ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 15

ترک نامور سیاستدان الپ ارسلان ترکیش کی ترک خارجہ پالیسی پراثرات

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  15

ترکی سیاست کی اہم شخصیات میں سے  ایک آلپ ارسلان  تُرکیش   کی اکیسویں برسی کو گزشتہ دنوں جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان کی بھی شمولیت    سے مختلف رسومات کے ساتھ منایا گیا۔

اتاترک یونیورسٹی   کے شعبہ بین الاقوامی  تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک   کا اس موضوع پر تجزیہ  ۔۔۔۔

جمہوریہ ترکی کی  موجودہ فعال خارجہ پالیسیوں کو صحیح طرح سمجھنے کے لیے  ماضی سے اس کی بعض مثالوں کا تجزیہ کرنا اہم ہے۔ اس اعتبار سے  کسی خاص دور میں ترکی کی  داخلی و خارجی پالیسیوں  کو رخ دینے اور یوریشیا کے جغرافیہ میں   اس کے نتائج و اثرات   کے ساتھ  الپ ارسلان تُرکیش کی خارجہ پالیسی سوچ و نظریے کا جائزہ لینا موجودہ  حالات کو سمجھنے میں بار آور ثابت ہوگا۔

تُرکیش سن  1917 قبرصی شہر لیفکوشا میں  پیدا  ہوئے، سن 1933 میں انہوں نے اپنے والدین کے ہمراہ  ترکی  نقل مکانی کی۔ سلطنت سے جمہوریت  یعنی قومی مملکت  کےقیام کے سلسلے میں  ہونےو الی فکری بحث اور اس دائرہ کار میں   زیر  بحث آنے والا قوم پرستی کا نظریہ جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفی ٰ کمال اتاترک اور قوم  پرست تحریک   پارٹی کے بانی الپ ارسلان تُرکیش کے نظریات  کی تشکیل میں مؤثر ثابت ہوا۔

 

تُرکیش    کی جمہوریہ ترکی کے بانی اتاترک کے'فکری باپ  دادا'  تصور کیے جانے والے ضیاء گیوک الپ کی 50 ویں  برسی کے  موقع پر تقریر اس حوالے سے با معنی  ہے۔ تُرکیش نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ:"ہمارا راستہ ضیاء گیوک الپ سے طاقت حاصل کرنے والا ایک راستہ ہے،  فطری طور پر   نئے دور کے تقاضے بدلتے رہتے ہیں، نئے حالات کے مطابق  اصولوں میں بعض ترامیم    ہوں گی،   تا ہم بنیادی اصول قائم دائم ہیں۔ 'ترک ازم، اسلام ازم اور جدت ' آج بھی اپنی اقدار کا تحفظ کرنے والے بنیادی اصولوں میں شامل ہیں۔

تُرکیش نے   خارجہ  پالیسی کی کچھ یوں تشریح کی تھی:' خارجہ پالیسی  ایک مملکت کے کسی دوسرے مملکت سے  تعلقات   کو قومی مفادات کی روشنی میں استوار کرتے ہوئے جاری رکھنے پر مبنی ہوتی ہے۔ ' ان کے مطابق خارجہ پالیسی کا تعین کرتے وقت جیو پولیٹک  معاملات   نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایک  ہی  خطے میں  موجود مملکتوں اور ریاستوں  کے ساتھ باہمی تعلقات  کو پیش پیش رکھا  جاتا ہے۔

تُرکیش کے لیے خارجہ پالیسی  کے تعین میں قومی اہداف کا عنصر نمایاں  ہوتا تھا۔  جن میں  آزادی مملکت اور زمینی سالمیت سر فہرست   ہیں۔ تاریخ بھر میں اقوام  نے ہمیشہ کہیں زیادہ  مضبوط کسی سیاسی ڈھانچے،   زیادہ    فوجی ساز وسامان سے لیس فوج اور مزید خوشحالی کی خاطر کوششیں   صرف کی ہیں۔  اس بنا پر  خارجہ پالیسی کا دوسرا ہدف ان  کے حصول کے لیے بر سر ِ پیکار رہنا  ہے۔

خارجہ  اور داخلہ پالیسی ایک دوسرے سے طاقت حاصل کرتی ہیں  اور ایک دوسرے کو متاثر  کرتی ہیں۔ تُرکیش کے نزدیک  اگر ایک حکومت ملک کے اندر شعور، امن  وامان  اور سکون سے عاری رہتی ہے تو پھر اس کی خارجہ پالیسیاں بھی کمزور ہی رہتی ہیں۔ اسی طرح  ملکی حالات  کے پر امن اور پُر سکون  ہونے  کے اثرات  خارجہ پالیسیوں کو اسی طریقے سے متاثر کرتے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ  کی غلامی   میں ہونےو الی مملکتوں کی نجات، اقتصادی   بحرانوں سے دو چار معاشروں کی خوشحالی اور  عالمی امن  کے قیام میں  اہم ہونے کا  کہا تھا۔  لیکن  تُرکیش کے مطابق  اقوام متحدہ    اپنے  ڈھانچے میں  بعض  ریاستوں کی امتیازی حیثیت   کے باعث   اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر   رہتا ہے۔ یہاں پر  الپ ارسلان تُرکیش اور جمہوریہ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان  کے اقوام متحدہ کو ایک  دریچے سے دیکھنے   اور اس حوالے سے  اپنی اپنی  نکتہ چینی کو  اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل  کے  غیر منصفانہ  ڈھانچے   پر  کرنے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ درحقیقت  صدر ایروان  نے ' دنیا 5 ملکوں سے بڑی ہے' بحث کو چھیڑتے  ہوئے اپنے اس نظریے کو  واضح طور پر  ایجنڈے میں  لایا ہے۔

سن 1933  میں اتاترک جبکہ سن 1944 میں  الپ ارسلان تُرکیش کی سوویت یونین  کا شیرازہ بکھرنے  سے متعلق  سوچ سن 1991 میں  وقوع پذیر ہوئی۔تاریخ نے ان دونوں رہنماؤں کو حق بجانب ٹہرایا۔  شیرازہ بکھرنے کے بعد  آزادی سے ہمکنار ہونے والی ترک جمہورتوں  سے ترکی کے تعلقات  کے کس  نوعیت کے ہونے کا تُرکیش نے مندرجہ ذیل الفاظ سے خلاصہ پیش کیا تھا:'ترک معاشروں میں قربت اور قریبی تعاون  قائم کرنا  تیسرے فریقوں کو کبھی بھی نقصان پہنچانے اور حملے کرنے کا مقصد  نہیں رکھے گا۔ خواہش  کردہ تعاون و قربت  کی کاروائیاں،  کرہ ارض میں  امن و آشتی کے ماحول میں خوشحالی و خوشنودی  حاصل کرنے  کا ہدف رکھیں گی۔ ترک  دنیا کہ چاہے کسی بھی علاقے میں کیوں  نہ ہوں، یہ دیگر اقوام   سے تعلق رکھنے والے ہمسائیوں یا پھر مل جل کر زندگی بسر کرنے والے دیگر طبقوں کے ساتھ دوستی و نیک نیتی،  امن پر مبنی قریبی تعاون کے متمنی رہتے ہیں۔"

آج ہم جن حالات سے گزر رہے ہیں ، مملکتوں  کے اہم ترین عناصر میں سے  ایک خارجہ پالیسی ہے۔ ایک ریاست اس کے  خطے میں زندگی بسر کرنے  والی اقوام ، مشترکہ ثقافت کے حامل معاشروں کے ساتھ  خارجہ پالیسی کی بدولت باہمی تعلقات قائم کرتی ہے۔ الپ ارسلان کے نظریات و افکار کی روشنی  میں اس موضوع کا لب لباب  کچھ یوں ہو گا؛  کسی مملکت کو اپنی پالیسیاں مرتب کرتے وقت ہر چیز سے پیشتر اپنی خود مختاری اور زمینی سالمیت  کو خطرے میں نہ ڈالنے  کی شکل میں تمام تر امکانات کو بروئے کار لانا چاہیے۔ اس اعتبار سے جمہوریہ ترکی کے منتظمین  کو خارجہ پالیسیاں تشکیل دیتے وقت قومی مفادات کے کیا ہونے کا تعین کرتے ہوئے اس کے مطابق  حرکت کرنی چاہیے۔ انہیں اس سلسلے  کے دوران ترکی کی صورتحال کا بخوبی جائزہ لیتے ہوئے  اپنا مؤقف  وضع کرنا چاہیے۔

الپ ارسلان  تُرکیش نے اس فانی دنیا سے رخصت ہونے تک اپنے آپ کو ترک قوم اور  ترک برادری کی خدمات کے لیے وقف رکھا۔ ان کی پُرعزم جدوجہد،  اپنی زندگی کو ملک و قوم کے لیے مختص کرنے کی  ایک اہم اور خوبصورت مثال تشکیل دیتی ہے۔ آج جمہوریہ ترکی ،صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں  اتاترک اور تُرکیش کے ورثے    پر کار بند ہے، یہ ترک قوم اور ترک برادری  سمیت بنی نو انسانوں کی خدمات میں  سر گرمِ عمل ہے۔



متعللقہ خبریں