قدم بہ قدم پاکستان - 15

پروگرام”قدم بقدم پاکستان“ میں آپ کو پتن مینار لیے چلتے ہیں

قدم بہ قدم پاکستان - 15

قدم بہ قدم پاکستان - 15

السلام علیکم!پروگرام”قدم بقدم پاکستان“ میں آپ کو پتن مینار لیے چلتے ہیں۔

پتن مینار رحیم یار خان سے تقریباً 12 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قدیم تاریخی پس منظر کا حامل یہ مینار ایک ایسے تاریخی ورثے کی حیثیت رکھتا ہے جس سے لوگوں کی اکثریت ناواقف ہے لیکن تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے اور اس مینار کے قریب آباد لوگ اس کی تاریخی اہمیت سے آگاہ ہیں۔

رحیم یار خان شہر کو بہت سے حوالوں سے اہمیت حاصل ہے۔ کھاد بنانے کے مشہور کارخانے فوجی فرٹیلائزر‘ گھریلو استعمال کی بہت سی اشیاءبنانے والے ادارے یونی لیور‘ متحدہ عرب امارات کے سربراہ شیخ زاید بن سلطان النہیان کے تعاون سے قائم کردہ شیخ زاید میڈیکل کالج کے علاوہ کئی تعلیمی ادارے‘ مراکز صحت اور شیخ زاید انٹرنیشنل ائرپورٹ نمایاں ہیں۔ اس ائرپورٹ کا ایک حصہ یو اے ای کے حکمرانوں کے لئے مخصوص ہے جبکہ دوسرا حصہ عوام الناس کے استعمال کے لئے ہے۔

پتن مینار کے گردونواح کا علاقہ کپاس کی کاشت کے لئے مشہور ہے۔ یہاں سے بڑی مقدار میں روئی حاصل کی جاتی ہے۔ پتن مینار تک پہنچنے کے لئے ایک ٹیلے پر مبنی سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ محکمہ اوقاف پنجاب کی طرف سے یہاں ایک تختی نصب ہے۔ جس پر پتن مینار کو تاریخی ورثہ قرار دئیے جانے کے حوالے سے تحریر درج ہے۔ اس مینار کے بارے کئی قصے کہانیاں مشہور ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ مینار 250 قبل از مسیح تعمیر کیا گیا تھا۔ تب اس کے پہلو سے دریائے سندھ سے نکلنے والا ایک چھوٹا دریا گھاگرا گزرتا تھا لیکن جب دریائے سندھ نے اپنا رخ موڑ لیا تو یہ چھوٹا دریا خشک ہو گیا۔ یہ مینار بہت سی ثقافتوں‘ قوموں اور ادوار کا عینی شاہد ہے۔ یہ قدیم تہذیبوں موہنجو داڑو‘ ہڑپہ اور ٹیکسلا سے مطابقت رکھتا ہے۔ بدھ مت‘ آریان‘ برہمنوں کے علاوہ افغان حکمران فیروز شاہ تغلق کے زمانے میں بھی اس کو اہم مقام کی حیثیت حاصل تھی۔ بہت سے حکمران سفر کے دوران یہاں قیام کرتے تھے۔

جب سکندر اعظم نے برصغیر پر حملہ کیا تو مقامی قبائل پر نظر رکھنے کے لئے یہاں ایک فوجی چھاؤنی تعمیر کروائی۔ سکندر اعظم نے اس چھاؤنی کا انتظام ایک یونانی گورنر کے سپرد کیا۔ یونانیوں نے یہاں ایک کمپلیکس اور یونیورسٹی بھی تعمیر کروائی۔ کرنل ٹوئے کا کہنا ہے کہ یہ علاقہ ہندو کنگڈم کا دارالخلافہ بھی رہا۔ 1849ءمیں ماہر تعمیرات اور ریاست بہاولپور کا پولیٹیکل ایجنٹ کرنل منچن اس نے یہاں خزانے کی تلاش کا کام شروع کروایا اور کھدائی کی جانے لگی۔ مشہور تھا کہ یہ خزانہ نادیدہ طاقتوں کے قبضے میں ہے اس لئے کسی کے لئے یہ خزانہ حاصل کرنا ممکن نہیں۔ لیکن کرنل منچن نے کھدائی کا کام جاری رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ کھدائی کے دوران وہ راستہ مل گیا تھا جو خزانے تک جاتا تھا لیکن کھدائی کرنے والے مزدوروں پر نادیدہ قوتوں نے حملہ کر دیا جس سے کئی مزدور ہلاک ہو گئے۔ جس کے بعد خزانے کی طرف جانے والا راستہ بند کر دیا گیا۔ ریاست بہاولپور کے نواب صادق عباسی کے دور میں بھی خزانے کی تلاش کی کوشش کی گئی۔ کئی جوگیوں اور عاملوں کی خدمات حاصل کی گئیں لیکن خزانہ حاصل کرنے کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں۔

پتن مینار سے چند سو گز کے فاصلے پر ایک مسجد قائم ہے۔ اس کے علاوہ ایک قلعہ اور ٹنلز بھی موجود ہیں۔ یہ مسجد ایک مسلم حکمران محمد ابوبکر سانول سائیں نے 1849ءمیں تعمیر کروائی تھی۔ یہ مسجد اب بھی اپنی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہے اور یہاں پانچ وقت نماز باجماعت ادا کی جاتی ہیں۔

یہ پتن مینار کی حفاظت اس کی تزئین و آرائش اور اسے تاریخی ورثے کے طور پر متعارف کروانے کے سلسلے میں کئی بار کوششیں کی گئیں۔ لیکن پھر نہ جانے کن وجوہات کی بنا پر یہ منصوبہ التوا کا شکار ہو جاتا ہے۔

پتن مینار صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز ہے لیکن اگر محکمہ سیاحت اس پر تھوڑی توجہ دے تو عالمی سیاحوں کی بڑی تعداد اس قدیم تاریخی و ثقافت ورثے کو دیکھنے پاکستان آسکتی ہے۔

چلتے چلتے آپ کو کوس مینار کے بارے بھی بتاتے چلیں۔ 1619ء میں شہنشاہ جہانگیر نے لاہور اور آگرہ کے درمیان ہر کوس کے فاصلے پر ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس کو کوس مینار کہا جاتا ہے جبکہ ہر تین کوس کے فاصلے پر مسافروں کی سہولت کے لئے کنویں بھی کھدوائے گئے۔ ان میں سے کچھ مینار لاہور سے واہگہ جاتے ہوئے باٹا پور سے پہلے موجود ہیں یہ عمودی اور چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔ ان کوس میناروں میں سے ایک بڑا مینار گڑھی شاہو کے پاس ریلوے لائنوں کے نزدیک موجود ہے۔ اگر اس بڑے کوس مینار کو دوسرے کوس میناروں سے ملایا جائے تو ان کے ایک طرف مقبرہ علی مردان خان‘ گلابی باغ‘ باغ مہابت خان‘ بیگم پورہ‘ انگوری باغ اور شالا مار باغ آئیں گے۔

آئندہ ہفتے آپ کو پاکستان کے کسی اور خوبصورت مقام کی سیر کروائیں گے تب تک کے لیے اپنے میزبان محمد شعیب کو اجازت دیجیے۔اللہ حافظ۔

 

 



متعللقہ خبریں