ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 19

ترکی اور یونان کے بیچ  بحیرہ ایجین  کے بحران نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ  19

ترکی اور یونان کے مابین بحیرہ ایجین  میں کشیدگی اور تناؤ  ایک مختلف مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔  اس کشیدگی اور اس کے ترک خارجہ پالیسی پر اثرات  کا جائزہ    اتاترک یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی    تعلقات  کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کے قلم سے۔۔۔

ترکی اور یونان کے بیچ  بحیرہ ایجین  کے بحران نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ باہمی تعلقات میں  اس حد تک کشیدگی ،  یونان کی جانب سے ترکی میں بغاوتی اقدام کی ذمہ دار   دہشت گرد تنظیم فیتو   کے فوجی کارندوں کی  ترکی کو  عدم حوالگی اور گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جانے والے سینکڑوں کی تعداد میں فیتو   کے کارکنان سے بغلگیر ہوتے ہوئے انہیں  پناہ دینے    سے تعلق رکھتی ہے۔

یہ پیش رفت  ماضی  میں آسالہ اور ماضی قریب میں PKK کے لیے  کھولے گئے کیمپوں اور   اس تنظیم کے سرغنہ عبداللہ اوجالان  سے تعاون  کے اثرات کے تاحال باقی ہونے کے ایک  دور میں سامنے  آئی ہے۔  اس نکتے پر یہ خیال پایا جاتا ہے کہ   یونانی عدالتوں کی جانب سے  مفرور فیتو فوجیوں کی ترکی کو واپسی کے لیے فیصلہ صادر کیے جانے کے بعد  سیاسی عمل دخل  اس راہ میں  رکاوٹیں  پیدا  ہونے کا موجب بنا ہے۔  یونان  کے اس مؤقف کے پیچھے جرمنی کار فرما ہونے کے دعوے بھی رائے عامہ کے سامنے آچکے ہیں۔

تا ہم اس چیز کو بھی مد نظر رکھا جانا چاہیے کہ  دو طرفہ تعلقات  میں تناؤ   کو ایجین  علاقے   تک پھیلانے میں  یونانی وزارت دفاع و وزارتِ خارجہ  کے  اشتعال انگیز بیانات  نے سلگتی آگ کو بھڑکایا ہے۔

یونان کے بحیرہ ایجین کے حوالے سے اقدامات اور حربوں کا ترک سرزمین سے گرفتار کیے  جانے والے دو یونانی فوجیوں کی عدم حوالگی   سے بھی تعلق قائم کیا جا رہا ہے۔ تا ہم حکومت ِ یونان جانتی ہے  کہ یہ  ترکی کے مقابلے میں  قدرے کم سطح پر ہونے والی  فوجی طاقت  کے  ساتھ  ترکی  کو ڈرا دھمکا نہیں سکتی، علاوہ ازیں  اس کے ساتھ ساتھ اس مؤقف اور تیور کو  یونانی رائے عامہ کی توجہ کو کسی  اور جانب ہٹانے  کی   ایک چال اور یورپی یونین کے  اندر اس  کو مالی امداد فراہم کرنے والوں کے لیے  ایک پیغام کی  نظر سے  بھی  دیکھا جا سکتا ہے۔ کیونکہ  دھمکی  آمیز مؤقف  کو مزید شہہ دیتے ہوئے اسے  یورپی یونین کے لیے ایک   خطرے  کی نگاہ سے دیکھا جانا ممکن  ہے اور یورپی یونین کے بجٹ سے اضافی ادائیگیاں حاصل کرنے  کی سوچ کا  احتمال بھی قومی ہے۔

یونانی وزیر دفاع کامینوس  اس توقع  کا دفاع کرنے والوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔تا ہم یہ چیز در اصل یونان کے مفاد میں نہیں  ۔ویسے بھی  یونانی رائے عامہ میں  حکومت  کے خلاف رد عمل، ترکی کے لیے یونان میں ابھی بھی اعتدال پسند کسی  اعلی حکام  کے موجود ہو سکنے کا مظاہرہ کرتا ہے۔

جیسا کہ آپ کو یاد ہو گا کہ چند ہفتے پیشتر بحیرہ ایجین میں فوجی مشقیں کرنے والے یونانی فوجیوں  سے صدا بند ہونے والے وزیر دفاع کامینوس  نے ترکی کے بارے میں بات کرتے ہوئے'اشتعال انگیز دشمن' کے الفاظ صرف کیے تھے  اور کہا تھا کہ یونان نے بحیرہ ایجین میں  موجود یونانی جزائر کو اضافی 3500 فوجیوں  کی کمک روانہ کی ہے  اور ترکی کے ساتھ زمینی سرحدوں  کے حامل دریائے  میرچ  کے کنارے بھی آئندہ کے ایام میں اضافی فوجیوں  کی تعیناتی کی جائیگی۔ ایجین   کے علاقے میں حد درجے تناؤ  کا موجب بننے والے  کامینوس کے یہ بیانات کی نہ صرف ترک بلکہ یونانی  ذرائع ابلاغ میں بھی وسیع پیمانے کی بازگشت سنائی  دی تھی۔ حتیٰ ان اعلانات سے قلیل مدت پیشتر یونانی پریس میں یونانی وزیر اعظم الیکسز چپراس  کی جانب سے کامینوس سے ملاقات کرتے ہوئے ممکنہ اعلانات کے حوالے سے خبردار کرنے  کے دعووں کی  خبریں بھی  شائع ہوئی تھیں۔

یونان اور قبرصی یونانی انتظامیہ  کی مشرقی بحیرہ روم میں قدرتی گیس کی تلاش کرنے کے جواب میں ترکی  کی جانب سے بحیرہ ایجین میں جنگی مشقیں کرنے اور اس پر یونان کے بھی جنگی مشقوں کی تیاریاں کرنے کو  حکومت ِترکی  اشتعال انگیزی  کی کاروائیاں تصور کرتی ہے۔

یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایجین میں ترکی کی ملکیت ہونے والے جزائر  پر یونان  کی  طرف سے آباد کاری  کے عمل اور بالاآخر ان پر قبضہ جمانے  کی کوشش  نے کامینوس کو مندرجہ بالا بیانات کی جانب راغب کیا ہے۔ دراصل  یہ بات  منطقی ہو گی کہ کامینوس ترکی میں قبضہ کردہ ترک  جزائر  کے معاملات  میں سنجیدہ سطح کے ردِ عمل کا  مظاہرہ کرنے والے حلقوں  کی باتوں پر  کان دھریں اور اشتعال انگیز  چالوں سے اجتناب برتیں۔  اس  مؤقف کو جاری رکھنا  یونان میں کسی نئے سیاسی عدم استحکام کی راہ ہموار کرے گا۔

طرفین کے بیچ تنازعات کے حل کے لیے جواب  کے منتظر کئی ایک مسائل موجود ہیں،  تو دوسری  جانب یونانی فریق غیر مسلح ہونے کے تقاضے کے حامل جزائر میں اسلحہ جمع کر رہا ہے۔ اس نکتے پر    کئی ایک اہم سوالات کا جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ ان میں سے ایک بحیرہ ایجین  پلیٹ  فارم کا معاملہ ہے۔  اس معاملے پر دونوں فریقین  کی کمیٹیوں کی جانب سے سالہا سال تک بحث جاری رہی ہے تو بھی اس کا تا حال  حل تلاش نہیں کیا جا سکا۔ وسیے بھی اس عدم حل سے جنم لینے والی کشیدگی پائی جاتی تھی تاہم یونان  کی  حرکتیں  عدم حل کے عمل کے جاری رہنے  کا عنصر بنتی ہیں۔ حالیہ ایام میں غلطی سے ایک دوسرے کی سمندری حدود کو پار کرنے والے ترک اور یونانی شہریوں کی گرفتاریاں بھی دو طرفہ تناؤ کو شہہ دینے والے  دیگر عناصر کی ماہیت  اختیار کرتی  جا رہی ہیں۔

بحیرہ   ایجین  میں کشیدگی کے خاتمے  کا راستہ دو طرفہ اعتماد  کے از سر نو   قیام  میں پوشیدہ ہے۔ تناؤ کا حل بغاوت کی کوشش کے بعد یونان میں پناہ لینے والے باغی ترک فوجیوں اور دیگر ترک شہریوں  کی ترکی کو حوالگی ، جزیرہ قبرص کے گرد و نواح میں قبرصی یونانی عناصر کی جانب سے ترک حاکمیت کے حامل  پانیوں میں داخل ہوتے ہوئے قدرتی گیس کی تلاش کے کام  کے خاتمے اور یونانی مسلح عناصر   کے ایجین کے  پانیوں میں جھڑپ کا موجب  بننے والی کاروائیوں  سے کنارہ کشی سے ہی ممکن بن سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں