بھی اثرات نظر آتے ہیں ۔فوری اثرات میں سموگ، سانس ، آنکھوں کی بیماریاں، جلدی امراض،دل کے امراض شامل ہوتے ہیں اور آگے چل کر زمین بنجر ہونا شروع ہوجاتی ہے ، آبی ذخائر آلودہ ہوجاتے ہیں اور آلودگی کے حیاتیاتی، جسمانی اور جینیاتی اثرات نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں ۔یہ ہی عوامل آگے چل کر انسانوں میں کینسر کا باعث بنتے ہیں ۔ آلودگی کے اثرات صرف انسانوں تک محدود نہیں رہتے بلکے چرند، پرند بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں اور فضا، زمین اور سمندر دریاؤں میں رہنے والے جانوروں اور پرندوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہوجاتے ہیں ۔ایکو سسٹم بری طرح متاثر ہوجاتا ہے۔

روزمرہ استعمال کی چیزوں، اے سی ، فریج، پرفیوم اور کیڑےمار ادوایات میں سے نکلنے والی سی ایف سی گیس بھی ماحول کو نقصان پہنچارہی ہے اور اوزون کی تہہ کو کمزور کررہی ہے ۔تابکاری کی آلودگی بھی لوگوں میں کینسر کو عام کر رہی ہے خواتین میں بانجھ پن اور بچوں میں معذوری بھی اس سبب ہوتی ہے۔شور کی آلودگی لوگوں میں بہرہ پن کا باعث ہے۔یہ تمام ماحولیاتی آلودگی کی اقسام گلوبل ورمنگ میں اضافہ کررہے ہیں جس سے موسموں کا توازن بگڑ گیا ہے اور درجہ حرارت زیادہ ہوگیا ہے 

بات کی جائے تو پاکستان کی تو حال ہی میں سموگ نے پنجاب کو لپیٹ میں لئے رکھا جس میں بہت سی قیمتیں جانیں بھی ضائع ہوئیں ۔اس وقت ملتان میں انفلوینزا پھیلا ہوا ہے  ۔یہ بات یہاں پر لمحہ فکریہ کہ عوام کو اس بات کا تدارک بھی نہیں کہ آلودگی ان کی جان کی دشمن ہے۔پاکستان کے صرف 3 فیصد رقبے پر جنگلات ہیں جوکہ آبادی اور رقبے کے لحاظ سے کم ہیں ۔صنعتوں کے قیام کے دوران اس بات کا خیال نہیں کیا جاتا کہ اسکے ماحول پر اثرات کو کیسے کم کیا جاسکتا ہے۔سلفر ڈائی آکسائیڈ ، کلورین،سلفر ٹرائی آکسائیڈ، گرد غبار  اور ہائیڈرو کاربن فضا کو آلودہ کررہے ہیں ۔

فصلوں میں بھی زہریلے کمیکلز اور مصنوعی کھادوں نے غذائی آلودگی کو عام کردیا ۔آبادی 20 کروڑ ہے جن کی آمدورفت و سرگرمیوں نے ماحولیاتی آلودگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔حال میں جاری تعمیراتی منصوبوں کے لئے اسلام آباد، لاہور میں ہزاروں درخت کاٹ دئے گئے ۔

یہاں پر ماحولیاتی اداروں کا کردار افسوسناک ہے وہ خاموش تماشائی کے طور پر اشرافیہ کے سامنے بے بس نظر آتے ہیں ۔

اس ضمن بہت ضروری ہے کہ باشعور لوگ اور میڈ یا عوام میں ماحول دوست سرگرمیوں کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے ۔صنعتی یونٹوں کا قیام شہری آبادیوں سے دور کیا جائے ۔صنعتی علاقوں اور رہائشی علاقوں میں خطے سے مطابقت رکھتے درخت لگائیں جائیں ۔مضر گیسوں اور مادوں کے اخراج پر فیکٹریوں کو جرمانے کئے جائیں ۔شہریوں کو گاڑیوں کی ٹیونگ کا پابند کیا جائے ۔کچرا جلانے کی ممانعت ہو اور پلاسٹک کے شاپر پر پابندی لگائے جائے۔دریاوں اور دئگر آبی ذخائر میں کچرا، سیوریج اور کمیکلز پھیکنے پر پابندی ہونی چاہیے ۔دریا کے کنارے تفریح گاہوں میں آلودگی پھیلانے والوں پر بھی جرمانے عائد کئے جائیں ۔جنگلات کی کٹائی پر پابندی عائد کی جائے ۔ہمیں متبادل انرجی کے سورس پر کام کرنا ہوگا ۔پبلک مقامات پر تمباکو نوشی اور شیشے پر پابندی ہونی چاہئے ۔اگر ماحول دوست سرگرمیاں نہیں کی گئ تو پاکستان میں آگے چل کر اموات کی بڑی وجہ آلودگی ہوگی ۔درخت لگائیں ماحول کو تحفظ دیں ۔قدرتی وسائل کی حفاظت کریں  ۔

 



متعللقہ خبریں