حالات کے آئینے میں ۔ 26

حالات کے آئینے میں ۔ 26

حالات کے آئینے میں ۔ 26

پروگرام " حالات کے آئینے میں" کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ ترکی نے 24 جون کو صدر کا بھی ا ور اسمبلی ممبران کا بھی انتخاب کیا۔ عالمی رائے عامہ نے انتخابات سے گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور انتخابی نتائج کی رُو سے صدر رجب طیب ایردوان 52.6 فیصد ووٹ حاصل کر کے پہلے راونڈ میں نئے نظام حکومت کے پہلے صدر منتخب ہو گئے اور جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی  اور نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کے قائم کردہ جمہور اتحاد نے اسمبلی میں اکثریت حاصل کی۔  انتخابی نتائج کے مطابق ترکی میں  عملاً نیا نظام حکومت  نافذ ہو گیا ہے۔ ترکی کے انتخابات میں ملک کے اندر سے شرکت کی شرح 87 فیصد رہی اور اس بھاری شرکت کی وجہ سے عالمی رائے عامہ نے بھی انتخابات  کا بغور جائزہ لیا۔ انتخابات میں صدر ایردوان اور جمہور اتحاد کی فتح اس بات  کا اظہار ہے کہ خارجہ پالیسی میں بھی اور دہشتگردی کے خلاف  جدوجہد میں بھی زیر عمل اسٹریٹجی جاری رہے گی۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف اور محقق جان آجُون  کا موضوع سے متعلقہ تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

حالیہ دور میں ترکی نے خارجہ پالیسی میں موئثرا ور پیش قدمی والے طرز عمل کا مظاہرہ کیا اور ملکی مفادات  پر توجہ مرکوز رکھتے ہوئے کاروائیاں کی ہیں۔ ترکی ایک طرف اپنے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ اور دوسری طرف روس اور ایران  کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ، بالقان، ایشیا اور افریقہ میں ایک موئثر خارجہ پالیسی   پر عمل پیرا ہے۔ ترکی کی موئثر خارجہ پالیسی کے ساتھ تعاون کرنے والے اہم ترین عناصر میں انسانی امداد اور دفاعی صنعت سرفہرست ہیں۔ ترکی دنیا میں 13 ویں بڑی اقتصادی طاقت ہے جبکہ انسانی امداد میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ ترکی کے بعد دنیا کی سب سے بڑی اقتصادیات یعنی امریکہ کا نمبر آتا ہے۔ ترکی کے انسانی امداد کے کام ترکی کی نگاہ میں  انسان کی قدر و قیمت کے عکاس ہیں۔

دوسری طرف دفاعی صنعت میں ترکی کے اقدامات خارجہ پالیسی میں ترکی کے کردار کے عکاس ہیں۔ ترکی کا پاکستان کے ہاتھ ATAK ہیلی کاپٹر فروخت کرنا، خلیجی ممالک کے ہاتھ بکتر بند گاڑیاں فروخت کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے تیار کردہ مسلح اور غیر مسلح ڈرون طیاروں کے لئے طلب وصول کرنا ترکی کی ٹیکنالوجی میں حاصل کردہ کامیابی کا اظہار ہے۔

24 جون کے انتخابی نتائج ، انسانی امداد اور دفاعی صنعت سمیت خارجہ پالیسی میں ترکی کی زیر عمل اسٹریٹجی کے دوام کے لئے گرین سگنل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان نتائج کے ساتھ اصل میں ترک عوام نے اس بات کی منظوری دی ہے کہ صومالیہ کے لئے انسانی امداد کو جاری رکھا جائے۔

ترکی کے انتخابی نتائج دہشتگردی کے خلاف جدوجہد  کے لئے بھی بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں۔ فرات ڈھال آپریشن کے ساتھ ترکی کی سرحد پر داعش  کی موجودگی کو ختم کرنے کے بعد شاخِ زیتون آپریشن کے ساتھ عفرین کے علاقے میں دہشت گرد تنظیم  YPG/PKK کی صفائی کی گئی۔ عراق میں پُرعزم آپریشن جاری ہے جس کا مقصد پی کے کے کی عراق سے ترکی  تک پہنچنے والی ترسیلی  لائن کو کاٹنا اور دہشت گردوں کے مرکز یعنی قندیل کے علاقے کو مکمل طور پر صاف کرنا ہے اور انتخابی نتائج کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان سب اقدامات کو بھی جاری رکھا جائے گا۔ ترکی کی دہشتگردی کے خلاف جدوجہد  کے حوالے سے اعلان کردہ ڈاکٹرائن کے دائرہ کار میں دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جدوجہد صرف ترکی کے اندر تک محدود نہیں رہے گی بلکہ سرحد پار موجود دہشتگردی کو بھی ختم کیا جائے گا۔ اس ڈاکٹرائن کے ساتھ کئے گئے  اور اس وقت زیر عمل 3 آپریشنوں کے ساتھ  ترکی کی سرحدوں کے اندر بھی دہشتگردی کی کاروائیاں بڑے پیمانے پر کم ہو گئی ہیں۔ ترکی  دہشت گردی کو اس کے گڑھ میں کمزور کر  کے  اس   کے مکمل خاتمے کا ہدف رکھتا ہے۔

دوسری طرف ترکی کے امریکہ کے ساتھ طے کردہ روڈ میپ کے دائرہ کار میں دہشت گرد تنظیم YPG منبچ کے علاقے کو ترک کرے گی اوردونوں نیٹو اتحادی مشترکہ شکل میں منبچ میں سکیورٹی اور سول انتظامیہ قائم کریں گے۔24 جون کے انتخابات سے قبل طے پانے والے اتفاق رائے کے ساتھ یہ روڈ میپ نافذ العمل ہو گیا ہے جو صدر رجب طیب ایردوان کے انتخابات کے پہلے راونڈ میں  ہی نئے نظام حکومت کا پہلا صدر منتخب ہونے سے بغیر کسی رکاوٹ و تعطل کے جاری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ترکی شام میں تناو کو کم کرکے امن کے لئے زمین ہموار کر رہا ہے اور کہا جا سکتا ہے کہ انتخابی نتائج کے بعد ترکی، روس اور ایران کی ضمانت میں جاری آستانہ   مذاکرات  بھی  معمول کے مطابق جاری رہیں گے۔ یعنی حاصل کلام یہ کہ ترکی میں انتخابات کے بعد غیر یقینی صورتحال کا پیدا نہ ہونا اور استحکام کا جاری رہنا ترکی کے ساتھ کئے جانے والے تمام سمجھوتوں کے لئے ایک مثبت پیش رفت ہے۔

 



متعللقہ خبریں