پاکستان ڈائری - 19

پاکستان ڈائری میں اس بار ماحول دوست شخصیت عارف امین کا خصوصی انٹرویو

پاکستان ڈائری - 19

پاکستان ڈائری - 19

پاکستان ڈائری میں اس بار ماحول دوست شخصیت عارف امین کا خصوصی انٹرویو ۔وہ کتاب برڈز آف پاکستان اور کلرز آف دیوسائی کے مصنف ہیں۔عارف امین پاکستان میں 350 پرندوں کی تصاویر کھینچ چکے ہیں ۔ان کی دوسری کتاب میں انہیں وائلڈ لائف فوٹوگرافر غلام رسول کی معاونت بھی حاصل رہی۔کلرز آف دیوسائی اینگرو فوڈ لمیٹڈ کے تعاون سے حال ہی میں شایع ہوئی۔اس کتاب میں دنیا کے بلندترین میدانوں میں سے ایک دیوسائی کے فلورا اور فانا کو کیپچر کیا گیا ہے۔دیوسائی 4114 میٹر بلند ہے۔یہ میدان سکردو اور استور کے درمیان گلگت بلستان میں واقع ہے ۔

اس کتاب میں دیوسائی کے جانوروں پھولوں اور نباتات کے بارے میں تصاویر معلومات کے ساتھ شامل کی گئ ہیں ۔منفی پندرہ درجہ حرارت پر کام کرکے اس کتاب کو عارف امین نے مکمل کیا۔

عارف چترال پاکستان میں پیدا ہوئے۔والد آرمی میں تھے انکے ساتھ دوران پوسٹنگ پاکستان کا ایک بڑا حصہ دیکھا اور مختلف تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کی۔ماسٹرز اور ایم فل پلانٹ سائنسز میں قائد اعظم یونیورسٹی سے کیا ۔کولمبیا یونیورسٹی امریکا سے پلانٹ سائنسز میں اعلی تعلیم حاصل کی۔پروفیشنل لائف کا آغاز بطور استاد کیا۔کافی عرصہ درس و تدریس کے ساتھ وابستہ رہے۔آغا خان فاونڈیشن کے ساتھ 5 سال کام کیا ۔آسٹریلین ہائی کمیشن کے ادارے اوس ایڈ میں فرائض انجام دئے۔آج کل وہ شعبہ ایجوکیشن میں فری لانس کام کرتے ہیں ۔

اپنے سیاحت کے شوق کے حوالے سے انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا گھومنے کا شوق شروع سے تھا اور ساتھ فوٹوگرافی کا بھی آغاز کرلیاعارف امین نے ٹی آر ٹی کو بتایا کہ میں نے آغاز میں فوٹوگرافی کا کورس کیا اور پرینٹنگ ڈویلپنگ کو باقاعدہ سیکھا ۔میں ڈویلپمنٹ سیکٹر کے ساتھ کام کررہا تھا تو میں نے کام کے دوران ملک کے مختلف حصے دیکھے ساتھ ساتھ فوٹوگرافی بھی کی فوٹوگرافی میرا شوق ہے۔

عارف امین کہتے ہیں ہمارا ملک بہت خوبصورت ہے میں جب دیوسائی پہلی بار گیا تو میں نے بہت خوبصورت جگہیں اور پرندے دیکھے ۔میں برڈر ہوں مجھے پرندے دیکھنے کا بہت شوق تھا اور ہے۔ابتدائی تصاویر پرندوں کی کلک کی۔پہلی کتاب دو سال پہلے مکمل کی جس کا نام برڈز آف پاکستان ہے ۔اس کتاب میں پاکستان میں پائے جانے والے پرندوں کی تصاویر شامل ہیں ۔جب لوگوں نے کتاب کو پڑھا تو وہ حیران رہ گئے کہ پاکستان میں اتنے خوبصورت پرندے پائے جاتے ہیں ۔اس کتاب میں لوکل اور ہجرت کرنے والے پرندوں کی تفصیل شامل ہے۔کتاب میں پرندوں کی ان نسل کے بارے میں معلومات دی گئ ہیں جن کی نسل اب خطرے میں ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہاں یہ بات افسوسناک ہے کہ لوگ مہنگی لان تو خرید لیتے ہیں لیکن اچھی کتاب کم ہی خریدئ جاتی ہے۔

اپنی دوسری کتاب کلرز آف دیوسائی کے حوالے سے کرتے ہوئے عارف امین نے کہا کہ اس کتاب میں دیوسائی کی تصاویر کے ساتھ ایکو سسٹم کی تفصیل شامل ہے۔یہ کتاب اینگرو کے تعاون سے شایع کی گئ ۔وہ کہتے ہیں امن و امان کی بہتر صورتحال کی وجہ سے گزشتہ برس 12 لاکھ سیاح یہاں آئے اور اس سال گرمیوں میں امکان ہیں کہ اس سے زیادہ 15 سے 20 لاکھ سیاح آئیں گے۔دیوسائی کے حوالے آگاہی دینا ہوگی یہاں پر ایکو سسٹم کا خیال کرنا ہوگا سیاح نباتات، چرند پرند کو نقصان نا پہنچائیں ۔

دیوسائی کے بروان بیر کے بارے میں بات کرتے ہوئے عارف امین نے کہا کہ ہمالیہ وائلڈ لائف فاونڈیشن نے بروقت بھورے ریچھ کی نسل کو بچانے کے لئے اقدامات کئے 1987 میں انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ دیوسائی میں صرف 17 بروان بیر رہ گئے ہیں اس کے بعد سے ان کی نسل کو بچانے کے لئے کام شروع ہوا۔اس وقت دیوسائی میں بروان بیر کی تعداد 70 ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاحوں کے لئے ہدایت نامہ ہونا چاہیے کہ وہ دیوسائی میں شور نا کریں پٹاخے نا بجائیں گولیاں نا چلائیں دریا اور زمین کو آلودہ نا کریں ۔ پاکستان میں خوبصورت جگہیں بہت ہیں اس ہی لئے میں نے یہ کتاب لکھی کہ دنیا کے سامنے ملک کی خوبصورتی پیش کر سکیں ۔تاہم اس خوبصورتی یہاں پر موجود نایاب جانوروں پرندوں اور ماحولیات کی حفاظت بھی ہمارے زمہ ہے۔

وہ کہتے ہیں میں اگست سے دیوسائی میں  مہم شروع کرنے جارہا ہو جس میں ہم ماحولیات کے حوالے سے آگاہی دیں گے۔ہم سیاحوں کو لے کر جانے والے ڈرائیور کو بیگز دیں گے کہ وہ سیاحوں کو کچرا ادھر ادھر نا پھینکیں دیں ۔

وہ کہتے ہیں دیوسائی نیشنل پارک ہے وہاں پر ان قوانین کو عام کرنا ہوگا تاکہ نیشنل پارک کا درجہ برقرار رہ سکے۔وہ کہتے ہیں امکان ہےکہ دیوسائی پلین کو یونیسکو ورلڈ ہیرٹیج لسٹ میں شامل کرلے۔اس کے لئے قوانین پر پورا اترنا پڑتا ہے ہمیں اسکو مکمل طور پر فالو کرنے کی ضرورت ہے۔وہ کہتے ہیں کہ گلگت 

بلتستان کی حکومت دیوسائی کے ایک نالے کو سدپارہ لیک کی طرف موڑنے کی کوشش کررہی ہے اگر ایسا ہوگیا تو دیوسائی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچے گا ہماری کوشش ہے ایسا نا ہو۔



متعللقہ خبریں