حالات کے آئینے میں ۔ 15

حالات کے آئینے میں ۔ 15

حالات کے آئینے میں ۔ 15

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام کے دارالحکومت دمشق میں مشرقی الغوطہ کے علاقے دُوما میں ایک تازہ کیمیائی حملہ کیا گیا جس  کے نتیجے میں زیادہ تر عورتوں اور بچوں سمیت کثیر تعداد میں شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔ ابتدائی جائزے کے مطابق حملے میں اعصابی گیس استعمال کی گئی۔ شام میں جنگ کے آغاز سے ہی مخالفین کے زیر کنٹرول مشرقی الغوطہ کا علاقہ حالیہ دنوں میں انتظامیہ کا بنیادی ہدف بن چکا تھا۔ کئی ماہ سے علاقے پر بھاری بمباری کی جا رہی تھی اور علاقے میں موجود ہسپتالوں، اسکولوں اور مساجد جیسے شہری مقامات کو بھی ایک تواتر سے ہدف بنایا جا رہا تھا۔

سیاست، اقتصادیات اور سماجی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون  کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

دارالحکومت دمشق کے جغرافیائی محل وقوع کے اعتبار سے  اسٹریٹجک حوالے سے  انتظامیہ کے لئے براہ راست خطرہ تشکیل دینے والے علاقے مشرقی الغوطہ کو مخالفین کے کنٹرول  سے واپس لینا اور یہاں سے مخالفین کا صفایا کرنا انتظامیہ کے نقطہ نظر سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ جنگ کے آغاز سے یعنی 7 سال سے مشرقی الغوطہ انتظامیہ کے زیر محاصرہ  ہے اور ترکی اور روس کے باہمی اتفاق سے شروع کئے جانے والے آستانہ مذاکراتی مرحلے کے دائرہ کار میں اعلان کئے جانے والے بفر زون علاقوں میں شامل تھا۔ لیکن انتظامیہ اور انتظامیہ کے حامی روس اور ایران  نے علاقے کی دہشت گرد تنظیموں کا بہانہ بنا کر علاقے کو ہدف بنانا شروع کرد یا تھا۔ شدید بمباری کے بعد علاقے میں موجود مخالفین نے بھی حالیہ دنوں میں روس کی ثالثی کے ساتھ ہتھیار پھینکنا  شروع کر دیا تھا اور  انہیں شام کے شمال کی طرف ترکی  کی آبادی والے علاقوں کی طرف  بھیجا جا رہا تھا۔

انخلاء کے مرحلے کے ساتھ مشرقی الغوطہ کے علاقہ دُوما   میں صرف جیش الاسلام  باقی رہ گئی تھی۔ جیش الاسلام اور انتظامیہ کے درمیان مذاکرات میں روس ثالثی کر رہا تھا۔ روس کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے کی رُو سے جیش الاسلام نے علاقے میں اپنی موجودگی کو برقرار رکھنا تھی  اور پولیس فورس کی حیثیت سے علاقے میں لاء اینڈ آرڈر قائم کرنا تھا۔  لیکن اس سمجھوتے کو اسد انتظامیہ کی طرف سے منظور نہیں کیا گیا۔ جیش الاسلام کے دُوما سے انخلا کو مسترد کرنے پر مذاکرات میں تعطل آگیا تھا۔ اس مرحلے کے دوران دُوما پر کیمیائی حملہ کیا گیا۔ اس کیمیائی حملے میں کثیر تعداد میں شہری ہلاک ہو گئے اور جیش الاسلام دُوما  سے شام کے شمال کی طرف  انخلاء کو قبول کرنے پر مجبور ہو گئی۔ یوں ایک طرف دُوما میں رہنے پر اصرار کی قیمت کیمیائی حملے کی وجہ سے بھاری ہو گئی تو دوسری طرف کیمیائی حملے کے بعد شہریوں میں خوف اور اندیشوں میں اضافے  ہوگئےا ور شہریوں کے مطالبے پر جیش الاسلام   نے انخلاء پر  اتفاق کر لیا۔ کیمیائی حملے  کے ساتھ اسد انتظامیہ  دمشق کے مرکز کے قریب شامی مخالفین  کی بنیادی بیس کو خالی کروانے میں کامیاب ہو گئی۔

انخلاء  کے سمجھوتے پر عمل درآمد  نہ ہونے کی صورت میں دُوما کو کنٹرول میں لینے کے لئے کسی فوجی آپریشن کی مالیت بہت بھاری ہو جاتی۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ دُوما میں جیش الاسلام ایک طویل عرصے سے دفاعی لائنیں تعمیر کر رہی تھی  اور اس کے اسلحہ ڈپووں میں کثیر تعداد میں ایمونیشن اور بھاری اسلحہ موجود تھا۔ علاوہ ازیں شامی مخالفین میں جیش الاسلام کو فوجی صلاحیت کے حوالے سے برتری حاصل تھی۔ زیادہ تر سابقہ فوجیوں پر مشتمل جیش الاسلام کا زیر محاصرہ علاقے دُوما کا دفاع کرنا انتظامیہ کو بہت مہنگا پڑنا تھا۔   اس کی  ایک واضح مثال دُوما سے مشابہہ شہر درعا ہے کہ جس  کا کنٹرول سنبھالنے کے لئے اسد انتظامیہ نے کئی ماہ تک جاری رہنے والے آپریشن کی بھاری قیمت چکائی تھی۔ کیمیائی حملے کے ذریعے کہ جس کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے  کہ اسد انتظامیہ کی طرف سے کیا گیا ہے، اسد انتظامیہ بھاری بدل سے بچ گئی اور فوری اور سہل نتائج حاصل کر چکی ہے۔ کیمیائی اسلحے کا استعمال انسانی اقدار کے منافی ہی کیوں نہ ہو حالیہ حملہ انتظامیہ کے نقطہ نظر کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی کی حیثیت رکھتا ہے۔

یہ چیز بھی قطعی ہے کہ جب تک اسد انتظامیہ  کی طرف سے کیمیائی اسلحے کے استعمال پر بین الاقوامی ردعمل پیدا نہیں ہوتا اس وقت تک انتظامیہ کے حوالے سے یہ کم ترین مالیت والا حل  ہی شمار ہوتا رہے گا۔ جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک اسد انتظامیہ 215 دفعہ کیمیائی اسلحے کا استعمال کر چکی ہے اور بین الاقوامی برادری کی بے حسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ وہ آئندہ بھی کیمیائی اسلحے کا استعمال کرے گی۔ علاوہ ازیں انتظامیہ کو سفارتی معنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس  کے تعاون پر بھروسہ تو ہے ہی لیکن فوجی حوالے سے بھی روس کے بلا مشروط تعاون و حمایت پر یقین رکھتے ہوئے بہت ممکن ہے کہ مذکورہ کیمیائی حملہ انتظامیہ نے  کیا ہو۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ایک ایسے توازن میں کہ جب انسانی اقدار کو ایک طرف رکھ دیا گیا ہے بین الاقوامی  برادری اندھی، بہری اور گونگی بنی ہوئی ہے اسد انتظامیہ کے حوالے سے دُوما کے لئے بہترین حل کیمیائی اسلحے کا حملہ  ہے۔



متعللقہ خبریں