حالات کے آئینے میں ۔ 13

حالات کے آئینے میں ۔ 13

حالات کے آئینے میں ۔ 13

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ سامعین شاخِ زیتون آپریشن کے دائرہ کار میں عفرین کے شہری مرکز اور عفرین تحصیل کے دہشت گردوں سے پاک ہونے کے بعد علاقے میں شہریوں کی  واپسی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ عفرین   میں PKK/YPG کے ظلم سے فرار ہو کر ترکی میں پناہ لینے والے شامی کردوں کی بھی اپنے گھروں کو واپسی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔  ایک ایسے دور میں کہ جب عالمی رائے عامہ کی طرف سے شامی مہاجرین کے مسئلے پر ایک تواتر سے بات کی جا رہی ہے اور خاص طور امریکہ اور یورپی ممالک میں نسلیت پرستی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے شام کے لئے ترکی کی زیر عمل پالیسی  شامیوں کی رضا کارانہ طور پر اپنے گھروں کو  واپسی کو یقینی بنا رہی ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور اجتماعی تحقیقاتی وقف SETA  کے محقق اور مصنف جان آجون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد ہونے والے علاقوں کے لئے ترکی کی انسانی امداد ، انفراسٹرکچر کی تعمیر کے کام،  اعتماد اور آزادی کے ماحول کی طفیل  ترکی میں پناہ لینے والے شامی مہاجرین شام واپس لوٹ رہے ہیں۔ ترکی ایک طرف تو شام میں دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کر رہا ہے تو دوسری طرف شہریوں کے لئے محفوظ علاقے تشکیل دے رہا ہے۔ فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے آزاد ہونے والے علاقوں میں شام کے باہر سے 2 لاکھ کے قریب پناہ گزین اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں۔ اس کے علاوہ شام کے اندر سے مختلف علاقوں  سے ہزاروں شہریوں کے  شمالی حلب پہنچ کر فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے آزاد کروائے گئے علاقوں  میں قیام پذیر ہو نے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔

اسد انتظامیہ  کی طرف سے دمشق  اور اس کے اطراف  میں زیر محاصرہ  علاقوں  سے نکالے جانے والے شہری ،ترکی کی طرف سے دہشت گردی سے پاک کروائے گئے علاقے  شمالی حلب میں  پہنچ چکے ہیں۔ علاوہ ازیں شام کے متعدد علاقوں میں مظالم سے فرار ہونے والے شہریوں کے بھی فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے آزاد کروائے گئے علاقے میں پناہ لینے کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔ ترکی، شام کے اندر کئے جانے والے آپریشنوں کی مدد سے صرف اپنی قومی  سلامتی کو ہی یقینی نہیں بنا رہا  بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شامیوں  کے لئے بھی ایک نئی امید اور محفوظ  زندگی کو یقینی بنا رہا ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے PKK/YPGکے عسکریت پسندوں کے ساتھ مل کر طبقہ، راقہ اور دیر الزور کے علاقوں میں کئے گئے آپریشنوں کے دوران علاقے سے نکلنے پر مجبور ہونے والے یا پھر دہشت گرد تنظیم PKK/YPGکی  طرف سے زبردستی نکالے جانے والے شہری فرات ڈھال آپریشن  کی مدد سے آزاد ہونے علاقوں میں پہنچ کر  ایک نئی زندگی کا آغاز کر رہے ہیں۔

امریکہ کے،  نام نہاد  دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کے پردے تلے شام میں دہشت گرد تنظیم  PKK/YPG کے لئے زمین کے حصول کے طور پر قبضے میں لئے گئے علاقوں میں شہریوں کی واپسی  یا پھر بیرون ملک  مقیم مہاجرین کی واپسی موضوع بحث نہیں ہے۔ امریکہ نے جن علاقوں کے دہشت گرد تنظیم PKK/YPG کے کنٹرول میں جانے کو یقینی بنایا ہے وہ فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے آزاد کروائے گئے علاقے سے کئی گنا بڑے ہونے کے باوجود شہری ان علاقوں کی طرف واپس لوٹنے کی بجائے علاقوں میں موجود  شہری بیرون ملک  یا پھر شمالی حلب کی طرف فرار ہو رہے ہیں ۔اسی طرح اسد انتظامیہ  اور روس  کی طرف سے  بڑے پیمانے پر قتل عام  کے بعد  قبضے میں لئے  گئے حمص، زبادانی، دارایا یا پھر حلب  جیسے بڑے شہری علاقے ابھی تک   ویرانوں  کا منظر پیش کر رہے ہیں۔

ملک کے اندر اور یہاں تک کہ ملک کے باہر سے بھی جن علاقوں میں وہاں کے شہری واپس لوٹ رہے ہیں وہ صرف فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے آزاد کروائے گئے علاقے ہیں۔ اسی طرح شاخِ زیتون کی مدد سے آزاد کروایا گیا علاقہ عفرین بھی ایسا علاقہ ہو گا کہ جہاں کے شہری اور واپس لوٹنے والے مہاجرین محفوظ زندگی گزار سکیں گے۔ دہشتگرد تنظیم PKK/YPG کی طرف سے زبردستی گھر سے بے گھر کئے گئے ایک لاکھ سے زائد انسان فرات ڈھال آپریشن کی مدد سے رہا کروائے گئے علاقوں  میں تل رفات اور اس کے اطراف   میں رہ رہے ہیں۔ اپنے گھروں  کو واپس لوٹنے کے خواہش مند تل رفات کے شہری اس مطالبے کے ساتھ مظاہرے کر رہے ہیں کہ ترک مسلح افواج اور آزاد شامی فوج تل رفات اور اس کے اطراف کو بھی PKK/YPG کے دہشت گردوں سے صاف کرے۔ ترکی نے  تل رفات کے شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی کے لئے ضروری  قدم اٹھانا شروع کر دئیے ہیں۔

مثال کے طور پر جرمنی میں شامی مہاجرین  کے بارے میں مباحث ایجنڈے کا ایک اہم موضوع ہیں۔ خاص طور پر انتہائی دائیں بازو کی پارٹی AFD شامی مہاجرین کی جرمنی میں موجودگی کی خواہش مند نہیں ہے۔AFD پارٹی  نے اس حوالے سے شام میں ایک وفد بھیجا اور جرمنی میں مقیم مہاجرین کی انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں زبردستی واپسی کے لئے  اسد انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات کئے۔ تاہم جرمن رائے عامہ نے اس سوچ کا خیر مقدم نہیں کیا کیوں کہ ان کے خیال میں مہاجرین کی اسد انتظامیہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں واپسی پر انہیں متعدد خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر اسد انتظامیہ کے ان شہریوں کو باغیوں کے طور پر دیکھنے،  ان پر تشدد کرنے اور  دباو کی پالیسیاں اختیار کرنے  پر نگاہ ڈالی جائے  تو اس سوچ کے کس قدر غیر انسانی ہونے کا ادراک ہوتا ہے۔ لیکن ترکی کے دہشت گردوں سے آزاد کروائے گئے علاقوں میں تحفظ اور  اعتماد پیدا کرنے کی وجہ سے مہاجرین رضا کارانہ طور پر ان علاقوں میں واپس لوٹ رہے ہیں۔ اسی طرح عراق کے اندر PKK کی موجودگی  کو کم کرنے  کے لئے سنجار  میں کوئی ممکنہ فوجی آپریشن بھی شہریوں کی اپنے گھروں کو واپسی  کو یقینی بنائے گا۔ سنجار  کے  داعش کی طرف سے حملوں کا نشانہ بننے کے بعد یزیدیوں کی اکثریت وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی لیکن علاقے سے داعش کی صفائی کے باوجود یزیدیوں کا 80 فیصد تا حال سنجار سے باہر واقع کیمپوں میں مقیم ہے۔ نتیجتاً علاقے میں PKK کی موجودگی یزیدیوں کی اپنے گھروں کو واپسی  کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہے۔ ترکی کے عراق کی مرکزی حکومت کے ساتھ مل کر سنجار  کو   PKK سے صاف کرنے کی صورت میں یزیدیوں کا ایک بڑا حصہ اپنے گھروں کو واپس لوٹ سکے گا۔ ترکی نے اب تک جتنے بھی فوجی آپریشن کئے ہیں ان میں یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک تخریبی  نہیں بلکہ ایک تعمیری طاقت ہے۔



متعللقہ خبریں