عالمی نقطہ نظر26

عوامی امنگوں کا نیا باب : نیا سیاسی نظام

عالمی نقطہ نظر26

عالمی نقطہ نظر26

 

Küresel Perspektif  / 26

2018 Seçimleri: İstikrara ve Başkanlık Sistemine Devam

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

ترکی  میں  32 ویں انتخابات کا دور گزر چکا جس میں بر سر اقتدار   انصاف و ترقی پارٹی    کے  چیئر مین اور موجودہ صدر رجب طیب ایردوان  کو عوام   کی 52 اعشاریہ 5 فیصد نے  اپنی حمایت کایقین دلایا  اور ترکی کے پہلے صدر مملکت  کا قلم دان سنبھالنے       کی اجازت دی ۔ان کے حریف  اور جمہوری عوامی پارٹی کے امیدوار جناب محرم انجے کو ان انتخابات میں 30 اعشاریہ  6 فیصد ووٹ ملے ۔

واضح رہے کہ  سن 2002 سے  اب تک یہ پہلی بار ہوا ہے کہ  آق پارٹی  کو پہلی بار پارلیمان میں اپنی اکثریت کھونا  پڑی ہے ۔

 یہ انتخابی دوڑ انتہائی شفاف  اور   مثبت مقابلے بازی کے ماحول میں  ہوئی  جس میں تقریباً 60 ملین رائے دہندگان  کی 87 اعشاریہ  5 فیصد نے  شرکت  کی  جو کہ ایک ریکارڈ تھی ۔

   ترکی میں عوامی انتخابات کا سلسلہ  سن 1876 سے جاری ہے    جو کہ دیگر ممالک کے مقابلے میں  قدرے بہتر ہے  کیونکہ مغربی ممالک  سے اگر موازنہ کیا جائے تو وہاں  بیلٹ بکس تو ہیں مگر رائے دہندگان کی کمی ہے   جبکہ مشرقی ممالک  ان دونوں عوامل کا ہی فقدان ہے ۔

 آق پارٹی  سن 2002 سے متواتر 5 ویں بار   حکومت   بنا رہی ہے  جو کہ ترک سیاسی تاریخ میں ایک مثال ہے۔ جمہوری  دوڑ میں  5  دفعہ انتخابات جیتنا  کسی معرکے سے  کم نہیں جو کہ ا سبات کا ثبوت ہے کہ ترک رائے دہندگان   سیاسی و اقتصادی استحکام کو اولیت دیتے ہیں  جس کے جواب میں  حزب اختلاف کے سیاسی وعدوں  کو   عوام  نے  سستی شہرت قرار دیتےہوئے  مسترد  کر دیا ۔

  ترکی کی مخالف سیاسی جماعتوں  نے قائم کردہ   "ملت اتحاد  " کی  جیت کی صورت میں   پارلیمانی نظام کی بحالی کا وعدہ کیا    جس کی  صورت میں   اُسے دوبارہ  سے  عوامی  حمایت     حاصل کرنا پڑتی    جس کے  حق میں   عوام سن 2017  میں ویسے ہی فیصلہ سنا چکی ہے۔

  آق پارٹی   کو پارلیمان میں واضح  اکثریت نہ ملنے کا  علم ہے جس کے لیے اُس نے  ابھی سے کمر کس لی ہے   مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ جنوب   مشرقی اور مشرقی  علاقوں کی کرد عوام نے بھی صدر ایردوان  پر اعتماد  کیا ہے  جو کہ  ان انتخابات میں اُن کے  ذاتی ووٹوں  کی تعداد میں اضافے سے ظاہر  ہے ۔

 رائے دہندگان کا  سیاسی جماعتوں کی جانب  رخ تبدیل کرنا  دراصل  ایک جمہوری   طرز عمل ہے  جو کہ رائے دہندگان کی توقعات  پر پورا  اترنے  کےلیے سیاسی رسہ کشی میں مزید اضافہ کرےگا۔

 گزشتہ ہفتے   کے جائزے میں    ترکی کے نئے سیاسی نظام    اور اس کے مفاہمتی پہلووں  پر غور کیا  تھا    اور  امید ظاہر کی تھی کہ نیا نظام   سیاسی جماعتوں  کو اپنے  حامیوں  سمیت دیگر  طبقوں کے مسائل  پر توجہ  دینے کا بھی ذریعہ بنے گی  ۔

 ماضی کی طرح  اس  بار بھی   بعض مغربی ممالک ،عالمی کمپنیاں  اور ذرائع ابلاغ  نے  ترک انتخابات میں مداخلت کو اپنا فرض سمجھا اور آق پارٹی کے خلاف پروپیگنڈا  اور تند و تیز  بیانات  دیئے  حتی بعض ممالک میں   سیاسی  جلسے جلوسوں   پر پابندی  اور آزادی اظہار پر قفل ڈالے جانےکے باوجود   دیار غیر میں بسے ترک رائے دہندگان نے   ان انتخابات میں بھرپور حصہ لیا  اور آق پارٹی  کو  ترکی میں اقتدار سنبھالنے کی ذمے داری سونپی ۔

 سن 2000 کی دہائی میں ترکی کی فی کس  آمدنی کا تناسب سالانہ دو ہزار ڈالر تھا  جو کہ اب  بڑھ کر  10000 ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ملک میں آزادی و جمہوریت کا دور دورہ ہے  ۔ شام،عراق،ایران،یونان، لیبیا ،اسرائیل،یوکرین  اور جارجیا جیسے  ممالک کی خراب صورت حال  کے باوجود   ترکی میں  امن و استحکام  جاری رہا ۔ عوام نے  15 جولائی 2015 کی فوجی بغاوت  کو ناکام  بنانے میں  قائدانہ کردار ادا کیا جو کہ نسلوں تک یاد رکھا جائے گا۔ 150 سالہ  ترک  پارلیمانی تاریخ    میں اب نئے باب کی صورت میں   نیا صدارتی نظام نافذ  ہو رہا ہے ۔   غیر جانبدار، منصفانہ اور شفاف انتخابات   کا اثر ترکی سمیت علاقائی ممالک پر بھی پڑے گا۔ مغری ممالک کی جہاں 3 تارکین وطن    کو پناہ دینے میں جان جاتی ہے وہیں ترکی  اس وقت   35 لاکھ شامی پناہ گزینوں  کی  خاطر داری میں مصروف ہے ۔

باور  رہے کہ   ترکی میں جمہوری روایات اور  استحکام  کی بحالی  قائم ہے  ۔

 یہ جائزہ آپ کی خدمت میں  انقرہ    کی یلدرم بایزید یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل  کے قلم سے پیش کیا گیا ۔

 

 

 

 

 



متعللقہ خبریں