ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 18

ترکی میں جوہری پاور اسٹیشن کے قیام کی بدولت ترکی اور روس میں نت نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  18

ترکی کے پہلے جوہری بجلی گھر  یعنی آک قویو  نکلیئر پاور اسٹیشن کا سنگ بنیاد قلیل  مدت پیشتر صدرِ ترکی رجب طیب ایردوان اور روسی صدر ولادیمر پوتن کی شراکت سے منعقدہ ایک تقریب کے ساتھ رکھا گیا۔ جوہری توانائی کے معاملات کا جائزہ اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔۔

گزشتہ دنوں ایوان صدر میں ترک اور روسی صدور کی شراکت سے   آک قویو  نکلیئر پاور اسٹیشن کا  سنگ بنیاد   ڈالنے  کے حوالے سے  ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ پوتن اور ایردوان نے ویڈیو کانفرس کے ذریعے  اک قویو  میں منعقدہ تقریب میں  شرکت کی۔

1950 کی دہائی سے با حفاظت طریقے سے توانائی کے حصول  کی جستجو  دنیا بھر  کے اہم ایجنڈے میں شامل ہے۔ سن  1970 کی دہائی  کے اوائل میں ظہور پذیر ہونے والے تیل کے بحران  نے ان کوششوں میں تیزی لائی ا جس کے بعد جوہری توانائی کے حصول  پر کام شروع کیا گیا۔ عصرِ حاضر میں بھی بلا کسی عدم تسلسلی کے توانائی پیدا کرنے والے وسائل کے طور پر اس کی اہمیت برقرار ہے۔

جوہری توانائی کا بجلی کی پیداوار میں حصہ مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، اسوقت دنیا بھر کے اکتیس ممالک میں چار سو سے زائد نکلیئر ری ایکٹرز کام کر رہے ہیں۔ 104 نکلیئر پاور اسٹیشنز کے ساتھ امریکہ سر فہرست ہے۔ اسی طرح فرانس میں 58، جاپان میں 54، روس میں 32، جنوبی کوریا میں 20، جرمنی میں 17، بھارت میں 17، یوکیرین میں15 اور عوامی جمہوریہ چین میں 16 جوہری پاور اسٹیشنز بجلی پیدا کررہے ہیں۔ اسوقت زیر ِ تعمیر پاور اسٹیشنز میں چین، روس اور بھارت پیش پیش ہیں۔ چین موجودہ  نکلیئر ری ایکٹرز میں مزید اٹھائیس کا اضافہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ علاوہ ازیں بلغاریہ میں دو جبکہ فن لینڈ اور فرانس میں 17، 17 ری ایکٹرز زیر ِ تعمیر ہیں۔ فرانس میں دارالحکومت پیرس سے دو سو کلو میٹر سے بھی کم فاصلے پر چھ جوہری پاور اسٹیشنز سر گرم ِ عمل ہیں۔ اسپین میں بھی میڈرڈ کے جوار میں تین عدد جوہری پاور اسٹیشن موجود ہیں۔ برطانیہ کا برا ڈویل پاور اسٹیشن  لندن سے محض ستر کلو میٹر کی دوری پر  ہے۔

ترکی  کی بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیےبروئے کار لائے جانے والی قدرتی گیس اور مائع ایندھن کا تقریباً سو فیصد جبکہ کوئلے کا تقریباً تیس فیصد دوسرے ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے۔ ترکی،  ہائیڈرو پاور اسٹیشنز کی استعداد کے علاوہ  ونڈ، سولر اور جیو تھرمل کی طرح کی قابل ِ تجدید  توانائی کی پیداوار کر رہا ہے تو بھی  یہ سن 2023  تک  موجودہ  وسائل سے مجموعی کھپت کے تقریباً نصف کو ہی پورا کر سکے گا۔ بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سن 2023 کے  ترکی کے اہداف  کو پورا کرنے کے  حوالے سے بھی جوہری توانائی کا حصول انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ 500 ارب ڈالر کی برآمدات، 25000 ڈالر کی فی کس آمدنی اور 2 ٹریلین کی مجموعی قومی آمدنی  سمیت دنیا کی پہلی دس اقتصادی قوتوں میں شامل ہونے کی طرح کے اہداف کے حصول کے لیے نکلیئر پاور اسٹیشنز کا قیام ترکی کے لیے ایک متبادل سے ہٹ کر ایک لازم و ملزوم معاملہ بن چکا ہے۔

ترکی میں  جوہری توانائی کے حصول کی کوششوں کا ماضی 1950 کی دہائی  سے تعلق رکھتا ہے۔ تا ہم گزشتہ 60 برسوں میں ترکی  میں جوہری پاور اسٹیشن کا عدم قیام ترک  معیشت کے لیے اہم سطح کے نقصان کو تشکیل دیتا ہے۔ ترکی کے ساتھ بیک وقت جوہری توانائی کے حصول پر کام شروع کرنے والے جنوبی کوریا نے  نکلیئر ٹیکنالوجی کو بیس برسوں میں فروغ دیا ہے تو اس کے مقابلے میں ترکی موجودہ سال میں پہلے جوہری پاور اسٹیشن کا سنگ بنیاد ڈال سکا ہے۔ اس سلسلے میں   مسلسل پیدا کی جانے والی رکاوٹیں ، عصر حاضر میں ترک معیشت کے اہم ترین مسائل میں سے ایک بلند سطح پر توانائی کی درآمدات کا موجب بنی  ہیں۔ ترک  وزارت ِ توانائی کے اعداد و شمار کے مطابق اک قویو  اور سنوپ  کے جوہری پاور اسٹیشنز کی تکمیل کے بعد  مقامی توانائی کی مانگ کے بیس فیصد کو  ان کے ذریعے پورا کیا جائیگا۔ اس طرح سالانہ سولہ ارب مکعب میٹر قدرتی گیس  کی درآمدات نہیں کی جائینگی  جس سے سالانہ تقریباً 7,2 ملین ڈالر کی رقم   ترک خزانے میں ہی رہے گی۔

کسی ملک میں  جوہری توانائی کی منصوبہ بندی، ڈیزائنگ، انجنیئرنگ، ایڈمنسٹریشن، کوالٹی کنٹرول اور سیکورٹی کے شعور  کی طرح کی ٹیکنالوجی  پر مبنی ثقافت کو فروغ دیتی ہے۔ اس بنا پر  جوہری توانائی  کی جدید ٹیکنالوجی  محض بجلی کی پیداوار تک محدود نہیں ہے۔ اس قسم کی جدید  ٹیکنالوجی ملکوں کی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ نئے تعمیری اسرار و رموز سے جانکاری  اور ان کا فروغ، سائنسی و فنی ٹیکنالوجی کی استعداد و گنجائش میں اضافہ، کوالٹی کنٹرول اور معیار کا حصول، صنعتی شعبے میں  نئی شعبہ جات کا قیام  اور روز گار کے مواقع میں اضافہ اس سے حاصل ہونے والے فوائد کی چند مثالیں ہیں۔ نکلیئر ٹیکنالوجی ٹرانسفر کو کامیابی سے سر انجام دینے والے ممالک  میں نمایاں مقام کے حامل جنوبی کوریا  کے اس سے حاصل کردہ فوائد  ہم سب کی نظرو ں کے سامنے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی ترکی میں بلند سطح  کے سائنسی و فنی شعور  کے قیام، فنی تعلیم کے معیار  کے فروغ  میں اہم خدمات فراہم کرے گی۔ علاوہ ازیں اس کے مثبت اثرات دیگر شعبہ جات پر بھی مرتب ہو ں گے۔

ترکی میں جوہری پاور اسٹیشن کے قیام کی بدولت ترکی اور روس میں نت نئے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ بلند معیار کے حامل ماہرین کی تربیت کے معاملے میں بھی باہمی تعاون قائم کیا جائیگا۔  اسوقت روسی جامعات میں  220 کے قریب ترک طلباء و طالبات نکلیئر ٹیکنالوجی کی تعلیم حاصل کرنے میں سرگرداں ہیں۔ منصوبے کے ہدف کے مطابق سن 2023 تک پاور اسٹیشن کے پہلے بلاک سے بجلی پیدا کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اس منصوبے میں کامیابی ترک۔روس تعلقات اور باہمی تعاون کے فروغ کا وسیلہ ثابت ہو گی۔

ترکی  کی خطے میں اور دنیا میں بلندی کی جانب طاقت کی سطح  کو مضبوطی دلانے  اور اس میں مزید اضافہ کرنے کے لیے اسے شعبہ توانائی میں اہم سطح کے اقدامات اٹھانے لازم و ملزوم ہیں۔ اس حوالے سے نکلیئر انرجی ٹیکنالوجی کا حصول ترکی کی ترقی، خوشحالی ، توانائی کے میدان میں خود مختاری، اس پر اعتماد اور حاکمیت کو مزید فروغ دینے میں بار آور ثابت ہو گا۔ مزید برآں یہ نہ صرف  ترکی بلکہ بیک وقت یوریشا اور مشرق وسطی میں امن و آشتی کے قیام میں  ایک  اہم پیش رفت  ہو گی۔



متعللقہ خبریں