عالمی نقطہ نظر 05

عالمی طاقتوں کی مدد سے مشرقی وسطی کے مسئلے کا حل کیوں ممکن نہ ہو

عالمی نقطہ نظر 05

عالمی نقطہ نظر 05

Küresel Perspektif 05

KÜRESEL AKTÖRLERLE BÖLGESEL KRİZLER NASIL ÇÖZÜLEMEZ?

 

Prof Dr.Küdret Bülbül

 

گزشتہ ہفتے  ہم نے عالمی طاقتوں کی طرف سے  مشرق وسطی کے بحران کے  حل میں ناکامی کو موضوع بھچ بنایا تھا جس کا آج پن مزید جائزہ لینے کی کوشش  کریں گے۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ یلدرم با یزید یونیورسٹی   کے  شعبہ سیاسی علوم    کے پروفیسر ڈاکٹر   قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا جا رہا ہے۔

زمانہ قریب  تک  ان تمام  عالمی طاقتوں نے   اپنے نام نہاد اتحاد سے جس بھی شور ش زدہ ملک   پر ہاتھ ڈالا وہاں حالات مزید خراب ہو گئے۔ ان ممالک     کی اکثریت  زیادہ اموات، نقل مکنی اور اقتصادی بحران کی صورت میں  ہمارے سامنے ہے۔

 سویت یونین کا حصہ بخرہ ہوگیا  لیکن  اس کے ساتھ افغانستان پر اس کے قبضے سے پیدا شدہ بحران تاحال  کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے ۔

عراقی لیڈر صدام حسین ایک آمر تھا یہ صحیح ہے   جس کے زیر آمریت میں  انسانی حقوق صلب کیے گئے  لیکن یہ  بھی  اب ضرور کہا جا رہا ہے کہ عراقیوں کی کتنی تعداد کے ذہنوں میں یہ  سوال ابھر رہا ہے کہ   عالمی طاقتوں کے عراق پر حملے    کے نتیجے میں سامنے موجود عراق زیادہ بہتر تھا یا صدام کے دور کا ۔

ان  عالمی طاقتوں نے  عراق کا حلیہ بگاڑ دیا جس کی تازہ مثال اب ہمیں لیبیا کی صورت میں بھی نظر آتی ہے   جہاں کی عوام اپنے ملکی مستقبل پر انگلی  اٹھارہے ہیں۔

 اور جہاں تک شام کا سوال ہے  تو  وہاں کی صورت حال  کافی ابتر ہے  جہاں لاکھوں انسان  ہوس کی بھینٹ چڑھ گئے۔  تہذیب و تمدن کا گہواراہ دمشق  اور حلب   جیسے شہر کھنڈر بن چکے ہیں جس کا مستقبل بھی تاریک نظر آتا ہے۔

افغانستان میں سالہا سال سے جاری جنگ کا خمیازہ ہمسایہ ملک پاکستان نے دیا  جو کہ آج  امریکی دھمکیوں   اور سفارتی بحران  سے دو چار ہے ۔

 عالم انسانیت  کی عظیم ہستیوں میں شامل  عالیہ بیگو ویچ  کو سازشوں کے جال ،دھمکیوں  اور کھوکھلے وعدوں کے بل بوتے پر  ڈیٹان معاہدے کی  کرسی پر بٹھایا  تو ان کی نظر میں صرف ایک ہی مقصد تھا کہ یہ جنگ کسی نہ کسی طرح ختم ہو جائے اور انسانیت بالخصوص  بوسنیائی مسلمانوں کا خون بہنا بند ہو جائے۔ یہ معاہدہ تو طے ہوگیا مگر اپنے ساتھ سابقہ یوگوسلاویہ   کو منقسم کرنے کا بھی سبب بنا ۔

 میانمار  کو ہی لے لیجیئے، مسلمانوں کے گھروں کو جلانے  قتل کرنے یا جبراً نقل مکانی  کی  آہ و بکا  شائد مغربی ایوانوں تک پہنچنے میں ناکام رہتی ہے ۔

 گزشتہ صدی کے دوران  ان عالمی طاقتوں      نے فلسطین کو جس مقام پر پہنچایا ہے  وہ بھی ڈھکا چھپا  نہیں ہے  ۔اسرائیل کی طرف سے غاصبانہ  قبضہ اور اس کا ظلم  و ستم   مسلسل بڑھتا جا رہا ہے اور  فلسطینی سر زمین  ان بے چاروں کے لیے ایک کھلا صعوبت خانہ بن چکی ہے۔

یہ کہنا افسوس کے ساتھ ہو گا کہ جتنے بھی یہ ظلم  ہو رہے ہیں ان میں مسلمانوں کے   علاقے سر فہرست ہیں۔

اس ساری صورت حال کو بگاڑنے کا بنیادی سبب ہوسکتا ہے کہ ان  عالمی طاقتوں  کا دماغی فتور ہو  کیونکہ آج کی   عالمی پالیسی مشترکہ  اصولوں ،مساوات  اور بنیادی  حقوق کے بجائے ذاتی و اجتماعی مفادات پر  تولی جاتی  ہے ۔ یورپی یونین    کے امور ترکی سے متعلق جائزہ  کار کاتی  پیری   نے اس ہفتے کہا کہ   40 ہزار   افراد کی قاتل  پی کےکے   کو وہ یورپ کےلیے خطرہ نہیں  سمجھتے۔ یہاں یہ  صاف عیاں ہے  کہ  یہ نقطہ نظر  صرف اسی صورت میں بحال ہے کہ جب  تک اس تنظیم کے ہاتھوں سے یورپ محفوظ ہے  اور وہ جو بھی کرے وہ اُن کےلیے باعث تشویش اور  خطرے کا پیش خیمہ نہیں ہے۔ یہ روش ہماری تہذیب کا حصہ نہیں ہے اور ہم   ایسے کسی بھی معاملے میں   سامراجی طاقتوں کے آگے سر نہیں جھکاتے  اور نہ ہی اپنے قومی مفادات    کو ان کی ذاتی انا  پر قربان کر سکتے ہیں ۔ہماری اخلاقی  روایات  اس بات کی غماز ہیں کہ ہم  اپنی ہر جنگ قوانین کے دائرے میں   کرتے  رہے ہیں   اور کریں گے۔

 اس کے تناظر  میں   یہ ممکن ہے کہ  یہ عالمی طاقتیں  متاثرہ علاقوں  میں موجود بحرانوں  میں شدت پیدا  کرتےہوئے  ان کی  مدد کر رہے ہوں ۔

 عالمی طاقتیں  اپنے مفادات  کے حصول میں  ان موجودہ بحرانوں     کو طول دینا  فرض سمجھتےہیں اور ان سے متعلقہ پالیسیاں مرتب دے رہے ہیں۔

امریکہ کا   شام سے متعلق موقف  اس بات  کی عکاسی کرتا ہے جہاں بھاری مقدار میں اسلحے کی فروخت کےلیے    اس کا یہ اقدام تجارتی مقصد  کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب   عالمی طاقتیں  علاقائی  بحرانوں  کی وجہ سے  رونما ہونے والے مسائل سے  نہ تو متاثر ہوتی ہیں  بلکہ اس کا بھاری معاوضہ بھی متاثرہ ممالک کوہی ادا کرنا پڑتا ہے۔

یہ کہنا ضروری ہے کہ یہ عالمی طاقتیں  ان علاقوں میں  اپنے  قدم زیادہ  دیر تر نہیں جما سکیں گے   اور نہ ہی علاقائی عوام کے درمیان نفاق  پیدا کر سکیں گے۔

ان تمام اسباب  کی وجہ سے  ہمیں سب سے پہلے   ان کے حل کےلیے  ایک علاقائی اتحاد کے قیام  کی اشد ضرورت ہے ۔ بلا شبہ  یہ تمام مسائل ان عالمی طاقتوں کی وجہ سے نہیں بلکہ ان میں   متاثرہ حالات  کے حامل ممالک کی غلطیوں کا بھی عمل دخل ہے  جن کا  ہم بعد میں کسی پروگرام میں تفصیلی ذکر کریں گے۔

ہمسایہ ممالک میں  پھیلی  فرقہ پرستی کی  آگ  وہاں کی نسل پرست پالیسیوں   کا نتیجہ ہو سکتی ہیں جس پر تنقید  کوئی بری بات نہیں    اور جن کا حل تلاش کرنا ان ممالک کےلیے مشکل ہو سکتا ہے مگر  ان حالات میں  علاقائی مسائل  میں غیر ملکی مداخلت ان کا حل بننےکے بجائے  اس میں مزید بگاڑ لانے  کی وجہ بنیں گے۔ لہذا  ضرورت اس بات کی ہے کہ 1ہزار سال سے آپس میں  بھائی چارے سے رہنے  والے ان تمام طبقات      میں نفاق ختم کرنے کےلیے  علاقائی بحرانوں  کو صرف اور صرف    آپس میں سر جوڑ کر بیٹھنا ہوگا ۔

 

Ankara Yıldırım Beyazıt Üniversitesi Siyasal Bilimler Fakültesi Dekanı Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL’ün  konuyla ilgili değerlendirmesini sunduk

 



متعللقہ خبریں