حالات کے آئینے میں ۔ 17

حالات کے آئینے میں ۔ 17

حالات کے آئینے میں ۔ 17

عراق اور شام  میں ہونے والی پیش رفت نے  ترکی کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ان حالات میں ترکی  میں صدارتی اور عام انتخابات کے کروانے سے ترکی  کو خطرات بھی لاحق  ہوسکتے ہیں۔ 24 جون  کو ترکی میں انتخابات کروانے کے پیچھے دراصل   علاقے کی صورتِ حال اور دیگر پیر رفت نے بھی بڑا اہم کردارا ادا کیا ہے۔  علاقے میں  نیا  م نقشہ وضع کیا جا  رہا ہے تو اس دوران ترکی طویل عرصے تک انتخابی مہم میں اپنا وقت ضائع بھی نہیں کرنا چاہتا ہے۔  ترکی میں  سیاسی، فوجی یا پھر اقتصادی  کمزوری کی صورت میں  علاقے کے دیگر ممالک فوری طور پر ترکی کی اس صورتِ حال  سے استفادہ کرنے  کے لیے تیار بیٹحے دکھائی دیتے ہیں۔  اس لیے ترکی میں قبل از وقت انتخابات  اس قسم کی سورتِ حاہل سے بچنے کے لیے اٹھایا جانے والا ایک قدم ہے۔

اس موضوع سے متعلق  سیاسی، اقتصادی اور معاشرتی  تحقیقاتی فاونڈیشن SETA  کے ریسرچر اور رائٹر  جان  آجون  کے اس موضوع سے متعلق جائزے کو آپ کی خدمت میں پیش کررہے ہیں۔

 جیسا  کہ آپ جانتے ہیں   عراق اور شام کی صورت ِ حال کسی قسم کا کوئی استحکام موجود نہیں ہے  اس لیے ترکی کو اپنے  آپ کو مستحکم بنانے کے لیے مسلسل  اپنی جنوب  مشرقی سرحدوں کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہےشام جو گزشتہ آٹھ سالوں سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے  اور یہ خانہ جنگی ہمسایہ ممالک  کے لیے  دردِ سر بنی ہوئی ہے  کیونکہ اس خانہ جنگی کی  وجہ سے  شام کے آبادی کا بڑا حصہ ملک کو ترک کرتے ہوئے ہمسایہ ممالک میں پناہ لیے ہوئے ہے ۔ان پناہ  گزینوں میں سب سے زیادہ پناہ گزین ترکی  کے مخلتف شہروں میں آباد ہے  جس کی تعداد سارھے تین ملین سے تجاوز کرچکی ہے اور مزید پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ شام میں  جاری خانہ جنگی سے سب سے زیادہ متاثر ملک ترکی ہی ہے  کیونکہ  شام میں  برسر پیکار   دہشت گرد تنظیموں  جن میں پی کے کے ، پی وائی  جی اور وائی پی جی شامل ہیں  کو امریکہ نے  شام میں اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ کافی عرصے سے جاری رکھا ہوا تھا۔ امریکہ ابتدا میں تو اس  ان دہشت گرد تنظیموں کی پشت پناہی سے انکار کرتا رہا ہے لیکن  ان دہشت گرد تنظیموں کو ملنے والے جدید اسلحے کی جب  فوٹیج اور   فوٹو گرافس نے عالمی میڈیا میں  جب جگہ پانا شروع کیا اور امریکی  کمانڈرز کی جانب سے کھلے عام ان  کی ٹریننگ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا تو  ترکی  جو کہ  نیٹو میں امریکہ کا اتحادی ملک ہے  امریکہ کے اس دوغلی پالیسی پر اپنے شدید ردِ  عمل کا اظہار کیا اور امریکہ پر واضح کردیا کہ اگر اس نے ان دہشت گردوں کا اسلحہ بہم پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا تو   پھر ترکی خاموش تماشائی نہیں بنا بیٹھا رہے گا بلکہ وہ ان دہشت گردوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی کرے گا۔ ابتدا نے متحدہ امریکہ نے ترکی کی اس دہمکی کی ذرہ بھر بھی پرواہ نہ کی اور دہشت گردوں کی پشت پناہی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ ترکی کے بار بار انتباہ کے بعد  امریکہ نے ترکی کے خدشات کو دور کرنے  کے سابق وزیر خارجہ  ٹلرسن  کو ترکی کے دورے پر  روانہ کیا جنہوں نے صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات  کی ۔ دونوں رہنماؤں نے کھلے انداز میں گفتگو کی اور باہمی تعلقات کو زیادہ بہتر بنانے پر زور  دیا۔ صدر ایردوان نے اس ملاقات میں شام سے متعلق حکومتی پالیسی کے بارے میں اپنی ترجیحات اور توقعات سے امریکا کو باخبر کر دیا ہے اور امریکہ سے  فوری طور پر شامی اپوزیشن اتحاد سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے دہشت گرد تنظیم  پی کے کے   شام میں موجود ایکسٹینشن  وائی پی جی اور  پی وا ئی  ڈی  کو نکال  دینے  کا مطالبہ کیا  اور ایسا نہ کرنے کی صورت میں  ترک فوجی دستوں کی جانب سے   علاقے میں بڑے پیمانے پر فوجی کاروائی کرنے سے آگاہ کردیا گیا  ۔ امریکہ کی جانب سے اگرچہ  ہمیشہ کی طرح ترکی کے خدشات دور کرنے  کا وعدہ کیا گیا  اور اس سلسلے میں  ورکنگ گروپ تشکیل دینے کی لالی پال  ترکی کو دے گئی لیکن ترکی بھلا اس لالی پاپ سے بہلنے والا نہیں تھا اس نے  بیس جنوری سے  شام  میں برسر پیکار  دہشت گردوں  کے خلاف بڑے پیمانے پر " شاخِ زیتون" کے نام سے فوجی آپریشن شروع کیا اور اس نے اپنے اس فوجی آپریشن کو سویلین کو نقصان پہنچائے بڑی آہستگی سے جاری رکھا اور اخر کار 58 روز کے بعد شام  کی ڈسٹرکٹ " عفرین" کے مرکزی علاقے   تک پہنچنے میں رسائی حاصل کی  اور عفرین  شہر کے مرکزی علاقے جہاں پر  دہشت گرد تنظیم " پی کے کے کے سرغنہ عبداللہ اوجالان کے  بینرز  تنظیم کے جھنڈے  لہرا رہے تھے    کو ہٹاتے ہوئے ترکی کے پرچم گاڑ دیے ہیں۔ گزشتہ دو ماہ سے جاری اس لڑائی میں ترک افواج کو فری سریئن آرمی کا تعاون بھی حاصل تھا۔ عفرین کی اس لڑائی کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ شہری متاثر ہوئے ہیں۔ترک صدر رجب طیب ایردان نے اتوار کے  ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  ایک ایسے روز جب   فتح  چناق   قلعے   کی  103 ویں سالگرہ منائی جا رہی ہے عفرین کی فتح بڑی  اہمیت کی حامل ہے ۔ ترک مسلح افواج نے صبح ساڑھے پانچ بجے ڈسٹرکٹ   عفرین   سے اپنی فوجی کاروائی کا آغاز کی اور   صبح ساڑھے اٹھ بجے  عفرین شہر کے مرکزی علاقے میں ترک پرچم لہرانے میں کامیاب رہے۔ان تمام حالات کو دیکھتے ہوئے ہی ملک میں  انتخابات کا فیصلہ کیا گیا۔



متعللقہ خبریں