قدم بہ قدم پاکستان - 02

آئیے! آج آپ کو آزاد کشمیر کی خوبصورت بنجوسہ جھیل کی سیر کرواتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 02

قدم بہ قدم پاکستان - 02

السلام علیکم۔ آئیے! آج آپ کو آزاد کشمیر کی خوبصورت بنجوسہ جھیل کی سیر کرواتے ہیں۔

جنت نظیر کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے صرف 17 کلو میٹر دور خوبصورت بنجوسہ جھیل موجود ہے۔ یوں تو آزاد کشمیر کا سارا علاقہ خوبصورت اور حسین ہے لیکن بنجوسہ جھیل کا نظارہ آپ پر سحر طاری کر د ے گا۔ راولا کوٹ کے دل میں واقع یہ پیالہ نما دلکش جھیل لہلہاتے درختوں‘ پُرکیف نظاروں‘ جدید عمارتوں اور خوشگوار فضاﺅں کے ساتھ ہر آنے والے کا دل موہ لیتی ہے۔ راولا کوٹ اسلام آباد سے 135 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ راولا کوٹ کی خوبصورتی دیکھ کر انسان سفر کی تمام تھکن بھول کر تازہ دم ہو جاتا ہے اور وہاں سے بنجوسہ جھیل کا سفر دلکش نظاروں کے حصار میں مکمل ہوتا ہے۔

 بنجوسہ جھیل کے آغاز سے نیچے اترتی‘ بل کھاتی سڑک کے کنارے سیاحوں کے بیٹھنے کے لئے بنچ اور بچوں کے لئے جھولے لگے ہوئے ہیں۔ بنجوسہ جھیل تقریباً 800 فٹ لمبی اور تین سو سے پانچ سو فٹ تک چوڑی اور سطح سمندر سے 1980 میٹر بلند ہے۔ یہ جھیل پُرسکون ماحول کے متلاشی افراد کے لئے نعمت سے کم نہیں۔ سبزے سے لدے پہاڑ‘ گھنے درخت‘ شمال کی سمت سے پہاڑوں کی چوٹیوں کی اوٹ سے نکلتا چاند اور جھیل میں اس کا جھلملاتا عکس‘ تازہ ہوا‘ جھیل میں چلتی کشتیاں‘ پانی سے سر نکالتی مچھلیاں آپ کو مبہوت کر کے رکھ دیں گی۔ جھیل کنارے موجود ریسٹ ہاﺅس اپنی سرخ چھت کے ساتھ اپنا عکس جھیل میں ڈالتا ہے تو دلفریب نظارا پیدا ہوتا ہے۔ جھیل کے پانی کو محفوظ رکھنے کےلئے جھیل کے ارگرد چالیس فٹ بلند کنکریٹ کے بند باندھے گئے ہیں۔ جھیل چار جگہ سے پہاڑی ڈھلوانوں میں چلی جاتی ہے۔ یہاں کشتی رانی کی سہولت بھی موجود ہے۔ سیاحوں کو چاہیے کہ جھیل کے چاروں اطراف کا چکر ضرور لگائیں اور ذیلی جھیلوں میں بھی کشتی رانی سے لطف اندوز ہوں۔ صرف مغربی طرف سے ہو کر ہی نہ چلے جائیں ورنہ آپ اس کے بہت سے حسین نظاروں سے محروم رہ جائیں گے۔ جھیل میں خوبصورت مچھلیاں بھی موجود ہیں جو وقفے وقفے سے پانی سے سر نکال کر گویا خود بھی جھیل کے خوبصورت نظاروں سے لطف اندوز ہوتی ہیں۔ اس پُرسکون اور اور سحر انگیز جزیرے کے مناظر سیاحوں پر مستی اور بے خودی کی کیفیت طاری کر دیتے ہیں۔ جھیل کے کنارے کنارے خوراک کی تلاش میں چلتی بطخیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں۔

موسم سرما میں یہاں سیاحوں کی آمدورفت قدرے کم ہو جاتی ہے لیکن سرد موسم میں یہاں آنے والے بھی خوب لطف اندوز ہوتے ہیں۔ مارچ کا مہینہ شروع ہوتے ہی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہو جاتا ہے جبکہ جون جولائی میں یہاں سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد آتی ہے۔ یہاں سیاحوں کو سیر کروانے کے لئے خوبصورتی سے سجائے گئے گھوڑے بھی دستیاب ہیں۔ فضا میں اُڑتے اُڑتے ابابیل وقفے وقفے سے جھیل میں ڈبکی لگا کر خوراک تلاش کرتے ہیں۔

طلوع اور غروب ہوتے سورج کو دیکھنے کے لئے سیاح خصوصی انتظام کرتے ہیں۔ طلوع آفتاب کے وقت مشرقی سمت اور غروب آفتاب کے وقت مغرب کی سمت جھیل کے کناروں پر طراوٹ بخش نظارے گویا سیاحوں کی یہاں آنے کی قیمت ادا کر دیتے ہیں۔ پاکستان کے ایسے بے شمار خوبصورت تفریحی مقامات اندرونی و بیرونی سیاحوں کی نظروں سے پوشیدہ ہیں۔ اگر حکومت سیاحت کو فروغ دے اور ایسے جنت نظیر مقامات تک سیاحوں کی رسائی کو یقینی بنائے تو دنیا بھر سے سیاح بڑی تعداد میں ادھر کا رخ کر لیں جس سے نہ صرف پاکستان کا سوفٹ امیج دنیا بھر میں اجاگر ہوگا بلکہ قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور کوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجئے۔ اللہ حافظ۔

 



متعللقہ خبریں