ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 14

یورپی یونین کا ترکی کی رکنیت کے حوالے سے حقیقی موقف اور پالیسیاں کیا ہیں؟

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  14

جمہوریہ ترکی اور یورپی یونین کے حکام  بلغاری شہر وارنہ میں منعقدہ ایک  اجلاس میں  یکجا ہوئے۔

اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات  کے لیکچرار  ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا   اس موضوع  پر جائزہ ۔۔۔۔

بلغاری شہر وارنہ میں منعقدہ   یورپی یونین سربراہی اجلاس میں  ترک اور یورپی یونین  کے  اعلی حکام   کے درمیان مذاکرات سر انجام پائے۔ اجلاس میں جمہوریہ  ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان، یورپی یونین  کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک، یورپی یونین کمیشن کے سربراہ  جین کلاڈ ینکر  اور میزبان ملک   بلغاریہ کے وزیر اعظم بوئیکو بوریسووف  نے  بھی شرکت کی۔ یہ  سمٹ  طویل  عرصے  سے جمود کے شکار ترکی۔ یورپی یونین تعلقات  کے  اعتبار سے اہم تھا اور اس میں  ترکی۔ یورپی یونین تعلقات پر نظر ِ ثانی اور  باہمی تعلقات میں مسائل کے  حامل معاملات  کو  ترجیحی بنیادوں پر مصالحت قائم ہونے والے شعبوں کے پسِ پردہ   پھینکنے کا  ہدف مقرر کیا گیا تھا۔ سربراہی اجلاس میں دونوں  فریقین نے اپنی اپنی توقعات  کو اعلی  ترین سطح  پر  زیر  ِ لب لایا۔

یاد رہے کہ یورپی یونین کمیشن  کی سن 2016 میں  جاری کردہ پیش رفت رپورٹ  ترکی میں رد عمل کا موجب بنی تھی۔ جانبدار اور کسی واحد نکتہ نظر پر  تیار کردہ  اس رپورٹ میں ترکی کو باہمی  تعلقات میں جمود   آنے  کا موردِ الزام ٹہرایا گیا تھا۔ دوسری جانب  یورپی یونین کمیشن نے اس سے قبل وعدہ کردہ   ترک شہریوں کو حصول ویزہ کی آسانیاں  دینے کے معاملے پر یونین  کے شیڈول  کے حوالے سے کوئی  تاریخ نہیں  دی تھی۔ علاوہ ازیں اس نے  15 جولائی   کے ناکام بغاوتی اقدام  اور ڈیموکریسی کے  لیے  ترکی  کی کوششوں   کو  نظر انداز کرنے کا  مؤقف روا رکھا تھا۔   جب  2016 پیش رفت رپورٹ  پر  ترکی نے رد عمل کا مظاہرہ کیا تو یورپی یونین  کمیشن نے سال 2017 کی یورپی یونین  پیش رفت رپورٹ کو التوا میں ڈال دیا۔ ترکی کو امیدوار ملک نامزد کیے جانے کے برس سن 1999 کے بعد  یہ پہلا موقع  تھا جب  اس کے لیے سالانہ پیش رفت رپورٹ کا اجرا عمل میں نہ آیا۔

پریس  میں شائع ہونے والی خبروں کے مطابق سربراہی اجلاس کے  ایجنڈے میں  دو معاملات پیش  پیش رہے۔  جن میں سے ایک  گزشتہ برس ترکی کی جانب سے  یورپی یونین کو  پیش کردہ  کسٹم یونین   قواعد و ضوابط میں  ترمیم   تھا۔ کسٹم یونین کے  قیام   کی تاریخ یکم جنوری سن 1996  سے ابتک  بین الاقوامی  تجارت  اور یورپی یونین کے تیسرے ممالک کے ساتھ  تجارتی تعلقات میں  نئی  صورتحال سامنے  آئی ہے۔   جس نے  ترکی  کے 22  برس قبل  فائدے کے طور پر قبول کردہ  ضوابط  کو بے معنی    بنا دیا ہے۔  یورپی   یونین کے ساتھ ترکی کے   کہیں  بعد آزاد تجارتی  روابط قائم کرنے والے بعض ممالک کو دی گئی مراعات،  ترکی    کے کسٹم یونین میں حاصل کردہ حقوق  سے کہیں بڑھ کر ہیں۔  جس سے کسٹم یونین   کے قواعد و ضوابط میں بعض ترامیم   لانے کی ضرورت نے جنم لیا ہے۔ دوسرا اہم  معاملہ ویزے کی بندش  کا خاتمہ ہے۔  ترکی نے واپسی قبول معاہدے  کو طے کرتے ہوئے اور لازمی تدابیر اختیار کرتے ہوئے  یورپی یونین   کے رکن ممالک کو  مہاجرین  کی نقل مکانی  کی راہ میں  سب سے زیادہ  خدمات ادا کی ہیں۔ اس کے باوجود یورپی یونین  اس کو دیے گئے وعدوں کو پورا کرنے سے کترا رہی ہے اور ترک شہریوں پر  ویزے کی بندش کا عمل درآمد تا حال جاری ہے۔

ترکی اور یورپی یونین کے درمیان قلیل مدت میں حل  ممکن نہ دکھائی دینے والے متنازع معاملات اور  مفاہمتیں  موجود ہیں۔ اس بنا پر  یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ کے  دور میں بھی  ان تعلقات میں اُتار چڑھاؤ    کا مشاہدہ    ایک غیر متوقع پیش رفت نہیں ہو گا۔   آج ترکی یورپی یونین کا  ایک اہم حکمت ِ عملی شراکت دار ہے۔ دونوں   اداکاروں کو یکجا کرنے والی کئی ایک مشترکہ حکمتِ عملی پائی جاتی ہیں۔ تا ہم  یونین  سالہا سال سے  ترکی اور اس کو  ایک ہی صف میں شامل کرنے والے مشترکہ معاملات کو سامنے  لانے میں ناکام   رہی ہے۔

اس تمام تر منفی پیش رفت کے باوجود  حالیہ ایام میں یورپی یونین  اور  اس کے بعض ارکان کے  بیانات  یورپی  یونین  کے ترکی کے معاملے میں مؤقف میں  تبدیلیاں آنے کا اشارہ دے رہے ہیں۔  اس نکتے پر ترکی کا روس کے ساتھ شام کے معاملے میں  فروغ پانے والا تعاون، شاخِ زیتون کاروائی کی کامیابی، ایس۔400 فضائی دفاعی نظام   کی  روس سے خرید  وغیرہ   یورپ کے ترکی سے متعلق  مؤقف اور پالیسیوں میں تبدیلیوں کے آغاز میں  اہم   عناصر کی حیثیت رکھتے ہیں۔  ترکی کے روس سے قربت اور امریکہ سے دُور ہٹنے والے  ایک دور میں  یورپی یونین۔  ترکی خارجہ پالیسیوں میں  توازن کو برقرار رکھا جانا  اہمیت  کا حامل ہے۔

دوسری جانب ترکی یورپی یونین کے اعتبار سے   در حقیقت اگر کوئی اہم ملک ہے  یا پھر  ترکی کو کسی بلاک سے قربت حاصل کرنے سے روکا جانا ہے تو ویزے کی پابندی کے خاتمے اور مہاجرین  کے لیے دیے   گئے وعدوں کی پاسداری لازم و ملزوم ہے۔

ترک صدر ایردوان  کا وارنہ سربراہی  اجلاس میں  مؤقف بامعنی ہے۔  انہوں نے  اجلا س  کے اختتام  پر  کہا کہ  یورپی یونین نے ترکی  کے مطالبات کے حوالے سے  ایک لفظ تک نہیں کہا۔ بلکہ اس کے برعکس  ترکی  کے نظریات اور مطالبات کو   ایک طرف چھوڑتے ہوئے    ترکی کے ساتھ  ایک نئے آغاز  کی شرائط کو پیش کیا ہے، اگر  یورپی یونین نے ہمارے مطالبات کو پورا نہ کیا تو  ترکی کے لیے یورپی یونین کی  اولیت    کا مفہوم  ختم ہونے  کا اندازہ لگانے کے لیے کاہن ہونا  ضروری نہیں ہوگا۔ کیونکہ   ترکی اور یونین کے  روابط میں ہر گزرتے  دن  کمزوری آرہی ہے  اور   ترکی کے لیے یورپی یونین ایک ہدف ہونے سے  دور  ہٹتی  جا رہی   ہے۔

قبرص پُر امن کاروائی    سمیت  تاریخ کے کسی  بھی دور میں    ترکی ، یورپ   کی جانب  اپنی پیٹھ کرنے  کے اس حد تک قریب نہیں  پہنچا تھا۔ دوسری  جانب  ترک رائے   عامہ  بھی مغرب سے  دور  ہٹنے  میں  اس قدر آمادہ  نہ ہوئے  تھے۔ لہذا آج فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں  ترکی نہیں ،  یورپی یونین ہے۔ اسے اب یہ فیصلہ کرنا ہو گا:"آیا کہ  یہ عالمی طاقت بننے  کا خواہاں  ہے یا پھر علاقائی  اداکار   کے طور پر ہی رہنا چاہتا ہے؟"  اگر یورپی یونین   ایک عالمی طاقت بننا چاہتی ہے تو پھر اپنے ڈھانچے میں ترکی کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ تا ہم  اگر موجودہ   حیثیت   پر ہی اکتفا کرنا چاہتی ہے تو  اس صورت میں ترکی کے ساتھ دہرے معیار  پر عمل پیرا رہ سکتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ دہرا معیار اب کے بعد ترکی  کے لیے کوئی وقعت نہیں رکھے گا۔



متعللقہ خبریں