حالات کے آئینے میں ۔ 18

حالات کے آئینے میں ۔ 18

حالات کے آئینے میں ۔ 18

پروگرام "حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام میں علاقائی اور گلوبل  طاقت کی جد وجہد شام کی خانہ جنگی سے آگے نکل گئی ہے۔ اسد انتظامیہ نے سال 2011 میں عوامی مطالبات  کو رد کر کے ملک کو جمہوریت کی بجائے جنگ کی طرف گھسیٹا  جس کے نتیجے میں اس وقت شام  متعدد علاقائی اور گلوبل کرداروں کے لئے طاقت کی جدوجہد  کرنے کے اکھاڑے میں، ایک کھلے میدان جنگ میں  تبدیل ہو چکا ہے۔ ملک کو  ایک طرف اپنے داخلی جھڑپوں اور دہشت گردی کے مسائل کا سامنا ہے تو دوسری طرف دیگر ممالک کے درمیان علاقے میں کرتا دھرتا بننے کی جنگ جاری ہے۔ روس، امریکہ، برطانیہ اور فرانس  جیسے گلوبل کرداروں کے ساتھ ساتھ ترکی، ایران، سعودی عرب، قطر اور اسرائیل  جیسے علاقائی کردار بھی شام میں اثر و رسوخ حاصل کر چکے ہیں۔

سیاست، اقتصادیات اور تحقیقاتی وقف SETA کے محقق اور مصنف جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

علاقائی و گلوبل کردار شام میں اپنے مقاصد تک رسائی حاصل کرنے کے لئے متعدد نائب عناصر کو استعمال کر رہے ہیں۔ روس اسد انتظامیہ کو فضائی، برّی ، سفارتی اور مادی تعاون فراہم کر ر ہا ہے۔ روسی فضائیہ اور برّی فوج کے ساتھ اضافی طور پر کثیر تعداد میں روسی کرائے کے فوجی بھی شام میں مصروف عمل  ہیں۔ ایران مادی و فوجی تعاون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اسد انتظامیہ کے لئے انسانی وسائل بھی تشکیل دے رہا ہے۔ روس کے برعکس شام کی زمین پر ایران کے کثیر تعداد میں نائب ملیشیا  موجود ہیں جن میں شامی  ملیشیا بھی  شامل ہیں اور غیر ملکی   بھی ۔ایران، خاص طور پر لبنان  کی حزب اللہ، افغانستان  کی فاطمیون بریگیڈ، عراقی نجیبہ موومنٹ اور پاکستانی زینبیون بریگیڈ جیسے متعدد غیر ملکی نائب عناصر  کو شام میں لڑا رہا  ہے۔ شام میں ایران کے  غیر ملکی  نائب عناصر میں اضافی طور پر عوامی ڈیفنس فورسز کے نام سے متعدد شامی نائب عناصر بھی موجود ہیں۔  لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کی شام میں ایران کی طرف سے محض اس کے نائب لڑ رہے ہیں بلکہ ان کے ساتھ ساتھ بذات خود اس کی اپنی محافظ پاسداران اسلامی فورسز بھی اہم فرائض پر متعین ہیں۔ شام  کے متعدد مقامات پر روس اور ایران کی فوجی بیسیں اور ان کے زیر استعمال ہوائی اڈے موجود ہیں۔ ایک دوسرا محاذ امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا تشکیل کردہ محاذ ہے۔ مغربی  بلاک کا تشکیل کردہ محاذ دہشت گرد تنظیم داعش کے خلاف جدوجہد  کے نام پر دہشت گرد تنظیم وائے پی جی  پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس طرح وائے پی جی  کی زیر قیادت قائم کی گئی شامی ڈیموکریٹک فورسز  کے ذریعے شام کے  شمال مغرب  میں منبچ سے جنوب مغرب میں ابو کمال تک ایک طویل پٹی کو کنٹرول میں لئے ہوئے ہے۔ اس علاقے میں امریکہ اور  فرانس کی 25 کے قریب فوجی بیسیں موجود ہیں۔ ان بیسوں میں 2 فضائی پٹّیاں بھی مغربی بلاک کے زیر استعمال ہیں۔علاوہ ازیں شام کے جنوبی علاقے تنف  میں برطانیہ اور امریکہ کی 2 بیسیں موجود ہیں۔ اس علاقے میں مغاویر السوار نامی  فوجی ساخت کے ذریعے کاروائیاں کی جا رہی ہیں۔ اگرچہ سعودی عرب شام میں ایک طویل عرصے تک کبھی ہلکی اور کبھی  بھاری شکل میں شامی مخالفین  کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے لیکن حالیہ دنوں میں اس نے  وائے پی جی کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز کے ساتھ تعاون کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی زیر قیادت عرب ممالک  شامی ڈیموکریٹک  فورسز کے زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی متعین کر رہے ہیں۔

ایک محاذ ترکی تشکیل دے رہا ہے۔ ادلب  کے علاقے میں بفر زون  کو کنٹرول کرنے کے لئے ترکی نے علاقے میں 9 مانیٹرنگ نقاط قائم کئے ہیں اور توقع ہے کہ کُل 12 مانیٹرنگ پوائنٹ قائم کئے جائیں گے۔ علاوہ ازیں فرات ڈھال آپریشن اور شاخِ زیتون آپریشن کے ساتھ دہشت  گرد تنظیموں داعش اور وائے پی جی  سے صاف ہونے والے علاقوں میں اپنی فوجی موجودگی کو بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔ فرات ڈھال آپریشن اور شاخِ زیتون آپریشن کی بدولت عفرین، عزیز، الباب اور جرابلس کے علاقے شامی عوام کے لئے محفوظ مقامات کی شکل اختیار کر گئے ہیں اور ان علاقوں میں ترک اسپیشل فورسز کی تربیت یافتہ شامی پولیس  نظم و نسق قائم رکھے ہوئے ہے۔ شامی  پولیس، شامی مخالفین کی طرف سے قائم کی گئی اور بین الاقوامی منظوری کی حامل،  عبوری حکومت سے منسلک ہے۔ فوجی معنوں میں قائم کی گئی قومی فوج بھی شامی عبوری حکومت سے منسلک ہے۔  جہاں تک قطر کی بات ہے تو "قطر بحران" سے قبل قطر شامی مخالفین کو قریبی تعاون فراہم کر رہا تھا لیکن محاصرے کے بعد شام میں قطر کے اثر و رسوخ میں کمی آ گئی۔

ایک اور کردار اسرائیل ہے ۔ اسرائیل نے 67 کی جنگ میں بین الاقوامی قوانین کے منافی شکل میں گولان کی پہاڑیوں کا الحاق کر کے شام کی زمین کو قبضے میں لے لیا تھا۔ سال 2011 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں پر اپنی حاکمیت کو اور بھی زیادہ مضبوط کر لیا۔ اسرائیل شام میں ایران کے نائب عناصر میں اضافے پر  اور شام کے محاذ پر حزب اللہ کے قوت پکڑنے پر بے اطمینانی کا اظہار کر رہا ہے  اور وقتاً فوقتاً شام میں موجود ایران اور حزب اللہ کے اہداف پر فضائی حملے کر رہا ہے۔

سال 2011 میں اسد انتظامیہ کے عوامی مطالبات کو رد کر کے ملک کو جنگ میں جھونکنے کے بعد شام ایک اکھاڑے کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ جہاں علاقائی اور بین الاقوامی قوتیں طاقت کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ یہ کہنا ممکن ہے کہ شام قومی حاکمیت سے محروم ہو کر  حقیقی معنوں میں چند مختلف  عملداریوں یا ریاستوں میں تقسیم ہو چکا ہے ۔ لیکن شام میں جاری جنگ کو محض گلوبل اور علاقائی قوت کی اٹھا پٹخ  تک محدود کرنا درست نہیں ہو گا بلکہ اس بات کو واضح کرنا ضروری ہے کہ شام میں ابھی تک ایک خانہ جنگی جاری ہے۔

 



متعللقہ خبریں