حالات کے آئینے میں ۔ 27

حالات کے آئینے میں ۔ 27

حالات کے آئینے میں ۔ 27

پروگرام " حالات کے آئینے میں " کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔ شام کے جنوبی علاقے درعا میں روس اور ایران کی حمایت کی حامل اسد انتظامیہ  کے حملے جاری ہیں۔ درعا شامی مخالفین کے قلعے اور انقلابِ شام  کے گڑھ کی حیثیت رکھتا ہے اور یہاں کئے جانے والے حملوں میں جہاں  انتظامی  فورسز کو بڑے پیمانے پر کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں وہاں علاقے کےعوام اردن کی سرحد کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور  ہو گئے ہیں۔ اردن کے اپنی سرحدی چوکیوں کو بند رکھنے کی وجہ سے اردن۔شام سرحد پر بڑے پیمانے پر انسانی المیے کا سامنا ہو رہا ہے۔ شامی فوجی مخالفین  کے انتظامیہ کے مقابل متحدہ کاروائیاں نہ کرنے اور بعض گروپوں کے روس کی ثالثی کے ساتھ انتظامیہ کے ساتھ سمجھوتے کرنے کے نتیجے میں متعدد شہر جنگ کئے بغیر ہی انتظامی فورسز کے زیر کنٹرول چلے گئے ہیں۔ جنوبی شام کے حالات کا ایک اور پہلو اسرائیل۔ایران تناو ہے۔ ایرانی حمایت کے حامل ملیشیاوں کا اسرائیل کی سرحد کے قریب جانا دونوں ملکوں کے درمیان تناو میں اضافہ کر سکتا ہے۔

سیاست، اقتصادیات اور معاشرتی تحقیقات کے وقف SETA کے مصنف و محقق جان آجُن کا موضوع سے متعلق تجزئیہ آپ کے پیش خدمت ہے۔

یہ خبر رائے عامہ کے ہاتھ لگ گئی تھی کہ اسد انتظامیہ ماہِ جون کے اوائل میں درعا کے لئے آپریشن کا آغاز کرے گی۔ اس  کے بعد انتظامیہ کی فوجی حوالے سے تیاریاں اور علاقے کی طرف کی گئی ترسیل و نقل حرکت اس آپریشن کی پیامبر  بنی۔ گذشتہ سالوں میں درعا کے علاقے میں انتظامیہ اور شامی مخالفین کے درمیان سنجیدہ سطح  کی جھڑپیں اور جنگیں نہیں ہوئی تھیں جس کی وجہ سے روس اور امریکہ نے علاقے کے بارے میں سمجھوتہ کر کے اسے کشیدگی کم کرنے کا علاقہ قرار دیا تھا۔ لیکن یہ پہلو بھی رائے عامہ تک پہنچ گیا تھا کہ انتظامیہ کے آپریشن کا آغاز کرنے  پر امریکی حکام شامی مخالفین  کا دفاع نہیں کریں گے اور سیاسی تحفظ سے بھی ہاتھ کھینچ لیں گے۔ تمام تر سمجھوتوں اور وعدوں کے باوجود امریکہ کے اردن  کے سفارت خانے سے شامی مخالف گروپوں  کے رہنماوں کو بھیجے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ امریکہ روس اور  انتظامی فورسز کے مقابل ان کا دفاع نہیں کرے گا۔ درعا پر روس اور انتظامی فورسز کے فضائی حملوں کے آغاز کے ساتھ ہی بیان جاری کیا گیا  کہ روس نے حمیمین بیس  سے درعا   کی کشیدگی کم کرنے کے علاقے  کی حیثیت ختم کر دی ہے۔

درعا کے علاقے میں ایک طویل عرصے سے نسبتاً امن و سکون میں ہونے کی وجہ سے علاقے کے عوام کا ایک بڑا حصہ اپنے گھروں میں رہائش پذیر تھا۔ لیکن روس، ایران اور اسد انتظامیہ کے درعا کے خلاف آپریشن شروع کرنے اور فضائی حملے کرنے سے علاقے سے بڑے پیمانے پر ہجرت شروع ہو گئی ہے۔ دو لاکھ 70 ہزار سے زائد افراد اپنے گھروں کو ترک کر چکے ہیں۔ اقوام متحدہ  کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق ہجرت کرنے والوں میں سے 40 ہزار شامیوں نے اردن کی سرحد سے  ملک میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ اردن نے 6 لاکھ 50 ہزار شامیوں کو پناہ دینے کے بعد نئے مہاجرین کے لئے سرحدی چوکیوں کو بند کرنے کی پالیسی نافذ کر دی۔ اردن اپنی سرحد کے دوسری طرف کے شامیوں کے لئے  خواہ کتنی  ہی انسانی امداد کی مہمیں چلائے انتظامی فورسز کی درعا میں پیش قدمی کی وجہ سے شہریوں کو ایک بڑے خطرے  کا سامنا ہے لہٰذا اقوام متحدہ نے اردن سے اپنی سرحدی چوکیوں کو کھولنے کی اپیل کی ہے۔

فوجی حوالے سے درعا کے علاقے میں روس، ایران اور اسد فورسز اور شامی مخالفین کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں۔ انتظامی فورسز کے نہایت سرعت سے لاجات کے علاقے کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد متعدد شامی مخالف گروپوں نے روس کی ثالثی میں انتظامیہ کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا۔ داعل، بصرہ الشام  اور ابتہ شہروں کے مخالفین  نے اسلحہ پھینک کر شہر کو انتظامی فورسز کے حوالے کر دیا۔ دوسری طرف روس کے بھاری فضائی تعاون اور امریکہ کی امداد بند ہونے کی وجہ سے انتظامی فورسز کے مقابل شامی مخالفین کی  مسلح مزاحمت  کمزور ہو  گئی ہے۔

جنوبی شام کے حالات سے متاثر ہونے والی دوسری حکومت اسرائیل ہے۔ یہ بات معلوم ہے کہ آپریشن سے قبل اسرائیل نے روس کے ساتھ مذاکرات کر کے ایران اور ایران کے حامی ملیشیاوں کے آپریشن میں شامل نہ ہونے کے بارے میں سمجھوتہ کیا ہے لیکن  فیلڈ کی صورتحال سے جو چیز دیکھنے میں آ رہی ہے وہ یہ کہ ایران اور ایران کے حامی ملیشیاوں نے آپریشن میں شرکت کی ہے۔ اسرائیل کا متعدد دفعہ ایرانی اور ایران کی حامی     فوجی ساختوں پر فضائی حملے کرنا اور ایران کے حامی ملیشیاوں کا اسرائیل کی سرحد کے قریب جانا دونوں ملکوں کے درمیان نئی کشیدگی کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔



متعللقہ خبریں