پاکستان ڈائری - 22

پانی کی اہمیت سے ہر انسان واقف ہے۔زندگی کا دارومدار پانی سے ہے۔انسان جانور پرندے اور درخت سب ہی پانی کے بنا سرویو نہیں کرسکتے ۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہم پاکستان میں بارش کی کمی کا سامنا کررہے ہیں

پاکستان ڈائری - 22

پاکستان ڈائری - 22

پانی کی اہمیت سے ہر انسان واقف ہے۔زندگی کا دارومدار پانی سے ہے۔انسان جانور پرندے اور درخت سب ہی پانی کے بنا سرویو نہیں کرسکتے ۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے ہم پاکستان میں بارش کی کمی کا سامنا کررہے ہیں دوسری طرف نئے آبی ذخائر نا ہونے کی وجہ سے ہر سال دریاؤں کا پانی سمندر میں چلا جاتا ہے۔تاہم صرف یہ ہی وجوہات نہیں ہیں جن کے باعث پاکستان پانی کی قلت کا تیزی سے شکار ہورہا ہے سب بڑی وجہ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔بھارت دریائے چناب ،دریائے جہلم اور دریائے نیلم پر ڈیمز کی تعمیر کے باعث پاکستان کے دریاؤں کو خشک کررہا ہے۔پاکستان اپنا پانی انڈس بیسن سے حاصل کرتا جو تبت سے شروع ہوکر مقبوضہ کشمیر سے ہوتا ہوا پاکستان میں داخل ہوتا ہے ۔دوسری طرف دریائے کابل افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔تاہم پاکستان کے پانی کا 80 فیصد سے زائد پانی مغربی دریاؤں سے آتا ہے جن میں سندھ جہلم اور چناب شامل ہے ۔

سندھ طاس معاہدے کے مطابق مشرقی دریا ستلج راوی اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے اور مغربی دریا سندھ چناب اور جہلم پاکستان کے حصے میں آئے ۔تاہم بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی یہ کھلے عام دھمکی دے چکے ہیں کہ ہم پاکستان کو بوند بوند پانی کے لئے ترسا دیں گے۔اس ہی عزائم کے ساتھ بھارتی حکومت نے پاکستان کے دریاؤں کا پانی چوری کرنا شروع کردیا ہے۔بگلیہار ہائیڈرو پروجیکٹ، کشن گنگا اور ریٹل ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کسی بھی وقت پاکستان کے نہری نظام،آبپاشی اور کاشتکاری پر کاری ضرب لگا سکتے ہیں ۔بھارت کے ان دریاؤں پر 155 ہائیڈروپاور پروجیکٹ بنانے کا ارادہ ہے جس میں 33 تکمیل کے مراحل میں ہیں۔ 

مغربی دریاؤں پر یہ منصوبے پاکستان کے لئے بہت سی مشکلات کا باعث بن رہے ہیں ۔اس ساری صورتحال میں ہماری حکومت اور سفارت کاری کو موثر طور پر اپنا موقف پیش کرنا چاہیے اور بھارت کی آبی جارحیت کا پردہ دنیا میں چاک کرنا چاہے ۔ بھارت نے پاکستان کے حصے کے پانی پر کشن گنگا ڈیم بنایا ہے اس کی وجہ سے پاکستان آگے چل کر پانی کی قلت کا شکار ہوگا میرا خیال میں اپنی دولت کی جنگ میں مصروف سیاستدانوں کو ووٹ کو عزت دو کہ بجائے پانی کو عزت دو نعرہ لگانا چاہیے تاکہ عوام ان کے سابقہ گناہ معاف کرکے انہیں اگلے الیکشن میں ووٹ دیں ۔ بھارتی کشن گنگا ڈیم اس دریا پر بنایا ہے جس کو ہم دریا نیلم کہتے ہیں یہ دریا وادی نیلم سے ہوتا ہوا مظفر آباد کے قریب دومیل کے مقام پر دریائے جہلم میں شامل ہو جاتا ہے۔کشن گنگا ڈیم سے بھارت نے 22 کلومیٹر سرنگ بنا کر اس کے قدرتی بہاؤ میں فرق ڈال ہے اگے چل شاید یہ دریا خشک ہوجائے اور  وادی نیلم اللہ نا کرے بنجر ہوجائے گی۔ بھارت کے کشن گنگا ڈیم سے ہمارےپانی میں 27 فیصد کمی ہوگی اور اس کے نتیجے میں نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی پیداواری صلاحیت میں 20 فیصد کمی آجائے گئ۔  کشن گنگا ڈیم سے پاکستان کو سالانہ 140 ملین ڈالر کا نقصان متوقع ہے لیکن مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ ٹی وی اخبارات میں اس موضوع پر بات کیوں نہیں کی جارہی۔تمام میڈیا کا فوکس صرف شریف خاندان اور آنے والے الیکشن ہیں۔

ہمیں ہماری ترجیحات درست کرنا ہوگی ۔ ہمیں نئے آبی ذخائر کی ضرورت ہے پاکستانی ڈیم تربیلا منگلا کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کم ہوتی جارہی ہے ۔ہمیں فوری طور پر بڑے ڈیمز بنانے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر کالا باغ ڈیم کو فوری طور پر بنایا جائے ۔عوام میں اس شعور کو اجاگر کیا جائے کہ وہ پانی کا ضیاع نا کریں ۔ہمارا مذہب ہمیں اس بات کی تلقین کرتا ہے کہ ہم وضو کرتے وقت بھی پانی احتیاط سے استعمال کریں۔

یہاں پر ایک اور بات جس کا ذکر کرنا بہت اہم ہے وہ یہ ہے کہ کونوکارپس اور سفیدے جیسے درخت شہری علاقوں میں نا لگائیں یہ زیر زمین پانی کا بہت استعمال کرتے ہیں جس سے علاقے میں پانی کی کمی ہوجاتی ہے۔

سیاسی مسایل میں الجھی پارٹیاں اور مشکلات میں پسے عوام شاید اس بات سے بے خبر ہیں کہ پاکستان کہ آبی ذخائر میں صرف 30 دن کے پانی کو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے جبکہ  بھارت 250 دن کا پانی جمع رکھ سکتا ہے۔تربیلا منگلا اور چشمہ میں ذخیرہ کرنے کی تعداد بتدریج کم ہورہی ہے ۔یہاں پر میرا یہ سوال کہ جس ملک میں ستر فیصد سے زائد لوگ زراعت سے منسلک ہو اس ملک کے حکمرانوں کو حالات کی سنگینی کا اندازہ کیوں نہیں پانی نہیں ہوگا تو فصلیں نہیں ہوگی فصلیں نا ہوئی تو اناج نہیں ہوگا اناج نہیں ہوا تو لوگ قحط سالی سے مریں گے۔

اب بھی وقت ہے بڑے اور چھوٹے ڈیمز کی تعمیر شروع کی جائے ۔صاف پانی کے ذخائر کی حفاظت کی جائے انہیں آلودہ کرنے والو پر بھاری جرمانے عائد کئے جائیں ۔آبی ذخائر میں کچرا ، فضلہ ، پلاسٹک، اور کیمیکل پھینکنے پر مکمل پابندی ہونی چاہئے۔



متعللقہ خبریں