ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 17

جنگ عظیم اول کے دوران آرمینی دعووں کے حوالے سے حقائق پر ایک جائزہ ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 17

گزشتہ چند برسوں سے ہر ماہ اپریل میں پہلی جنگ عظیم کے دوران یعنی سن 1915 میں  سلطنتِ عثمانیہ کی سرحدوں کے اندر  پیش آنے والے واقعات  کے حوالے سے دنیا بھر میں مختلف اشاعت و نشریات اور اعلانات کا مشاہدہ  ہو رہا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے نقطہ نظر سے  سن 1915 کے آرمینی واقعات کا  جائزہ  اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے ۔۔۔

حالیہ  برسوں میں  ہر اپریل کے مہینے میں ایک دوسرے سے مشابہہ   مناظر کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ جنگ ِ عظیم اول  کے دوران دولت عثمانیہ  کی سرحدوں میں  پیش آنے والے واقعا ت  کے حوالے سے دنیا بھر سے مختلف ادارے، تنظیمیں اور افراد نشر و اشاعت و بیانات کا سہارا  لیتے  رہتے ہیں۔

آرمینی یا پھر آرمینی نظریے کا دفاع کرنے والے افراد کی اکثریت  کا تعلق  تاریخ  یا پھر سیاست سے  ہے۔ یہ افراد  پیش آنے والے واقعات کو نسل کشی سے تعبیر کرتے ہیں۔ ترک یا پھر ترک نظریے کے دفاع  میں ہونے والے افراد  کی ایک کثیر تعداد اس معاملے کا تاریخی نقطہ  نظر سے جائزہ لیتی ہے اور  یہ منتقلی اور آبادی کاری قانون  کے عمل درآمد کے  نسل کشی نہ ہونے کا دفاع کرتی ہے۔

سالہا سال قبل  واقعات  کے حقائق کو جاننے کے لیے  تاریخی پیش نظر کی ضرورت ہے۔ تا ہم "نسل کشی" نظریہ  بین الاقوامی قوانین کے زمرے میں آتا ہے۔ لہذا ماہرین تاریخ    سے  تعلق رکھنے  والے یا پھر سیاستدانوں کی جانب سے اس حوالے سے اپنی سوچ کو بیان کرنا  اس معاملے کے تجزیے میں بعض خامیاں  آنے کا موجب بنتا ہے۔ اس موضوع کے حوالے سے  بیانات جاری کرنے والے  اپنے اپنے نقطہ نظر  کے مطابق مختلف  تعداد میں ہلاکتوں کا موجب بننے والے  ان واقعات کو نسل کشی  سے تعبیر کرتے ہیں۔  در حقیقت  ایک عالمی جرم  کے  طور پر نسل کشی کی تشریح   صرف اور صرف قوانین   ہی   کر سکتے ہیں۔

نسل کشی کے معاملے میں  پہلا  قابل ذکر قانون 260 نمبر کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرار داد  کی روشنی میں سن 1948  میں نسل کشی کا سد باب اور اس کی سزا معاہدے کی منظوری  کی شکل میں منظر عام پر آیا۔ آرمینیوں نے  دولت عثمانیہ کی سر زمین پر اولین طور پر نیم   خود  مختار اور بعد میں خود  مختار مملکت  قائم کرنے   کے زیر مقصد سیاسی  و مسلح ساز باز کی۔ لہذا اس فعل کو ایک سیاسی   حربے  کے زمر ے میں  شامل کیا جا تا ہے۔ اس بنا پر  آرمینی  متعلقہ معاہدے  کی دوسری شق  میں  تحفظ  دیے جانے کی ضرورت ہونے  والے 4 گروہوں میں  داخل نہیں ہوتے۔

اس دور کی  دولت ِ عثمانیہ  میں  معاہدے کی دوسری شق میں   جگہ پانے والے  قصدی طور پر ختم کرنے   کی کاروائیوں اور اعلانات کا مشاہدہ نہیں ہوتا۔ وجود کو مٹانے  کے ارادے کا ثبوت پیش  کرنے والی تحریری و لفظی دستاویز  موجود نہ  ہونے  کے ساتھ ساتھ آرمینی باشندوں کو تحفظ فراہم کرنے اور باآسانی آباد کاری  کرنے میں  تعاون   فراہم کرنے کا مشاہدہ ہوتا ہے۔ ہلاک ہونے والے   آرمینی باشندوں کی تعداد ، نسل کشی  ہونے  کو ثابت کرنے کی تعداد   سے کافی  دور ہے۔ آرمینی باشندوں کی اموات   کے اسباب  نقل مکانی اور آبادی کاری  قانون پر عمل درآمد کے علاوہ کی حرکات سے  تعلق رکھتا  ہے۔  انہی اسباب سے علاقے میں  قتل کیے جانے والے  ترک شہریوں   کی تعداد کافی بلند ہے۔ اس  اعتبار سے یہ   نقل مکانی و آباد کاری قانون   کی شق 2/C کے مفہوم کے مطابق خفیہ یا پھر بلواسطہ نسل کشی  نہیں  ہے۔

معاہدے کی رو سے نسل کشی نہ ہونے والے  نقل مکانی اور  آباد کاری قانون کے  بعد  کے عسکری تقاضوں  کو بالائے طاق رکھنے سے  قانونی طور پراسے  ' بنی نو انسانوں کے خلاف جرم' کے زمرے میں  بھی تصور نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ مذکورہ قانون  کے نفاذ کے  دوران  روم  کی حیثیت سے    ساتویں شق   میں وضع کردہ شرائط بھی اس عمل پر پورا نہیں اُترتیں۔ یعنی آرمینی  آبادی کے خلاف  حکومتی منصوبے کے دائرہ کار میں 'وسیع پیمانے کے اور باقاعدہ حملے کے ایک حصے کے طور پر" بنی نو انسانوں کے خلاف جرم تصور کی جانےوالی کاروائیوں  کے بیک وقت ہونے کی صورتحال   سامنے نہیں آسکی۔ نقل مکانی وآباد کاری  قانون  نسل صفائی سے ہٹ کر آرمینیوں کو  جبری طور پر  نقل مکانی کرانے  کا مقصد نہیں رکھتا تھا۔  ان کے خلاف مذہبی  یا پھر کسی دوسری  وجہ سے حملے نہ  کیے گئے اور ان کی نقل مکانی اور آباد کاری کے  پیچھے عسکری جواز کار فرما تھے۔  اس سے ہٹ کر  دولت عثمانیہ نے قابض روسی فوج کے ساتھ  اتحاد قائم کرتے ہوئے بلقانی جنگوں کی طرح ترک ۔ مسلمانوں کی نسل کشی کی طرح کی   ایک  کاروائی  کی راہ میں  رکاوٹ پیدا کرنے کا  ہدف بنایا۔

جنگی ماحول میں علاقے میں  پیدا ہونے والے اختیارات کے فقدان  سے علاقے کے بعض جتھوں   کے  اسفادہ کرنے کو ہم جانتے ہیں،  علاقائی جتھوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ہجرت  کی راہ میں  ہونے والے آرمینی باشندوں پر حملے کیے ان کا قتل کیا اور مال و اسباب لوٹا۔  تین محاذوں پر نبرد آزما دولت عثمانیہ  اپنی مٹھی بھر  فوج  کے باعث تمام تر آرمینی شہریوں کو مؤثر طریقے سے تحفظ فراہم نہ کر سکی۔ علاوہ ازیں موسمی حالات، جغرافیہ ، خوراک و ادویات کے فقدان اور بیماریوں کی بنا پر نقل مکانی پر مجبور  ہونے والے ترکوں  کی اموات کے آرمینیوں کی اموات سے زیادہ ہونا بھی  نقل مکانی و آبادی کاری کے قانون کے  ساتھ راستے میں  آرمینیوں کی نسل کشی کرنے کا مقصد نہ ہونے کا بھی مظاہرہ ہوتا ہے۔ در حقیقت  لیٹروں کو جرائم اور قتل  کرنے کی پاداش میں  جنگ کے خاتمےسے پیشتر ہی   عدالت میں پیش کرتے ہوئے  انہیں  سزائیں  دیں گئیں اور زیادہ تر کو پھانسی  دے دی گئی۔

اب اس معاملے کو تاریخی و قانونی معاملہ ہونے سے ہٹ کر سیاسی  نقاب پہنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔  بین الاقوامی تعلقات کی زمین پر ترکی کو ایک رقیب اوراس  کی خارجہ پالیسیوں کو اپنے لیے خطرے کی نظر سے   دیکھنے والی مملکتیں و تنظیمیں اس معاملے کو  ترکی کے خلاف ایک مہرے کے طور پر استعمال کرنے کے درپے ہیں۔

آج مد نظررکھا جانے والے ایک دوسرامعاملہ آرمینیوں کے اندر انتہا پسند گروہوں کی دو طرفہ جنگ  کی خواہش  ہے۔ یہ آذربائیجان کے خلاف ایک خونی جنگ اور ترکی کے خلاف نفسیاتی جنگ  کر رہے ہیں۔

آرمینی دعووں کے ساتھ  ایک دوسرا مقصد  کچھ یوں ہے: دنیا کے مختلف مقامات پر مقیم ، آپس میں مضبوط روابط  نہ پائے جانے والے  اور رہائش پذیر ممالک میں  سرعت سے وجود کا خاتمہ ہونے کے قریب ہونے والے آرمینی پائے جاتے ہیں۔  یہ لوگ  آپس میں یکجا ہونے کا مقصد رکھتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ نسل کشی کا ڈھونڈ رچا رہے ہیں۔ مشترکہ طور پر کرب کا سامنا کرنے کا جھوٹ ان کے یکجا ہونے میں بارآور بھی ثابت ہوا ہے۔

اس معاملے کا محض سن 1915 کے نقل مکانی و آباد کاری قانون کی بنیاد پر جائزہ لینا غلط امر ہے، بلکہ اس کا زیادہ وسیع پیمانے پر احاطہ کرنا لازمی ہے۔ 1820 تا 1920 بلقان اور قفقاز میں ترکوں کی نسل  کشی میں 40 لاکھ ترکوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔ اس وحشیانہ اقدام سے عالمی رائے عامہ کو آگاہی کرائی جانی چاہیے۔ علاوہ ازیں  مذکورہ دورانیہ میں 50 لاکھ ترکوں کو  جبراً ہجرت پر مجبور کیا گیا۔ اس معاملے پر بھی جامع تحقیقات  کرتے ہوئے اس کے نتائج سے پوری دنیا کو آشکار کیا جانا چاہیے۔



متعللقہ خبریں