حالات کے آئینے میں23

تنازعات کا حل اور ترک۔امریکی تعلقات

حالات کے آئینے میں23

پروگرام " حالات کے آئینے میں "کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ سامعین ترکی اور امریکہ کے درمیان حالیہ سالوں میں متعدد موضوعات پر کشیدگی کا سامنا ہے۔ خاص طور پر فیتو کے حملے کے بعد امریکہ کا پینسلوانیا میں مقیم فیتو کے سرغنہ فتح اللہ گلین کو ترکی کے حوالے نہ کرنا اور پی کے کے کی شامی شاخ وائے پی جی  کو کھلے بندوں تعاون فراہم کر کے اپنا اتحادی اعلان کرنا دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو متاثر کر رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کی نئی ڈاکٹرائن کے دائرہ کار میں ترکی کی طرف سے کئے گئے فرات ڈھال آپریشن  اور شاخ زیتون آپریشن اور ان میں اضافی طور پر آستانہ مذاکراتی مرحلے کے دائرہ کار میں ترک مسلح افواج کی طرف سے ادلب کے علاقے میں قائم کی گئی 12 کنٹرول  چوکیوں نے  علاقے میں ترکی کے اثر و رسوخ میں اضافہ کیا ہے۔ ترکی کے شاخ زیتون آپریشن کے ساتھ دہشتگرد تنظیم وائے پی جی کی  اہم ترین بیسوں میں سے ایک  کو دہشت گردی سے صاف کرنے نے  منبچ کے موضوع پر ترکی کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

شامی انقلاب کے ابتدائی سالوں میں آزاد شامی فوج کی طرف سے منبچ کا کنٹرول سنبھالا گیا اور 2014 میں اس پر داعش نے قبضہ کر لیا۔2016 میں امریکہ کی زیر قیادت بین الاقوامی کولیشن نے شامی جمہوری فورسز کے ساتھ کہ جس میں دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل تھی منچ کے لئے آپریشن کا آغاز کیا۔ ترکی کی اعتراضات اور تنبیہات پر امریکہ نے ترک فریق سے وعدہ کیا کہ داعش کو علاقے سے نکالے جانے کے بعد وائے پی جی کے عسکریت پسند دوبارہ سے دریائے فرات کے مشرق کی طرف پس قدمی کر جائیں گے اور علاقے کا کنٹرول مقامی عرب عناصر کے ہاتھ میں آ جائے گا۔ امریکی حکام کی طرف سے وائے پی جی کے منبچ سے انخلاء کے بارے میں بیانات کے باوجود  وائے پی جی نے علاقے کو ترک نہیں کیا۔ علاوہ ازیں امریکہ کی منبچ کے علاقے کے لئے تشکیل کردہ منبچ فوجی کونسل وائے پی جی کی فرنٹ مین  تنظیم کے طور پر  کام کر رہی ہے۔ منبچ فوجی کونسل کے سرکاری  طور پر آزاد ہونے کے باوجود پی کے کے کی طرف سے منبچ کے لئے براہ راست متعین کردہ افراد جمیل مظلوم اور اسماعیل دیرک منبچ فوجی کونسل کو چلا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ  علاقے سے رپورٹنگ کرنے والے متعدد اخباری نمائندوں کے مطابق PKK/YPG  کی علاقائی شاخیں اپنی آئیڈیالوجی کا پروپیگنڈہ کر رہی ہیں۔

منبچ کے معاملے میں ترکی کے ہاتھ مضبوط کرنے والا ایک اہم عنصر مقامی عوام کا وائے پی جی کی انتظامیہ سے بے اطمینان ہونا ہے۔ نتیجتاً وائے پی جی کے مظالم سے فرار ہو کر منبچ سے نکلنے والے ہزاروں انسان فرات ڈھال آپریشن کے ذریعے دہشت گردی سے پاک کئے جانے والے علاقوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ منبچ کے قبائل اور مقامی عوام وائے پی جی کی طرف سے نوجوانوں کو زبردستی مسلح کئے جانےا ور ان پر تشدد کئے جانے  کے خلاف متعدد احتجاجی مظاہرے کر  چکے ہیں۔ انڈر گراونڈ کاروائیاں کرنے والی اور قاتلوں کے ذریعے وائے پی جی کے عسکریت پسندوں  کو ہلاک کرنے والی القیام  موومنٹ کا قیام منبچ میں عمل میں آیا اور اس تحریک نے اپنی ابتدائی کاروائیوں کا آغاز بھی وہیں سے کیا۔

شاخِ زیتون آپریشن کے بعد ترکی کے منبچ کے بارے میں بیانات  اور تیاریوں  نے امریکی حکام ا ور ترک حکام کے درمیان ایک ڈپلومیسی ٹریفک کا آغاز کروایا۔ امریکہ کے سابق وزیر خارجہ ریکس ٹلر سن کے دورہ ترکی کے دائرہ کار میں منبچ کے موضوع پر سمجھوتے کے لئے اور کسی درمیانی راستے کی تلاش کے لئے ترک۔امریکن مشترکہ گروپ قائم کیا گیا۔ اگرچہ ریکس ٹلر سن کے وزارت خارجہ کے عہدے سے برخاست ہونے سے یہ مرحلہ تعطل کا شکار ہو گیا لیکن مائیک پومپیو  کے وزیر خارجہ متعین ہونے  کے بعد مرحلہ اسی جگہ سے دوبارہ شروع ہو گیا ہے کہ جہاں سے منقطع ہوا تھا۔ ترکی اور امریکہ کے مشترکہ گروپ کی طرف سے تعین کردہ تین مراحل پر مبنی روڈ میپ  پر اتفاق رائے ہو گیا ہے۔ اس روڈ میپ کے دائرہ کار میں وائے پی جی منبچ کو ترک کرے گی، ترکی اور امریکہ علاقے میں مشترکہ مانیٹرنگ کریں گے اور علاقے کے مقامی عناصر سے ایک نئی انتظامیہ قائم کی جائے گی۔

ترکی اور امریکہ کے درمیان اتفاق رائے ہونا دو نیٹو اتحادی ممالک کے درمیان تناو  میں کمی کرنے اور باہمی تعاون کو مضبوط بنانے  کی صلاحیت کا حامل ہے۔ لیکن  بعض نقاط  کا تعین کرنے والا یہ روڈ میپ دو طرفہ تعلقات کے لئے ایک للکار کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس  روڈ میپ کے عدم اطلاق کی صورت میں یعنی وائے پی جی کے عسکریت پسندوں کے علاقے سے نہ نکلنے کی صورت میں دو طرفہ تعلقات کو ایک نئے بحران کا سامنا ہو گا۔ علاوہ ازیں یہ سوال کے کون سی تنظیمیں اور کون سے افراد PKK/YPG سے منسلک ہے دونوں ملکوں کے درمیان  ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جسے حل کیا جانا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر امریکہ کے بیانات کے مطابق منبچ فوجی کونسل مکمل طور پر خود مختار ہے لیکن عملی طور پر اسے براہ راست قندیل کی طرف سے چلایا جا رہا ہے۔ ایک اور مسئلہ فرات کے مشرق میں وائے پی جی کی موجودگی ہے۔ ترکی کے نقطہ نظر سے منبچ کے روڈ میپ کا ماڈل شکل اختیار کرنا اور  وائے پی جی کے زیر کنٹرول تمام علاقوں میں نافذ ہونا ضروری ہے۔ نتیجتاً دہشت گرد تنظیم وائے پی جی کی فرات کے مشرق میں موجودگی بھی ترکی  کی قومی سلامتی کے لئے خطرہ تشکیل دے رہی ہے۔ تاہم امریکہ منبچ میں نافذ کئے جانے والے روڈ میپ کے فرات کے مشرق میں اطلاق کی مخالفت کر سکتا ہے خاص طور پر مشرقی شام میں وائے پی جی کے زیر کنٹرول پیٹرول فیلڈز کے حوالے سے امریکہ ایسے کسی سیناریو کے اطلاق کا خواہش مند  نہیں ہے۔

ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو  اور امریکہ  کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے درمیان  منبچ کے موضوع پر اتفاق رائے ہونا اگرچہ دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ایک بڑا موقع پیدا کر  رہا ہے لیکن روڈ میپ کے اطلاق اور منبچ  کے بعد دو طرفہ تعلقات  کے لئے ایک بڑا امتحان ہو گا۔

 



متعللقہ خبریں