ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 26

قطر پر بعض عرب ممالک کی اقتصادی وسفارتی پابندیوں کے پس پردہ حقائق، ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک

ترک خارجہ پالیسی پر ایک نگاہ 26

23  اور 24 مئی کی درمیانی شب قطری خبر ایجنسی  کو ہیک کیے جانے کے ساتھ شروع ہونے والا اور 5 جون  کے روز کئی ایک عرب ملکوں کی جانب سے سفارتی تعلقات منقطع کرتے ہوئے بحری، زمینی اور فضائی  طور پر محاصرہ کرتے ہوئے  قطر کو تنہا کرنے   کے ساتھ مزید طول پکڑنے والے  بحران کے بعد ایک برس کا عرصہ بیت چکا ہے۔  قطر بحران اور ترکی ۔ قطر تعلقات    پر اتاترک یونیورسٹی  کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے لیکچرار ڈاکٹر جمیل دوآچ اپیک کا  جائزہ ۔۔۔

ایک برس  قبل سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات اور مصر سمیت بعض عرب ممالک  اور مصر سمیت بعض عرب ممالک  نے  مختلف الزامات کے جواز میں قطر کے ساتھ سفارتی تعلقات منقطع کر دیے۔ اس صورتحال نے خلیجی ممالک میں حالیہ دور  کے سب سے بڑے سفارتی بحران  کو برپا کیا۔ سفارتی تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کیا  جانا، امریکہ کی ٹرمپ انتظامیہ کے   ذریعے 'قطر سے تعلقات پر نظرِ ثانی کریں' دباؤ میں اضافے کے ایام میں ہوا۔ سعودی عرب اور اس کے اتحادی دیگر ممالک  نے قطر پر دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے کا الزام عائد کیا۔ تا ہم  یہ ممالک ان الزامات کی تصدیق کرنے سے قاصر رہے۔

قطر خلیج بصرہ میں ایک چھوٹا لیکن علاقائی پالیسیوں اور معیشت  کے اعتبار سے  ایک با اثر ملک ہے۔ دنیا کے تیسرے بڑے قدرتی گیس کے ذخائر  بھی اسی ملک میں ہیں۔ یہ اہم سطح کی جامعات، تھنک ٹینک تنظیموں اور الجزیرہ کی طرح کے ایک وسیع نیٹ ورک کے حامل  میڈیا  کا مالک ہے۔ اس کی سرزمین  پر غیر ملکی فوجیوں  کے اڈے قائم ہیں، ترکی کے ساتھ اس کے تعلقات انتہائی اچھی سطح پر ہیں۔ ہم اس چیز سے بخوبی واقف ہیں کہ قطر کے خطے میں ترکی کے ہمراہ توانائی کے شعبے میں اٹھائے جانے والے اقدامات ، ترکی  کے ساتھ عسکری  تعلقات حتی ٰ ترکی  کے قطر میں فوجی اڈے  کی موجودگی سے متعدد خلیجی ممالک  بے چینی محسوس کرتے ہیں۔

قطر  خطے میں جمہوری تحریکوں کی حمایت و تعاون  کی بنا پر عرب رائے عامہ  میں ایک اچھی ساکھ کا مالک ہے۔  کامیاب لچکدار طاقت  کی بدولت یہ  علاقائی اور عالمی سطح پر ایک مؤثر ملک ہے۔ خاصکر  انگریزی اور عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے الجزیرہ میڈیا گروپ   کی بدولت  قطر خطے میں اور دنیا  میں  ایک با احترام حیثیت بھی رکھتا ہے۔

قطر خلیجی علاقے کی دیگر انتظامیہ کے مقابلے میں زیادہ آزادانہ پالیسیوں کے ساتھ  بھی توجہ مرکز ہے۔ بہارِ عرب کے سلسلے میں اجتماعی مخالفت اور تبدیلیوں کے علمبردار  اداکاروں  کی حمایت خلیجی شاہی حکومتوں کے قطر کے خلاف رد ِ عمل کی بنیادی وجہ ہے۔ قطر کو سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر اور امریکہ کی جانب سے ہدف بنانے والے  زیادہ اولیت کے حامل  اسباب   دوہا انتظامیہ کی سیاسی ترجیحات اور اس کے  خارجہ پالیسیوں پر اثرات    سے تعلق رکھتے ہیں۔  یہ بات بھی عیاں ہے کہ ترکی اور قطر شام میں اسد مخالف  اعتدال پسند مخالف گروہوں کی حمایت  کرتے ہیں۔ سلسلہ جنیوا اور آستانہ  میں مخالف گروہوں کو مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ کرنے والے ترکی اور قطر ہی تھے۔

قطر اور ترکی  کے درمیان اقتصادی شعبے میں  اہم سطح کا تعاون قائم ہے۔  ترکی میں قطر کی سرمایہ کاری کی سطح 20 ارب ڈالر  کے لگ بھگ ہے۔ قطر بحران چھڑنے کے وقت اس کے سامنے دو متبادل   تھے: غیر جانبدار رہنا یا پھر فعال طور پر اس سلسلے میں شامل ہونا۔ ترکی نے دوسری شق  کا انتخاب کیا اور اپنی ترجیح کو قطر  کے حق میں استعمال کیا۔ ترک ڈپلومیسی نے قطر کے حق میں وسیع پیمانے کے رابطے اور مذاکرات کیے۔ ترکی نے قطر کو خوراک کی ترسیل میں در پیش مسائل کو دور کرنے کی خاطر محاصرہ کو توڑتے ہوئے  اسے براہِ راست طور پر خوردنی اشیاء  فراہم کیں۔ اس سے بھی زیادہ اہم ، کچھ مدت پیشتر قطر کے ساتھ  طے پانے والے معاہدے کی قومی اسمبلی سے منظوری  کے ساتھ قطر میں ترک فوجیوں  کی تعداد میں اضافے کا قدم اٹھایا۔

ترکی کی اتحادی ملک  قطر کی  حمایت   کے دوران  متوازن اور مصالحتی ڈپلومیسی  پر عمل پیرا ہونا  اس کی ایک درست سمت کی حامل سیاسی ترجیح تھی۔ صدر ِ ترکی ایردوان کی جانب سے قطر میں ترک فوجی اڈے کے قیام  کے پیچھے "تمام تر خلیجی ممالک کی سلامتی و استحکام" کا مقصد کار فرما ہونے پر زور دینا اہم ہے۔ حتی انہی ایام میں شاہ سلمان کو اس جیسے  فوجی اڈے کے سعودی عرب میں قیام  کی پیشکش کرنے کا اعلان کرنا بھی ترکی کے تعمیری مؤقف کی ایک دوسری مثال  تشکیل دیتا ہے۔  پہلے مرحلے میں قطر کی حمایت کے دوران  خطے میں قیامِ امن کا پیغام دینے سے بھی پیچھے نہ ہٹنے والے ترکی  نے  خطے کی عقل مند طاقت ہونے کا  ثبوت پیش کیا ہے۔

قطر عالمی مالی منڈی میں بھی ایک اہم  فریق  ہے۔ اس نے بین الاقوامی سرمایہ کاری کی بدولت حالیہ چند برسوں میں کویت اور متحدہ عرب امارات جیسے سرمایہ کار خلیجی ممالک کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ دنیا کے  تیسرے بڑے  قدرتی گیس کے ذخائر کا مالک قطر  وسیع پیمانے کی اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے۔ یہ پیش رفت ملک کے اندر جدت اور جہاں شمولیت کے ساتھ جنم پانے والے حالات دین ِ اسلام اور قطری ثقافت کی اقدار کو مزید  پروان چڑھا رہے ہیں۔ یہ چیز اسے دیگر خلیجی ممالک سے ہٹ کر ایک مختلف حیثیت سے ہمکنار کر رہی ہے۔  ملک عقیدے  کے اعتبار سے  سلافی   ازم کی اعتدال پسند ترین خطوط  پر کار بند ہے، اس عقیدے میں انتہا پسندی اور کٹر نظریات  سے اجتناب برتا جاتا ہے۔ یہ صورتحال قطر کے صوفی اسلامی اقدار کے ایک دیگرپیروکار  ترکی سے  قربت کا ایک دوسرا  عنصر  تشکیل دیتی ہے۔

سن 1913 میں  ترکوں  نے  انگریزوں کے ساتھ  طے پانے والے ایک  معاہدے  کی رو سے قطر سے انخلاء کرنے کو قبول کر لیا تھا۔ تا ہم  ان کا اس ملک سے انخلاء سن 1915 میں عمل میں آیا۔ اب  ترک  شہری قطر میں کئی ایک شعبہ جات میں تعاون  کی بدولت اس ملک  کو واپس لوٹ رہے ہیں۔ عصرِ حاضر میں  ترکی اور قطر مشرقِ وسطی میں استحکام کے قیام کے لیے متوازن پالیسیوں پر کار بند ہیں۔ دونوں  ملکوں کو تعاون کے ماحول میں  خود مختار اور ایک فعال خارجہ پالیسی  پر عمل  درآمد کرنے کا موقع  میسر ہے۔ مشرق وسطی کی یہ دو اہم طاقتیں  سخاوت، مدد شناس، ثالث، سرمایہ کاری کی طرح کی خصوصیات  کی بدولت علاقائی  عالمی سطح پر  اپنے اثرِ رسوخ میں اضافہ پا رہی ہیں۔ اسوقت یہ دونوں  مشرق وسطی کی اہم طاقتیں ہیں۔ اس بنا پر یہ  مشرق وسطی کے محل و وقوع میں  ایک نئے ماحول کے قیام کے سلسلے  سے باہر نہیں رہ  سکتے۔ اس  معاملے میں ترکی اور قطر کو مشترکہ  اقدار و اصول یکجا کرتے ہیں۔



متعللقہ خبریں