پاکستان ڈائری - 28

پاکستان ڈائری میں اس بار پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا کا خصوصی انٹرویو ڈاکٹر شہزاد بسرا شعبہ اگرانومی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے منسلک ہیں

پاکستان ڈائری - 28

پاکستان ڈائری - 28

پاکستان ڈائری میں اس بار پروفیسر ڈاکٹر شہزاد بسرا کا خصوصی انٹرویو ڈاکٹر شہزاد بسرا شعبہ اگرانومی زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے منسلک ہیں۔ بائیس سال سے وہ پاکستان میں متبادل فصلوں پر کام کررہے ہیں انہوں نے پاکستان میں قینوا اور مورنگا پر کام شروع کیا اور اس وقت پاکستان مورنگا اور قینوا کو ایکسپورٹ کررہا ہے۔پانی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شہزاد بسرا کہتے ہیں کہ پانی تو اب بھی موجود ہے لیکن ہمارے ملک کی آبادی بہت بڑھ گئ ہے جو پہلے ایک لیٹر ایک شخص کے لئے تھا اب وہ ہی ایک لیٹر 4 سے 5 اشخاص کے لئے ہے۔اس ہی طرح پہلے سال کی ایک فصل ہوتی تھی اب تین تین ہوتی ہیں تو کھیتوں میں بھئ پانی زیادہ استعمال ہورہا ہے۔شہروں میں پانی کا استعمال اور ضیاع زیادہ ہے جبکے پانی کے ذخیرے کے لئے ہمارے ملک میں بڑے ڈیم نہیں بنائے گئے۔چائنہ اور انڈیا نے سینکڑوں ڈیم بنا لئے اور ہم نے صرف دو بڑے ڈیم تعمیر کئے ۔ایک تحقیق کے مطابق ہم ہر سال 40 فیصد قابل استعمال پانی سمندر میں پھینک دیتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس ڈیم نہیں ۔دوسرا بارش کے پانی کو محفوظ کرنا وہ بھی ہمارے ہاں نہیں ہوتا اگر ہم اس پانی کو گھر دفاتر یا تعلیمی اداروں میں محفوظ کرلیں تو آگے کے دونوں میں اس سے اشجار کو پانی دیا جاسکتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ واٹر بجٹ مختص ہونا چاہیے ۔کھیتوں میں بھی پانی بھر نہیں دینا چاہیے بلکے فصل کی ضرورت کے اعتبار سے پانی دینا چاہئےجاپان میں واش بیسن کو کمورڈ کے ساتھ لنک کردیا گیا جو پانی ہاتھ منہ دھونے میں استعمال ہو وہ ٹوائلیٹ میں فلش کرتے وقت یوز کیا جائے۔۔وہ کہتے ہیں کہ جرمنی کے سفیر مارٹن کوبلر نے ہم سب کو بہت اچھا پیغام دیا کہ ایک بالٹی کے ساتھ بھی گاڑی دھل سکتی ہے اس لئے واٹر مینجمنٹ ہم سب کو کرنا ہوگی۔

ڈاکٹر شہزاد بسرا کہتے ہیں کہ آئندہ چل کر پانی کی شدید کمی ہوجائے گی اور پانی کے استعمال کے مطابق ہم دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہیں جو پانی استعمال کرتے ہیں ۔آئندہ جنگیں شاید پانی پر ہو اس لئے پانی کو محفوظ کرنا بہت ضروری ہے

ڈاکٹر شہزاد بسرا کہتے کہ پاکستان میں خوراک کی بالکل کمی نہیں ہے بلکے یہاں فصلیں رل رہی ہیں ۔ہمارے پاس گندم چاول چینی اس وقت سرپلس پڑا ہے۔فروٹ ہمارا کثرت سے موجود ہے لیکن ہماری کچھ پالیسیاں درست نہیں ۔جیسے سیڈ آئل کی ہم کاشت کم کرتے ہیں اس ہی طرح دالیں جس کی وجہ سے ہمیں آئل اور دالیں امپورٹ کرنا پڑ رہا ہے ۔پلاننگ تقسیم اور ذخائر مناسب طور پر نہیں ہوتا لیکن خوارک سرپلس میں ہے۔

سٹوریج اور پوسٹ ہارویسٹ اگر بہتر طریقے سے کرلی جائے تو بے شمار خوارک دنیا کو ایکسپورٹ کرسکتے ہیں ۔ہمارے ہاں دودھ کھجور انگور وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں خوارک ضائع ہوجاتی ہے کیونکہ پلاننگ کا فقدان ہے۔ 

ڈاکٹر شہزاد بسرا کہتے کہ ہمارے ہاں فصلوں پھلوں پر ضرورت سے زیادہ سپرے کیا جارہا ہے۔یہ اسپرے مضر صحت ہے اور عوام اس لئےبیمار ہورہے ہیں ۔اس حوالے سے قوانین بنائیں کہ کون سا اسپرے کرنا ہے اور کتنی تعداد میں کرنا ہے دوسرا مارکیٹ میں پھل سبزی جانے سے پہلے اسپرے نہیں کرنا۔فصل کاشت ہونے کے بعد پھل درختوں سے اتار لینے کے بعد بھی انہیں کیڑے مار ادویات لگائی جاتی ہیں جوکہ مارکیٹ میں اس ہی طرح آجاتی ہیں ۔وہ کہتے ہیں پاکستان میں اکثر ارگنک مارکیٹ کے نام پر صارفین کو دھوکہ دیا جاتا ہے وہ ہی بازار والی سبزی انہیں مہنگے داموں فروخت کردی جاتی ہے ۔اس لئے ہم کچن گارڈنگ کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ کچھ حد تک صاف کیمیکل سے پاک سبزیاں مل سکیں ۔وہ کہتے ہیں سردیوں کی فصلوں پر کم سپرے ہوتا ہے اور گرمیوں میں کیڑے کا حملہ ذیادہ ہوتا ہے تو اسپرے زیادہ ہوتا ہے اس زمیندار مجبور ہوکر یہ کرتے ہیں لیکن بہت سے مضر صحت ادوایات پر پابندی ہونی چاہیے ۔اب سوشل میڈیا نے بہت آگاہی عام کردی ہے ۔دو سال پہلے کی بات ہے کہ میں اور ایگری ٹورازم کے طارق تنویر پلان کررہے تھے کہ 18 اگست نیشنل ٹری پلانٹیشن کے حوالے سے تو ہم نے کہا کیوں نا چودہ اگست کو ہی شجرکاری کی جائے کیوں نا جھنڈیوں کے بجائے پودے لگائیں جائیں ۔اب تو یہ نعرہ بہت عام ہوگیا۔پودے لگانے سے آلودگی کم ہوگی اور ایکو سسٹم ٹھیک رہے گا۔وہ کہتے ہیں شجرکاری کو نصاب میں پڑھنا چاہیے بچوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اشجار کی کیا اہمیت ہے اور پودے کس طرح لگائیں جائیں ۔شجرکاری بچوں کے ساتھ کریں ۔ڈاکٹر شہزاد بسرا کہتے ہیں کہ درخت علاقہ جگہ اور پانی کی دستیابی دیکھ کر منتخب کریں ۔وہ کہتے ہیں سفیدہ بھی بہت کار آمد درخت ہے جہاں کلر سیم ہے وہاں اسکو لگائیں ۔یہ زیر زمین پانی چوس لے گا۔جہاں پانی کی شدید کمی وہاں کانوکارپس لگائیں یہ بہت کم پانی استعمال کرتا ہے۔ ہر جگہ پر متفرق درخت ہونا چاہیے یہ نا ہو ایک ہی طرح کے درخت لگا دئے جائیں مونوکلچر نہیں ہونا چاہیے ۔ڈاکٹر شہزاد کہتے ہیں کہ ارجن سہانجنا کچنار املتاس فراش نیم ہر جگہ لگ سکتے ہیں ۔کچھ درخت سردی تو کچھ گرمی نہیں برداشت کرسکتے ہیں تو علاقے میں اسکی مناسبت سے درخت لگائیں ۔آجکل دو درختوں سفیدہ اور کونوکارپس کے بارے میں نفرت آمیز مہم چل رہی ہے۔

یہ بہت مفید پودے ہیں تاہم پودوں کو مکس کرکے لگائیں ۔جہاں پر زیر زمین پانی کم ہے وہاں سفیدا نا لگائیں ۔وہ کہتے ہیں ہر پودا کیمیکل فضاء میں چھوڑتا ہے اس لئے متفرق درخت لگائے جائیں ۔وہ کہتے ہیں کونوکارپس بھی آکسیجن بناتا ہے نا ہی یہ اسکن الرجی نہیں کرتا۔جو پہلے سو پودے الرجی کاز کرتے ہیں ان میں کونوکارپس کا نام نہیں ہے۔وہ کہتے ہیں سکھ چین کچنار ارجن بکائن کیکر پھلائئ ٹالی جامن امرود لوکاٹ سہانجنا برفانی علاقوں کے علاوہ پورے پاکستان میں لگایا جاسکتا ہے ۔جولائی کے آخر سے اگست کے شروع تک درخت لگانے کا موزوں وقت ہے۔سہانجنا جب سے مورنگا بنا ہمیں اس کی قدر آگئ نیم ایلویرا اور مورنگا ہمارے لوکل ہیں اس کا استعمال مفید ہے۔ہمیں چاہیے خوارک کے بھئ مکمل پورشن لیں تازہ سلاد اور تازہ پھل کھائیں ۔ہمیں قدرتی خوارک لینی چاہیے جس میں مورنگا سہانجنا سرفہرست فوڈ سپملیمنٹ ہے۔ڈاکٹر شہزاد کہتے ہیں مورنگا کا ہر حصہ کھانے کے قابل ہے۔اس کا ڈرائی پاوڈر زیادہ یوز ہوتا ہے ۔مورنگا کو سردی کے علاوہ سارا سال اگایا جاسکتا ہے ۔آپ اسکو فروری سے ستمبر تک لگا سکتے ہیں ۔بازار سے اسکے بیج لیں یا پودوں کی نرسری ۔جب نرسری دو تین فٹ کی ہوجائے تو اسکو زمین میں لگا دیں سال میں پندرہ سولہ فٹ کا درخت بن جاتا ہے۔جب بہار میں اس پر پھلیاں لگتی ہیں تو اس کو بہت زیادہ کاٹ دیا جاتا ہے۔مورنگا کے تازہ پتے سارا سال استعمال ہوجاتے ہیں ۔خشک موسم میں ان کو ڈرائی کرے برسات میں سردئ میں ان کو ڈرائی نا کریں پتوں پر فنگس آجائے گئ۔



متعللقہ خبریں