ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ07

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ07

ترکی کے دریچے سے مشرق وسطیٰ07

 

رشین تحقیقاتی انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ  اور انقرہ یلدرم بیاضت یونیورسٹی کے لیکچرار پروفیسر ڈاکٹر صالح یلماز کا   شام میں عفرین فوجی کاروائی کے بارے میں  جائزہ 

 ترکی کی طرف سے 20 جنوری 2018 کو عفرین میں شاخِ زیتون فوجی کاروائی شروع کرنے کے بعد شام میں توازن   دوبارہ بدل گیا ۔  ترکی ایک سال سے عفرین میں شاخِ زیتون فوجی کاروائی کرنے کی تیاریاں کر رہا تھا ۔  بہترین حکمت عملی کے ساتھ عفرین میں  کاروائی کرنے والی ترک مسلح افواج کا یہ اقدام  باعث حیرت نہیں تھا ۔ ایک برس سے یہ خبریں پھیلی ہوئی تھیں کہ روس اس کاروائی کی اجازت نہیں دے رہا   لیکن حالات کا مشاہدہ کرنے  سے  یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ  روس نے ترکی کی فوجی کاروائی کی تیاریوں کے دور  کو مد نظر رکھتے ہوئے  ترکی کی خواہش کے مطابق اسے رخ دیا  ۔ترکی اور روس کے تعاون کے بارے  میں تاریخی حساس وجوہات کی بنا پر شبہات  سے دیکھنے والے  حلقوں  کے نظریات میں   دونوں ممالک کی مشترکہ فوجی کاروائی سمیت خفیہ خبر رسانی کے میدان میں  تعاون نے   تبدیلی لانے    میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ اگر یہ گہرا تعاون جاری رہا تو عفرین کے بعد منبج میں بھی اسے دیکھا جا سکے گا ۔  امریکہ  نے  دہشت گرد تنظیم پی کے کے کی شام میں شاخ پی وائے ڈی  شامی ڈیموکریٹک قوت کے نام  کیساتھ ڈیموکریٹک  لفظ استعمال کرتے ہوئے  اس کا دفاع کرنے کی جو کوششیں کی تھیں وہ ناکام رہی ہیں ۔ پی وائے ڈی ترکی کی سلامتی کے لیے خطرہ تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ روس کے مفادات اور ایران کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن گئی تھی ۔  امریکہ حالیہ دو برسوں سے پی وائے ڈی کے نام سے جو دہشت گرد فوج قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے   اسےمستقبل میں رو س اور شام کے  ساتھ جنگ کے لیے استعمال کر سکتا ہے ۔

 منبج نیٹو کو بحران  میں مبتلا کر سکتا ہے  ۔ ترکی اور روس کے تعاون کو بگھاڑنے کی کوشیش کی جا رہی ہیں ۔

 یہ  حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ  امریکہ شام کی طرح عراق، ترکی ، ایران اور  خلیجی ممالک میں کئی طرفہ حکمت عملی  اپنانے پر غور کر رہا ہے ۔  امریکہ کی شام میں سٹریٹیجی کے خلاف سوچی  قومی مذاکراتی کانگریس جیسے متبادل حل منظر عام پر آئے  لیکن سوچی  کانگریس کے انعقاد کے بعد عفرین میں شاخِ زیتون فوجی کاروائی اور اسی دوران روسی طیارے  کو مار گرانے کا  واقعہ ترکی اور روس  کے تعلقات کو ایک اہم موڑ پر لے آیا  ۔   صدر رجب طیب ایردوان نے یہ بیان دیا ہے کہ عفرین میں کامیاب فوجی کاروائی کرنے والا ترکی اس فوجی کاروائی کو ختم کرنے کے بعد منبج اور رسولین تل عبیاد لائن پر بھی پیش قدمی کرئے گا ۔  امریکہ کے وزیر خارجہ ٹلر سن نے بھی یہ بیان دیا ہے کہ ہم اس موضوع پر بات چیت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ عنقریب ہی بعض امریکی حکام ترکی کا دورہ کریں گے اور مذاکرات کے دوران وہ منبج کےمسئلے  کا جائزہ لیں گے کیونکہ منبج کی وجہ سے ترکی اور امریکہ کے درمیان ہونے والی جھڑپ سے نیٹو  بحران کا شکار ہو سکتا ہے حتیٰ کہ وہ منتشر بھی ہو سکتا ہے ۔ آپ کو یاد ہی ہو گا جب ترکی نے عفرین کاروائی شروع کی تو نیٹو نے  ترکی کی دہشت گردی کے خلاف جدو جہد کی حمایت کی تھی  ۔اسطرح اس نے پی وائے ڈی کے دہشت گرد  تنظیم ہونے کو قبول کر لیا تھا لیکن اگر اس نے منبج اور دیگر علاقوں میں پی وائے ڈی کو دہشت گرد کی نظر سے نہ دیکھتے ہوئے ترکی کی حساسیت کو نظر انداز کیا تو عالمی اداروں کے درمیا ن بحران اور جھڑپ کا امکان بڑھ جائے گا ۔  اگر روس کے نقطہ نظر سے دیکھا جائے توآستانہ اور سوچی مذاکرات کی کامیابی کے بعد ترکی اور روس کے تعلقات کو بگھاڑنے کی کوششیں   بڑھ گئی ہیں ۔ سب سے پہلےترک عوام کو روس کے خلاف کرنے کے لیے یہ دعویٰ کیا گیا کہ عفرین  میں موجود  پی وائے ڈی کے دہشت گردوں کو دیگر علاقوں سے جو فوجی  اور اسلحے کی امداد بھیجی گئی ہے اس کی ترسیل روس کی زیر نگرانی علاقوں سے ہوئی ہے ۔  بعد میں روس کو ترکی کے خلاف کرنے کے لیے یہ افواہ پھیلائی گئی کہ عدلیب میں روس کا جو فوجی طیارہ گرا ہے اسے ترکی کے حامی مخالفین نے گرایا ہے  لیکن دونوں ممالک اس حقیقت سے باخبر ہیں کہ انھیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکانے کے لیے یہ  پروپگنڈا کیا جا رہا ہے  جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو ا۔ حتیٰ کہ ان دعوؤں کے فوراً  بعد  ترکی اور روس نے مشترکہ ہیلی کاپٹروں کی تیاری کے ایک معاہدے  پر  بھی دستخط  کر دئیے ۔

امریکہ کا شام میں وجود اسد انتظامیہ اور پی وائے ڈی سے وابستہ ہے ۔

 یہ حقیقت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ امریکہ آستانہ اور سوچی عمل کو ناکام بنانے کے لیے پی وائے ڈی کو آلہ کار بنا رہا ہے ۔  امریکہ کی حمایت حاصل کرنے والے شامی مذاکراتی گروپ نے اسد کیساتھ مسئلہ شام  کے حل کے خلاف ہونے کا جواز پیش کرتے ہوئے  سوچی مذاکرات میں شرکت نہ کرنے کا جو  اعلان  کیا تھا وہ اتفاق نہیں ہے ۔ امریکہ نے خاصکر ایران کی طرف سے اسد کے بغیر مسئلہ  شام کو حل کرنے کی مخالفت کی وجہ سے اسد  کے  مخالفین بعض گروپوں کی   اس ضمن میں حوصلہ افزائی  کی ہے ۔دریں اثناء صدر اسد کیطرف سے   بھی بر سر اقتداررہنے کے لیے امریکہ کے اس موقف کو مہرےکے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے ۔  آپ کو یاد ہی ہو گا کہ مہراچ اورال یعنی علی قایا   نامی شخص  کو جعلی شناختی کارڈ کیساتھ سوچی کانگریس میں بھیجنا صدر اسد کا ہی منصوبہ تھا۔مختصراً یہ کہ صدر اسد اور امریکہ دونوں ہی اپنے وجود کو ضمانت  میں  لینے کا ہدف رکھتے ہیں ۔ اسد کے بغیر شام میں امریکہ کی موجودگی پر بحث کی وجہ سے امریکہ کے بغیر شام میں اسد کی ضرورت باقی نہیں رہے گی ۔امریکہ کی پہلی ترجیح اسد کو اقتدار سے ہٹانا نہیں ہے  کیونکہ اسد کا  بر سر اقتدار  رہنا شام میں امریکہ کی موجودگی  کے دوام کی  ضمانت   ہے ۔

 ان حالات کی روشنی میں  امریکہ کے شام میں منصوبوں کے خلاف سوچی میں منعقدہ شامی قومی ڈائیلاگ کانگریس میں جنیوا عمل میں سیاسی امن سٹریٹیجی تشکیل دینے کا موقع فراہم کیا گیا ہے  لیکن اگر اس موقع کو گنوا دیا گیا جیسا کہ امریکہ کی مداخلت سے معلوم ہوتا ہےتو امن عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچانا مشکل ہو جائے گا  ۔ ان حالات میں ترکی ،روس اور ایران کے تعاون سے نئے عمل میں داخل ہو اجا سکتا ہے ۔  تینوں ممالک کے سربراہان ماہ مارچ میں استنبول میں ہونے والے ممکنہ  اجلاس میں  شام میں سیاسی امن کے قیام  اور عفرین کے بعد ترکی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کریں گے ۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ سوچی کانگریس میں معاہدہ طے نہ پا سکنے والے معاملات کو استنبول سر براہی اجلاس میں  حل  کیا جا سکے گا  ۔

 



متعللقہ خبریں