ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 22

اسلام و فوبیا کے مغربی ممالک میں زور پکڑنے کے خلاف ترکی کی خارجہ پالیسیاں

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 22

بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہےآج  اسلام مغربی ایجنڈے میں  خوف کے احساسات کے ساتھ جگہ پانے کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہے۔11 ستمبر کے حملوں  کے بعد شروع ہوتے ہوئے دہشتگردی کے  واقعات کے ساتھ جاری رہنے والی پیش رفت، مغربی معاشروں  میں انجانے اور انجام   نہ دکھنے والے خطرات سے دو چار ہونے  کے احساسات کو جنم  دینے کا  موجب بنی۔ اس پیش رفت کی روشنی میں اسلام و فوبیا  معاملے میں  ترکی کے مؤقف کا جائزہ اتاترک  یونیورسٹی   کے  شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک  کے قلم سے۔۔۔

فوبیا؛ یونانی زبان کے لفظ فوبوس سے تعلق رکھتا ہے،  جسے یونانی دیو مالائی قصے کہانیوں میں خوف کے دیوتا   کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ موجودہ   دور کے مفہوم کے مطابق  فوبیا  کسی  چیزسے  خوف کے احساسات کی بنا پر انسانوں کی روز مرہ کی زندگی پر  منفی اثرات پیدا ہونا ہے۔

اسلام و فوبیا  کو عام  معنوں میں دین ِ اسلام سے خوف  کے طور پر  بیان کیا جاتا ہے۔ اسلام اور  مسلمانوں سے  خوفزدہ  ہونا اور ہچکچاہٹ محسوس کرنے  کے احساسات پر مبنی اسلام و فوبیا  اصطلاح کے طور پر بکثرت استعمال  کیا جاتا ہے تو   بھی اس پر اتفاق قائم ہونے والی  کسی   تشریح کا وجود نہیں ملتا۔ یورپی یونین کی بنیادی حقوق ایجنسی  نے  اسلام و فوبیا کی تشریح کچھ یوں کی ہے"11 ستمبر سن 2011 کے روز رونما ہونے والے واقعات کے بعد انسدادِ دہشت گردی کے دائرہ کار میں ، عربوں،یہودیوں اور مسلمانوں  کے بعض مہاجر گروہوں  اور پناہ گزینوں اور بعض اقلیتوں کا تعلق ہونے والے گروہوں   سے وابستہ فرد یا افراد کو ؛ تعلیم ،  روزگار، پناہ گاہ،  خدمات اور  سرکاری  اداروں تک رسائی ، سماجی  شراکت اور آمدورفت کی آزادی کی طرح کے بعض  معاملات میں  نسلی تفریق   کا سامنا کرنا  پڑتا ہے۔ اس دائرہ کار میں اسلام و فوبیا، مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے اشخاص   کے تفریق بازی کا نشانہ بننے والے واقعات  کو دیا جانے والا ایک  عمومی  نام ہے۔ "

حالیہ برسوں میں دین ِ  اسلام ،خوف کے احساسات کے  ساتھ مغربی دنیا کے ایجنڈے  میں  جگہ پا رہا ہے۔ 11 ستمبرسے شروع  ہونے والی انفرادی  دہشت گرد کاروائیاں  نے    ایک تسلسل کی حیثیت  اختیار  کر لی۔  یہ صورتحال مغربی معاشروں   کے خطرات کے زیر ِ اثر ہونے کے  احساسات  پیدا  ہونے  کا موجب  بن رہی ہے۔ پیش آنے والے افسوسناک واقعات کے بعد دینِ اسلام کو دہشت گردی کے الہام کا وسیلہ ہونے کے طور پر بیان کرنے والے عالمی میڈیا  کی  جانبدار خبریں بھی  دینِ اسلام سے خوف کھانے کو شہہ دے رہی ہیں۔

مغربی معاشرے کے  بعض حلقوں کو   اسلام مخالف  بنانے کا  واحد قصور وار  میڈیا  نہیں  بلکہ  دو ہزار  کی دہائی سے  یورپ میں انتہائی دائیں  بازو  کی سیاست طاقت پکڑتی جا رہی ہے۔  جو کہ اجتماعی  ماہیت اختیار کرتے ہوئے  اب قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ کا بھی حصہ بن رہی ہے۔ فرانس میں قومی محاذ، یونان میں گولڈن  ڈان ،  ہالینڈ میں حریت پارٹی  اور آسڑیا میں آسڑوی  آزادی پارٹی کی   طرح کی سیاسی  جماعتوں نے اپنے اپنے ملک میں  مقیم غیر ملکیوں  اور مہاجرین کے  خلاف غیر موزوں مؤقف کا  مظاہرہ کرنے  کو فروغ دیا۔ اس طرح انہوں نے  اپنے ووٹوں کی شرح کو بڑھایا۔

خطہ یورپ کے مسلمان طبقوں کے ساتھ بُرے سلوک کا  مشاہدہ  پہلی بار جرمنی  میں مقیم ترک تارکینِ وطن  کے رہائش کردہ علاقوں میں  اوپر تلے پیش آنے والے المناک واقعات  کے  ساتھ ہوا۔ حالیہ چند برسوں  میں  تیزی آنے والے  اور اموات کا موجب بننے والے گھروں کو نذرِ آتش کرنے کے  واقعات  کو  بھی اس  زمرے  میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ واقعات محض جرمنی تک محدود نہیں، اس قسم کے واقعات  یورپ  بھر میں  پیش آنے لگے ہیں  جن میں مساجد ،ثقافتی   مراکز اور تجارتی   مراکز    کو نشانہ بنایا گیا ۔  ان حملوں کا خوفزدہ   پہلو ،  منظم  ہونےو الی اس نفرت انگیز  تحریک  کو عوام، میڈیا اورسیاسی جماعتوں میں  ڈھکے چھپے الفاظ میں قبول کیا جانے لگا ہے۔

یورپ میں حکومتوں اور معاشروں کا اسلامی  اقدار کے خلاف   کاروائیوں پر خاموشی   اختیار کرنا  داخلی و خارجہ پالیسیوں پر خدشات سے تعلق رکھتا ہے۔ سن 2011 میں  سرعت پانےو الے اور پھر ہیبدو چارلی  حملوں کے ساتھ یورپ میں بام ِ عروج تک پہنچنے والے  واقعات کا ریکارڈ موجود  ہے یہ صورتحال یورپی  مملکتوں کی بہارِ عرب کے آغاز سے لیکر تشکیل   کردہ  مشرق وسطی پالیسیوں  کے  اثرات کو بیان کرتی ہے۔سال 2011 میں تیونس میں چھڑنےو الی عوامی    تحریک میں یورپ  اور امریکہ  کا مؤقف تحریک آزادی   تھا۔ جس کے باوحود  پرانی  انتظامیہ کی جگہ لینے والوں  میں مسلمانو  ں کی شراکت  نے مغرب کے لیے ایک اہم  کسوٹی کی ماہیت اختیار  کر لی۔ نہدہ، اخوان المسلمین اور شامی مخالفین  کے اعتدال پسند گروہوں  کو دہشت گردوں سے وابستہ کرنا ان پالیسیوں کی ایک مثال کو تشکیل دیتا ہے۔

اس ضمن میں ترکی  کے مشرق وسطی میں   اتحاد قائم کرنے کے کردار کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ ترکی کی علاقائی سیاست ، اسلام دشمن   پالیسیوں کے خلاف سر بلند کرنے پر مبنی  ہے۔ ترکی کی مشرق وسطی  سے متعلق مصالحت انگیز  اور انسانی حقوق کی بنیادوں پر پالیسیاں  مغرب اور ترکی  کے علاقائی مؤقف    میں کسقدر دوری آنے  کا مظہر ہیں۔ بیک وقت ترکی مغربی ممالک میں مقیم مسلم معاشروں کے ساتھ ہم آہنگی  اور اسلامی مملکتوں میں  جمہوریت کے فروغ میں سر گرم عمل ہے۔  تا ہم اس مثبت مؤقف   کو مغربی میڈیا کی اکثریت میں    پذیرائی نہیں ملتی۔

خطے میں شدید نفسیاتی دباؤ  کے ماحول کے باعث  ترکی  کثیر الامساواتی  میدان میں  واحدانہ طور پر ڈپلومیسی کی نشاط  کر رہا  ہے، ترکی خطے  میں انسانی مسائل  کو  حل کرنے میں  کوشاں ہےتو  دوسری جانب مشرق وسطی  میں جمہوریت کے قیام  میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ تا ہم ترکی اس جدوجہد میں مغربی و اسلامی  ممالک  کی حمایت و تعاون حاصل کرنے  سے قاصر ہے۔

عالمی سطح پر تہذیبی  بحران  کو عارضی  سیاسی خدشات   کے باعث نظر انداز کرنا  ترکی  کی اعتدال پسندی  پر مبنی  انسانی ڈپلومیسی کی صدا کو سنائے جانے میں بھی رکاوٹ   پیدا  کر رہا ہے۔



متعللقہ خبریں