عالمی نقطہ نظر27

گمشدہ تہذیب کی تلاش میں سرگرداں "فواد سیزگین"

عالمی نقطہ نظر27

عالمی نقطہ نظر27

 

Küresel Perspektif  / 27

 Yitik Medeniyetin İzinde Bir Gezgin: Fuat Sezgin

Prof. Dr. Kudret BÜLBÜL

 

فواد سیزگین  ترک جدید سائنس کا ایک ایسا نام  تھا جس کی گرں قدر خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ فواد   سیزگین  کا انتقال گزشتہ ہفتے 94 سال کی عمر میں ہوا   جن       کی کامیابیوں کا سفر اور ان کے  مجموعات  آئندہ نسلوں کے  لیے مشعل راہ ہونگے۔

 فواد سیزگین  سن 1924   میں ضلع  بتلیس  میں پیدا ہوئے جنہوں نے اپنی بنیادی دینی تعلیم  اور عربی زبان   کا درس مقامی مفتی سے لیا ۔ سن 1943 میں  وہ   استنبول  یونیورسٹی کے شعبہ ادیبات سے  فارغ التحصیل ہوئے جہاں ان کی ملاقات ایک جرمن  ماہر  مشرقی علوم ہیلمٹ ریٹر سے ہوئی ۔

پروفیسر  سیزگین   اور متعدد اساتذہ  کو سن 1960  کے دوران فوجی  بغاوت کی مخالفت کے   نتیجے میں یونیورسٹی سے فارغ کر دیا گیا  کیونکہ  پروفیسر  کا قصور  یہ تھا کہ اُن کا بھائی ڈیموکریٹ پارٹی  کا ضلعی صدر تھا ۔ 36 سالہ پروفیسر  بے روزگار   ہو گئے  لیکن   انہوں نے ہمت نہیں ہاری  اور وہ  جرمنی  چلے گئے اور علم و حکمت   کی خدمت  میں مصروف ہو گئے لیکن تا  عمر ان فوجیوں  کے مشکور رہے جنہوں نے انہیں یونیورسٹی سے فارغ کروایا  جس کی بنا پر اُنہیں جرمنی   میں علم  و فراست  کا بہترین درس  نصیب ہوا ۔

 پروفیسر سیزگین    کی شہرت اب دنیا میں پھیل چکی تھی جنہیں امریکی اور جرمن  جامعات سے دعوتیں موصول ہو رہی  تھیں  جن کے جواب میں انہوں نے جرمنی کو ترجیح دی  تاکہ ترکی آنے جانے میں  آسانی رہے ۔

 جرمنی میں انہوں نے  اسلامی سائنسی  تاریخ  اور جدید  سائنسی شعبے میں  گراں قدر خدمات   سر انجام دیں ۔

 پروفیسر   صاحب کی زندگی پر اگر نگاہ ڈالی جائے  تو معلوم ہوتاہے کہ   وہ  ساری زندگی  سائنسی میدان کو سر کرنے کی جستجو میں مگن رہے ۔ اُن کی ساری زندگی کتب خانوں کی دوڑ میں کٹی اور وہ جدید سائنس      کے نت نئے تجربات  کرنے میں  اتنے مشغول رہتے تھے  کہ کھانے پینے تک کا ہوش نہیں رہتا تھا ۔

 پروفیسر سیزگین  جدید سائنس    کو معتبر سمجھتے تھے  مگر انہیں اس بات کا  افسوس تھا کہ  مسلم اُمہ جدید سائنس کی تعلیم میں کافی پسماندہ  رہی  اور جدید سائنس  کا پس منظر  قدیم یونان اور  اس کے بعد یورپی تجربات پر مبنی رہا ہے۔

 پروفیسر  صاحب      اپنے   سائنسی تجربات   میں مسلم عالمین   کی کاوشوں کو اہمیت دیتے رہے  علاوہ ازیں انہوں نے قدیم یونانی فلسفے اور سائنسی علوم  کو بھی اپنے تجربات  میں  جگہ دی ۔

 پروفیسر سیزگین نے یہ ثابت کر دکھایا  کہ  علوم اسلامی تاریخی شعبے میں    متعدد مغربی  سائنس دانوں کےلیے مشعل راہ  رہے  ہیں۔

 فواد سیزگین   ہلمٹ ریٹر کے کام  اور ان کے  نظم و  ضبط سے کافی متاثر رہے  حتی  ان کی بدولت  انہیں بعض ایسے مسلم سائنس دانوں کے نام معلوم ہوئے جن کے بارے میں ان کی واقفیت نہ ہونےکے برابر تھی ۔ پروفیسر سیزگین      ہر روز تقریباً 17 تا 18 گھنٹے تک   تحقیق و تصنیف  میں مصروف   رہتے تھے   اور تھکن کس چڑیا کا نام ہے انہیں معلوم نہ تھا ۔

 پروفیسر صاحب کی دیگر خاصیت  مغربی اور اسلامی سائنس میں تضاد کے بجائے مشترکہ خصوصیات تلاش کرنا تھا ۔ وہ ایک بااعتماد شخصیت کے مالک تھے ۔

  بلا شبہ  پروفیسر صاحب   کی سائنسی خدمات  اپنی مثال آپ ہیں  اس کے علاوہ   وہ  صرف ایک سائنس دان نہیں بلکہ  جرمنی میں قائم کردہ  عرب ۔اسلام سائنسی تاریخ  کی انسٹیٹیوٹ کے بانی بھی تھے حتی انہوں نے  بعد ازاں  فرینکفرٹ  اور استنبول میں  اسلامی سائنسی علوم   سے وابستہ دو تاریخی  عجائب خانے بھی قائم کیے  جس کےلیے  انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی صرف کر دی تھی ۔

 فواد سیزگین  کی زندگی میں جرمنی کا کافی عمل دخل رہا ۔ سن 1960 میں  یونورسٹی سے بے دخلی  اور بعد ازاں جرمنی  میں قدم رکھنا ان کی زندگی کے خوشگوار تجربات   میں شامل رہا ۔ جرمنی میں قیام نے  انہیں  ایک دوام بخشی  اور ان کی خود اعتمادی میں اضافے کا سبب بنا ۔ جرمنی میں قائم کردہ کتب خانے کی ترکی منتقلی کے فیصلے  کی بنا  پر انہیں جرمنی میں   مقدمے کا سامنا بھی کرنا پڑا  جس کی پاداش میں ان پر کتب خانے  میں آمد روک نے کا فیصلہ کیا گیا ۔

 زمانہ قریب تک  ترک اور  دیگر مسلم  دنیا  پروفیسر سیزگن کے کارناموں سےناآشنا تھی  کیونکہ    انہیں اس بات کا قطعی علم نہیں تھا کہ انہوں نے   صدیوں سے کیا کچھ کھویا ہواہے  مگر پروفیسر سیزگن نے   اپنی تصانیف  اور تجربات سے سائنس دانوں     کو ایک نئی راہ دکھانے  کی ضرور کوشش کی جس میں وہ کامیاب بھی رہے ۔

یہ جائزہ آپ کی خدمت میں   انقرہ کی  یلدرم بایزید  یونیورسٹی کے شعبہ سیاسی علوم کے  پروفیسر ڈاکٹر  قدرت بلبل کے قلم سے پیش کیا گیا ۔



متعللقہ خبریں