عالمی نقطہ نظر23

ترکی میں نئے سیاسی نظام کا اونٹ کیسی کروٹ لے گا؟

عالمی نقطہ نظر23

عالمی نقطہ نظر23

Küresel Perspektif  / 23

?Başlamadan Başkanlık Sisteminden Geri Dönmek

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

ترکی 24 جون کو  32 عام  لیکن ملکی تاریخ کے پہلے صدارتی  انتخابات    کا اہتمام کر رہا ہے۔  بر سر اقتدار آق پارٹی  اتحاد جمہور   کے ذریعے  صدارتی نظام کو ملکی مسائل کے حل میں معاون قرار دے رہی ہے  جس کے مقابلے میں  اتحاد ملت میں شامل سیاسی جماعتوں کا موقف  پارلیمانی نظام کو بحال رکھنا ہے۔

 ترکی میں حزب اختلاف جتنا بھی زور لگا لے لیکن یہ حقیقت ہے کہ  ملک میں  صدارتی نظام   کے نفاذ   کو عوامی اکثریت کی حمایت حاصل ہے  جس کا  نتیجہ 24 جون کی شام  واضح  ہو جائے گا۔

حزب اختلاف ایک ایسے نظام کی  مخالفت  کر رہی ہے جو کہ  فی الحال  رائج نہیں ہے  اور ایسے نظام کی تائید میں مصروف ہے جو کہ   ملک کے سیاسی افق پر 140 سال سے قائم ہے اور مسائل  کے حل میں  بارہا ناکامیوں کا شکار ہوتا رہا ہے۔ بلا شبہ دنیا میں ایسی کئی مثالیں موجود ہیں  کہ جہاں یہ نظام کامیاب ہے مگر    ترک  سیاسی تاریخ   کے اعتبار سے  پارلیمانی نظام   سیاسی  بحرانوں  اور  اندرونی و بیرونی انتشار اور  فوجی انقلابات کا  سبب رہا ہے۔

 سن 1961 کے آئینی نفاذ کی   عوامی نمائندوں کی طرف سے   مخالفت اور مسائل کا سر اٹھانا  کوئی دھکی چھپی بات نہیں۔اس ملک کے وزیراعظم اور وزرا٫ کو تختہ دار  پر لٹکانے ،ڈرانے دھمکانے  اور پارلیمان  کا محاصرہ کرتےہوئے جبراً صدر   کا انتخاب  اس کی مثال ہے ۔

 عوام  یہ بھی نہیں بھولی کہ اسی پارلیمانی نظام    کی آغوش  سے  سیاسی بحرانوں ،مخلوط اقتداروں   اور   قلیل المدت حکومتوں      کو شہ ملی ۔

1961  کے دستور  اور اس کے  نتائج    کا  اثر تاحال  عوام کے ذہنوں پر  ہے  جو کہ  آمریت،سیاسی بحران،فوجی مداخلت   اور عدالتی   و سرکاری بے قاعدگیوں اور جمہوری اقدار  کی  تباہی      کا سامان بنتا رہا ۔  ان تمام  خرابیوں کا نتیجہ کیا  نکلا کہ ملک میں     سیاسی اقتدار جمہوری اخلاقیات کے سائے میں پلنے کے بجائے  فوجی  مداخلت    کا شکار رہا  اور ملک  سیاسی انتشارکی دلدل میں ہاتھ پیر مارنے لگا۔

 بعد ازاں   یہ بھی دیکھا گیا کہ   اپنے فیصلے خود نہ کرنے کی صورت میں   بیرونی طاقتوں     نے  اقتصادی   اور دہشت گردی  کی  آڑ میں  کس طرح    ترکی کو نقصان  پہنچایا جو کہ تاحال اپنے منصوبوں پر  کسی نہ کسی طرح مصروف نظر آتی ہیں۔

  اسلامی ممالک کا یہ المیہ رہا ہے کہ  عوامی  رائے  کو  نظر انداز  کرتےہوئے  وہاں کے ارباب اختیار اقتدار کے نشے میں دھت     اپنے جمہوری  فرائض سے چشم پوشی کرتے رہے ۔

  ترکی میں صدارتی نظام  کے نفاذ کےلیے  امیدواروں کو 50 جمع ایک فیصد  عوامی ووٹ لینے کی ضرورت ہے  ۔ اس  نظام کی حمایت کرنے والوں کے ذہنوں میں اس فیصلے پر   یہ سوالیہ نشان بھی موجود  ہے   کہ آیا انہوں نے صحیح قدم اٹھایا یا  غلطی کی ۔

 بعض لوگوں کا خیال ہے کہ  یہ نظام طیب ایرودان  کو مستقل طور پر اقتدارکی کرسی پر بٹھائے رکھاگا    جو کہ ایک غلط سوچ ہے ۔ دراصل   صدر ایرودان کا اقتدار پر رہنا   اُن کے ذاتی اوصاف اور سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے ۔

 ملک کے پارلیمانی نظام کو مضبوط  اور جدید خطوط پر استوار کرنے   کےلیے یہ نظام ضروری ہے   جو کہ مستقبل کےارباب اقتدار کےلیے بھی مفید ثابت ہوگا۔

اس نئے نظام  کے تحت ملک میں   سیاسی استحکام پھلے پھولے گا   اور پارلیمان مضبوط ہوگی  اور ملکی نظام   جمہوری اقدار کی مثال بن جائے گا۔

آق پارٹی  نے  ملک کے سیاسی نظام کو تبدیل کرنے کا جو  مشکل بیڑہ اٹھایا  وہ درست    سمت  کی جانب گامزن نظر آتا ہے ۔اس نظام کے تحت ملکی سیاست  کا فیصلہ اب  عوام کے ہاتھوں میں ہوگا جس پر اندرونی و بیرونی طاقتوں کا اثر بے سود ہوگا اور اس نئے نظام کے نتیجے میں امید ہے کہ سیاسی مسائل کے خاتمے میں مدد  ملے  گی ۔

 یہی وجہ ہے کہ     ملک کی حزب اختلاف سے  یہ توقع ہے کہ وہ  اس نئے نظام  کے نتائج دیکھے بغیر اس کی مخالفت ترک کرتےہوئے  اس کے نفاذ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے میں اقتدار کا ساتھ دے  ۔

 یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ  حزب اختلاف کی عدم توجہ کے باوجود   اس نئے سیاسی نظام  کے  وضع کردہ اصول اُن  کے نظریات میں تبدیلیوں کا سبب  بن رہے ہیں۔  ماضی میں عوام کو حقیر  اور ان کے رہن سہن   کو سیاسی آلہ کار  بنانے والے اب  عوام کو   مثبت  وعدوں  کا پیغام دے رہے ہیں جو کہ اس نئے نظام کے تحت تبدیلی کا پیغام  ہے ۔

 ترکی کے  سیاسی نظام میں  تبدیلی  اور اس کے انتخابات پر  اثرات پر اگلے پروگرام میں   غور ہوگا  ۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے  شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 


ٹیگز: نقطہ نظر

متعللقہ خبریں