اقتصادی جائزہ - 14

ترکی نے  سن 2017  میں  ساڑھے سات فیصد   کی شرح سے اقتصادی ترقی  کی جو اس  کی اعلیٰ پرفارمنس  کا منہ بولتا ثبوت ہے

اقتصادی  جائزہ - 14

ترکی نے  سن 2017  میں  ساڑھے سات فیصد   کی شرح سے اقتصادی ترقی  کی جو اس  کی اعلیٰ پرفارمنس  کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ترکی اقتصادیات میں اس عرصے کے دوران  کس طریقے سے ترقی کی  اور کس طرح یہ کامیابی حاصل کی گئی اس کے پیچھے کون سے عناصر موجود ہیں؟اس کا جائزہ لینے  کی ضرورت ہے۔

یلدرم بیاضد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز  کے شعبہ اقتصادیات  کے پروفیسر  ڈاکٹر  ایردال   تاناس  قارا گیول  کے جائزے کو آپ کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

ترکی نے سن 2017 کے آخری سہہ ماہی میں 7.3  فیصد کی شرح سے   ترقی کرتے ہوئے پورے سال  کی شرح کو 7.4 تک پہنچا  دیا ہے۔ سن 2017 کی شرح ترقی  دنیا  کے اقتصادی لحاظ  سے  عظیم ممالک  جی 20 میں  ترقی کے لحاظ سے لیڈر ملک کی حیثیت اختیار کرلی ہے۔ اور او ای سی ڈی ممالک میں بھی اقتصادی شرح ترقی کے لحاظ سے  دوسرے نمبر پر ہے۔ اس طرح ترکی نے سن 2017 میں  اقتصادی لحاظ سے  دنیا سے اپنا لوہا منوالیا ہے۔  جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ بین الاقوامی شرح ترقی کے معیار کا  جائزہ لینے والے ادارے  ترکی سے متعلق شرح ترقی  میں کئی بار تبدیلی کرنے پر مجبور ہوگئے  لیکن اس کے باوجود ان   کے ترکی کی ترقی سے متعلق جائزے درست ثابت نہیں ہوئے ہیں کیونکہ ترکی کی شرح ترقی  ان کے اندازوں سے  کافی بلند ہے۔

اب ترکی کی  ترقی کا  پیداواری سیکٹر میں ہونے والے اثرات کا جائزہ لیتے ہیں۔  سن 2017 کے خدماتی سیکٹر میں شرح ترقی  10.7 فیصد دیکھی گئی  جبکہ صنعتی شعبے میں ترقی کی شرح  9.2 فیصد ، تعمیراتِ عامہ میں 8.9 فیصد رہی ہے۔ سن 2017 میں ترقی کی شرح میں سب سے زیادہ کردار  خدماتی سیکٹر کی 4.1  سے انجام دیا ہے۔ اس دور میں   صنعتی شعبے  کی 1.8 فیصد شرح ترقی نے ملکی شرح ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

ترکی کی اقتصادی ترقی میں سب سے اہم کردار صنعتی شعبے نے ادا کیا ہے اور اس کے علاوہ  بھی اس سیکٹر کے دیگر کئی ایک سیکٹروں میں اثرات کو نمایاں طور پر  دیکھا جاسکتا ہے۔  سن 2016  میں صنعتی شعبے    کی خالص قومی آمدنی میں   19.6  فیصد کی شرح سے کردار ادا کیا تھا  جبکہ سن 2017 میں  یہ شرح  20.6 فیصد تک جاپہنچی جس کے اثرات ملک کی   شرح ترقی پر نمایاں  طور پر محسوس کیے گئے۔

صنعتی اور پیداواری شعبے میں ہونے والی ترقی  نے  ہمیشہ کی طرح  ملک کی  سالانہ  شرح ترقی پر مثبت اثرات مرتب کیے۔

دریں اثنا  سن 2017  کی شرح ترقی میں  برآمدات کا  ملک کی کل شرع ترقی پر اثرات   2.6 فیصد تھے جبکہ ملک میں ہونے والی سرمایہ کاری کی وجہ سے  شرح ترقی میں  مزید 2.2 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔   سن 2017  میں ہونے والی شرح ترقی   میں ملک کے اندر  طلب میں ہونے والے اضافے نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس سرمایہ کاری کے پیچھے حکومت کی جانب سے دی جانے والی ترغیبات نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس دوران ریل سیکٹر نے بھی ملک کی شرح ترقی کو بلند کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ صنعتی شعبے میں ہونے والی تیز رفتار ترقی  نے ملک کی اقتصادیات   صورتِ حال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اسے بلند معیار پر لانے میں بھی  اہم کردار ادا کیا ہے۔ سن 2017   کے آخری تین سہہ ماہیوں میں  روزگار کے مواقع زیادہ پیدا کیے جانے کے باعث  اس کے ملکی ترقی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ترکی میں  شرح ترقی  کو بلند رکھنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

ترکی  بلند شرح ترقی  کو مستقبل میں بھی جاری رہنے کی صورت  میں  ترکی نے اپنے لیے  جو اہداف مقرر کیے ہیں ان کو حاصل کرنے میں بھی بڑی مدد ملے گی۔

ابھی آپ نے یلدرم بیاضد یونیورسٹی کی فیکلٹی آف سائنسز  کے شعبہ اقتصادیات  کے پروفیسر  ڈاکٹر  ایردال   تاناس  قارا گیول  کے جائزے کو  وائس آف ٹرکی کی اردو سروس سے سماعت فرمایا۔



متعللقہ خبریں